پاکستان

حکمرانوں کی سیاسی قلابازیاں: عام عوام کیلئے کسی کے پاس کچھ نہیں!

فاروق طارق

انتہائی دلچسپ سیاسی صورتحال بن رہی ہے۔ جوں جوں تحریک عدم اعتماد پر ووٹنگ کا وقت آ رہا ہے، توں توں حکمران طبقات کی سیاسی قلابازیوں میں تیزی آ رہی ہے۔ پرانے رشتے ٹوٹ رہے ہیں اور نئے بن رہے ہیں۔ پرانے سیاسی الائنس بھی ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہیں۔

عمران خان کی ساری اصولی سیاست کوڑے کرکٹ کے ڈھیر میں پڑی ہے۔ وسیم اکرم پلس مائنس ہو گیا۔ عمران خان کے بقول پنجاب کا سب سے بڑا ”ڈاکو“ اب اس کا نامزد وزیر اعلیٰ پنجاب بن چکا ہے۔

اپوزیشن کو جب یہ یقین ہو رہا ہے کہ ان کی تحریک عدم اعتماد کامیاب ہو گی، تو عمران خان بارے انکے لب و لہجہ میں تلخی بڑھتی جا رہی ہے۔ وہ بھی عمران خان کی طرح ”چھوڑوں گا نہیں“، ”تمہاری منزل جیل“ جیسی دھمکیوں سے کام لے رہے ہیں۔

عمران خان نے مانسہرہ میں کہا ”مجھے اپنی حکومت کی پرفارمنس پر فخر ہے۔“ یہ بات صرف اس جیسا ڈھیٹ شخص ہی کہہ سکتا ہے۔ مہنگائی جتنی بڑھی ہے اس پر عوام توہائے ہائے کرنے پر مجبور ہے، گھی اور تیل تقریباً 500 روپے فی لیٹر ہے۔ مہنگائی عدم اعتماد کے منظور یا ناکام ہونے کا انتظار نہیں کر رہی۔

جب عمران خان کو جانا نظر آ رہا ہے تو اقتدار سے چمٹے رہنے کیلئے ہر حربہ استعمال کر رہا ہے۔ اسکی پارٹی کا جو ممبر اسے ووٹ نہیں دے گا، اسے عوامی غیض و غضب اور قانونی کاروائیوں سے ڈرانے، دھمکانے کا سلسلہ جاری ہے۔ عمران خان کے وزیر تقریباً پاگل پن کی حد تک گالیاں نکال رہے ہیں، سندھ ہاؤس کو طواف خانہ تک کہ رہے ہیں۔ اسٹیبلشمنٹ کی مدد سے اقتدار میں آنے والا یہ نالائق ترین سیاسی گروہ اب یہ حمایت ختم ہونے پر انتہائی بوکھلاہٹ کا شکار ہے۔

ان کا اصل مقابلہ مہنگائی سے تھا، جس کا ذکر اس وقت اپوزیشن بھی نہیں کر رہی، کیونکہ وہ ابھی انہی معاشی پالیسیوں کو تھوڑا بہت آگے پیچھے کر کے لائیں گے، جو عمران خان حکومت لاگو کر رہی تھی۔ عوام کو ایک دوسرے کے خلاف دھمکیاں دینے کے لئے استعمال کیا جا رہا ہے۔ یہ نہیں کہا جا رہا کہ اپوزیشن اقتدار میں آ کر مہنگائی کو ختم کرنے کے لئے تنخواہوں میں فوری اضافہ کرے گی یا دیگر کس طرح کے ضروری اقدامات کئے جائیں گے۔

عمران خان کی جانب سے 20 لاکھ لوگوں کو اکٹھا کر کے پریشر بڑھانے کی ترکیب ناکام ہونے پر وہ اور زیادہ غلط سیاسی حکمت عملی سے کام لے رہے ہیں۔ پنجاب کے وزیر اعلیٰ کی تبدیلی کا اعلان اس کی سیاسی بوکھلاہٹ کا سب سے بڑا اظہار ہے۔ اس نے پارٹی کے اندر مزید انتشار کو جنم دینے کی سیاسی بنیادیں رکھ دی ہیں۔ علیم خان گروپ اب مزید تیزی سے اپنے پتے کھیلے گا، ترین گروپ اور علیم گروپ مل کر عمران کی سیاسی کایا پلٹ سکتے ہیں۔

