خبریں/تبصرے

خوراک و تیل کا درآمدی بل 73 فیصد اضافے کے ساتھ 15 ارب ڈالر سے تجاوز کر گیا

لاہور (جدوجہد رپورٹ) پاکستان کا تیل اور خوراک کا درآمدی بل جولائی تا دسمبر کے دوران 73 فیصد اضافے کے بعد 15 ارب ڈالر سے تجاوز کر گیا ہے، یہ درآمدی بل ایک سال قبل 8 ارب 67 کروڑ ڈالر کے قریب تھا۔

’ڈان‘ کی رپورٹ کے مطابق درآمدی بل میں اضافے کی ایک وجہ عالمی سطح پر قیمتوں میں اضافے اور روپے کی قدر میں بہت زیادہ گراوٹ ہے۔

شماریات بیورو کے اعداد و شمار کے مطابق تیل اور خوراک کے درآمدی بل میں مسلسل اضافے نے تجارتی خسارے کو بڑھایا ہے اور ملک میں غذائی تحفظ سے متعلق خدشات کو جنم دیا ہے۔

مجموعی درآمدی بل جو ایک سال قبل 24 ارب 45 کروڑ ڈالر تھا، جولائی سے دسمبر کے دوران 66 فیصد اضافے کے بعد 40 ارب 65 کروڑ ڈالر ہو گیا ہے۔

طبی اشیا کی درآمد میں سالانہ بنیاد پر 475 فیصد اضافہ ہوا، گزشتہ سال 53 کروڑ 89 لاکھ ڈالر کی بجائے رواں سال 3 ارب 9 کروڑ ڈالر کی طبی اشیا درآمد کی گئی ہیں۔ یہ کسی بھی درآمدی شعبے میں بہت بڑا اضافہ ہے، جس کی بڑی وجہ کورونا ویکسین کی درآمد ہے۔

اعداد و شمار کے مطابق 6 ماہ کے دوران تیل کی درآمد کا بل 4 ارب 77 کروڑ ڈالر سے 113 فیصد اضافے کے ساتھ 10 ارب 18 کروڑ ڈالر ہو گیا ہے، جس کے نتیجے میں صارفین کیلئے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں بھی نمایاں اضافہ ہوا ہے۔

پٹرولیم قیمتوں میں 113 فیصد اور مقدار میں 29 فیصد اضافہ ہوا اور تیل کی قیمت میں 82 فیصد اضافہ ہوا، اس کی مقدار میں صفر اعشاریہ 69 فیصد کمی ہوئی، جبکہ ایل این جی کی قیمت میں 128 فیصد اضافہ ہوا، ایل پی جی درآمد کی قدر میں 39فیصد اضافہ ہوا۔

خوراک کی کمی کو پورا کرنے کیلئے گزشتہ سال کے مقابلے میں خوراک کا درآمدی بل 23 فیصد اضافے کے بعد گزشتہ 6 ماہ کے دوران 3 ارب 90 کروڑ ڈالر سے بڑھ کر 4 ارب 79 کروڑ ڈالر ہو گیا ہے۔

پاکستان جیسے زرعی ملک نے گزشتہ مالی سال کے دوران کھانے پینے کی اشیا کی درآمد پر 8 ارب ڈالر سے زیادہ خرچ کئے ہیں۔ خوراک کی درآمد میں آنے والے عرصہ میں مزید اضافہ کے امکان ہے، کیونکہ حکومت نے 6 لاکھ ٹن چینی اور 40 لاکھ ٹن گندم درآمد کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

خوراک کی درآمد میں گندم، چینی، خوردنی تیل، مصالحے، چائے اور دالیں شامل ہیں، خوردنی تیل کی درآمد کی مقدار اور قیمت دونوں میں اضافہ ہوا ہے۔ 6 ماہ کے دوران عالمی سطح پر قیمتیں بڑھنے سے پام آئل کی درآمد 65 فیصد اضافے کے بعد ایک ارب 84 کروڑ ڈالر کی ہو گئی، گزشتہ سال یہ درآمد ایک ارب 11 کروڑ ڈالر تک رہی تھی۔

تاہم گندم کی درآمد میں 29 فیصد کمی ہوئی اور یہ 10 لاکھ 36 ہزار ٹن رہی، جو گزشتہ سال 20 لاکھ 48 ہزار ٹن تھی، دسمبر میں گندم کی درآمد میں 15 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔

چینی کی درآمد میں 49 فیصد اضافہ ہوا، مشینری کا درآمدی بل 39 فیصد اضافے کے بعد 4 ارب 24 کروڑ ڈالر سے بڑھ کر 5 ارب 92 کروڑ ڈالر ہو گیا۔ الیکٹریکل مشینری اور آلات کی درآمد 6 ماہ کے دوران 75 فیصد اضافے کے بعد 1 ارب 5 کروڑ ڈالر تک پہنچ گئی، ایک سال قبل 64 کروڑ ڈالر تھی، موبائل فون کی درآمد میں 16 فیصد اضافہ ہوا، جبکہ موبائل فون کے آلات کی درآمد میں 54 فیصد اضافہ ہوا ہے۔

گاڑیوں کی درآمد میں 105 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جو گزشتہ سال جولائی تا دسمبر کے دوران کے ایک ارب 13 کروڑ ڈالر سے بڑھ کر 2 ارب 32 کروڑ ڈالر تک پہنچ گئی ہے۔