وفاقی سطح پر بلوچستان کی تقریباً تمام سیاسی جماعتوں نے عمران خان سے لا تعلقی کا اعلان کر دیا ہے۔ بلوچستان عوامی پارٹی نے بھی عمران خان حکومت سے علیحدگی کا اعلان کر دیا ہے، یہ ایک حیران کن فیصلہ تھا۔

جب معاشی بحران تیز ہوتا ہے تو حکمران طبقہ میں انتشار اور تقسیم بڑھ جاتی ہے۔ ان سے سیاسی غلطیاں ہوتی ہیں، ایک دوسرے پر الزام تراشیاں تیز ہو جاتی ہیں اور پرانے تعلقات ٹوٹتے اور نئے بنتے جاتے ہیں۔ اس کا واضح اظہار موجودہ سیاسی صورتحال میں نظر آتا ہے۔ عمران خان نے مذہب کا جو استعمال کرنا چاہا وہ بھی اس کے کام نہیں آ سکا۔

جوں جوں عمران خان مذہبی پوزیشنیں اختیار کرتا جاتا ہے، اس کا فائدہ مذہبی انتہا پسند جماعتوں کو ہی پہنچتا جائے گا۔ مدینہ ریاست اور امر بالمعروف کی مذہبی نعرہ بازی مہنگائی کے بڑھتے طوفان کی زد میں آ کر اپنا اثر و رسوخ کھو بیٹھی ہے۔

عمران خان کا جانا ٹھہر گیا ہے، اس کی وجہ اس کی معاشی پالیسیوں کی شدید عدم مقبولیت اور اس کی انتہائی بری گورننس ہے۔ یہ ایک انتہائی نالائق حکومت ثابت ہوئی ہے۔ جس نے بلا چوں چرا ں آئی ایم ایف کے آگے گھٹنے ٹیکے، ان کی تمام شرائط مان لیں۔ مہنگائی کے باعث عوامی ردعمل پر واپسی کا سفر انہیں مزید مہنگا پڑ رہا ہے۔ ابھی بھی آئی ایم ایف ان پر ناراض ہے کہ عمران خان نے وعدہ کے باوجود عوام کے لئے کچھ ریلیف کا اعلان کیوں کیا ہے؟ یوں نہ تو لوگ خوش ہوئے اور نہ ہی آئی ایم ایف خوش ہو سکا۔ یہ صورتحال مسلسل اس حکومت کا وطیرہ رہی ہے کہ کہتے کچھ ہیں،پھر کرتے کچھ ہیں۔ عمران خان کہتا ہے کہ وہ اب دوبارہ مقبول ہو گیا ہے، اس سے زیادہ احمقوں کی جنت میں کوئی نہیں رہ سکتا۔

اب سامراجی گماشتگی کا ریکارڈ قائم کرنے والی حکومت یک دم یو ٹرن لے کر سامراج مخالف بننے کی دعویداری میں اپنی بچت سمجھتی ہے۔ یہ مسلسل موقع پرستی سے کام لیتی رہی، اسی لئے اصولوں پر سمجھوتوں کو یو ٹرن قرار دے کر اسے اچھا کہتی رہی۔ عمران خان کے تقریباً ہر غیر اصولی ٹرن پر اس کی اپنی ماضی میں کی گئی تقریریں ہی اس کا پیچھا نہیں چھوڑ رہیں۔

عمران خان حکومت لگتا ہے چند دن کی مہمان ہے، مگر جو ان کی جگہ لیں گے وہ بھی کوئی دودھ کے دھلے نہیں ہیں۔ ان کی معاشی پالیسیوں اور عمران خان کی پالیسیوں میں کوئی زیادہ فرق نہیں ہے۔

ہم عمران خان حکومت کے فوری خاتمے کے حق میں ہیں، مگر ہم اپوزیشن جماعتوں کے سیاسی پروگرام کو بھی عوام مخالف سمجھتے ہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ایک آزادانہ انقلابی بائیں بازو کی سوچ کو عوامی سطح پر تعمیر کرنے کے سلسلہ کو تیز کیا جائے اور ان سرمایہ دارانہ سیاسی جماعتوں کے مقابلہ میں اپنا انقلابی بیانیہ مقبول کیا جائے۔

لاہور میں 27 مارچ کو حقوق خلق موومنٹ کا پہلا بڑا جلسہ اسی سلسلہ کی ایک کڑی تھا۔

فارق طارق روزنامہ جدوجہد کی مجلس ادارت کے رکن ہیں۔ وہ پاکستان کسان رابطہ کمیٹی کے جنرل سیکرٹری ہیں اور طویل عرصے سے بائیں بازو کی سیاست میں سرگرمِ عمل ہیں۔