پاکستان

اگر عمران خان اینٹی امریکہ ہوتا؟

فاروق طارق

اقتدار سے علیحدہ کئے جانے کے ایک روز بعد عمران خان نے اسمبلی سے استعفوں اور ”جدوجہد آزادی“ کے نام سے عوامی تحریک کا اعلان کیا ہے۔ عمران خان پوری کوشش کر رہا ہے کہ وہ پاکستان کی ”سامراجی چنگل“ سے آزادی کا رہنما بن کر ایک دفعہ پھر کسی طور مقبول ہو جائے۔

جو کچھ کل ہوا وہ بھی پاکستانی سیاسی تاریخ میں دیر تک یاد رکھا جائے گا۔ عمران خان کی حکمت عملی ملک میں مارشل لا لگانے کے اسباب پیدا کرنا تھی۔ وہ آخری وقت تک اس کوشش میں تھا کہ کسی طور اس کے اپنے وفادار فوجی جرنیل اقتدار میں آ جائیں۔ اس نے آرمی چیف کو برطرف کرنے کی ناکام کوشش بھی کی۔ بالاخر اپنے سپیکر کی قربانی دے کر خود بھی اقتدار سے علیحدہ ہونے پر مجبور ہوا۔

اسلام آباد ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ کا رات گئے اپنی عدالتیں کھولنے کا اعلان فیصلہ کن عنصر ثابت ہوا اور عمران خان کی گھر واپسی کا راستہ بغیر ہلچل کے کھل گیا۔ عمران کے ”سپاہی“ اس سے وفاداری کے اظہار کے لئے عدم اعتماد کی تحریک پر ووٹنگ نہ کروانے کیلئے پوری طرح تیار تھے، لیکن جب یہ بات واضع ہو گی کہ واقعی گرفتار ہو جائیں گے اور جیل جائیں گے،تو پھر استعفیٰ دے کر ن لیگ کو کھلا راستہ دے گئے۔

کیا عمران خان کے خلاف واقعی ایک عالمی سازش ہوئی جس کی وجہ سے ”رجیم چینج“ پلان ہوا؟ یہ بات آنے والے دنوں میں کھل کر سامنے آ جائے گی۔ خط بھی سامنے آئے گا اور یہ بھی معلوم ہو جائے گا کہ اس خط میں کوئی تبدیلیاں تو نہیں کی گئیں۔

عمران خان کا دعویٰ ہے کہ اس نے یوکرین کے ایشو پر چونکہ کسی کا ساتھ نہیں دیا اس لئے امریکہ اسے ہٹانا چاہتا ہے۔ اس نے یہ بات زیادہ کھل کر اس وقت کی جب اس کے خلاف عدم اعتماد کے منظور ہونے کا حقیقی خطرہ محسوس ہوا اور اس کی پارٹی میں بغاوت ہو گئی۔ یہ اس کے لئے پراپیگنڈہ کا اہم نکتہ تھا، اس سے وہ عوام میں حب الوطنی کے جذبات ابھار سکتا ہے۔ بھارت مخالف جذبات ابھارنے کی بجائے اس دفعہ حکمران طبقہ کے اس ’لمپن‘ نمائندہ نے اینٹی امریکہ ہونا اس لئے بہتر سمجھا کہ عوام میں عمومی طور پر اینٹی مغرب اور اینٹی امریکہ جذبات بدرجہ اُتم موجود ہیں۔

وہ یہ کام منافقانہ اور موقع پرستانہ بنیادوں پر کر رہاتھا۔ اینٹی امریکہ صرف امریکہ مخالف نعرے لگانے کا ہی نام نہیں بلکہ دیکھنا یہ ہے کہ کیا واقعی آپ نے امریکہ مخالف کوئی اقدامات کئے ہیں؟

عمران خان اگر اینٹی امریکہ ہوتا تو امریکہ کی کرنسی ڈالر کو لگام دیتا۔ وہ تو اس کے آخری دنوں میں، جب وہ جعلی نعرے بازی کر رہا تھا، ایک نئی اڑان پکڑ گیا تھا۔ عمران خان اگر اینٹی امریکہ ہوتا تو وہ امریکی اداروں اور اس کے سفارت کاروں کو ملک سے نکال چکا ہوتا۔ آئی ایم ایف کو قرضہ جات دینے سے انکاری ہو گیا ہوتا، یا کم از کم اس نے اپنے دور میں سٹیٹ بینک کو سامراجی اداروں کے آگے گروی نہ رکھا ہوتا۔

”جدوجہد“ کے ایڈیٹر فاروق سلہریا بہت پہلے سامراج مخالفت کے خدوخال کے بارے میں لکھ چکے ہیں کہ ”سامراج مخالفت کا مطلب قومی آزادی، عورتوں کی آزادی، جمہوریت، سیاسی و سماجی امپاورمنٹ، مذہبی اقلیتوں کا تحفظ، مظلوم قومیتوں کے لئے حق خود ارادیت ہوتا ہے۔ سامراج مخالفت کا مطلب ہر طرح کے جبر سے محکوم لوگوں کی نجات و آزادی ہے، سامراج مخالفت کے معنی حریت اور آزادی ہیں۔ آپ بیک وقت آزادی پسند اور ظالم نہیں ہو سکتے۔ ایک ایسی سامراج مخالفت جو تیل کو نیشنلائز کرنے کی بات نہ کرسکے، زرعی اصلاحات متعارف نہ کرواسکے، یا مزدوروں کو ٹریڈ یونین نہ بنانے دے…ایسی سامراج مخالفت سے سامراج کو کوئی پریشانی نہیں۔“

عمران خان کی جانب سے، سوائے موقع پرستانہ نعرے بازی کے، سامراج مخالفت کے کوئی اقدام نظر نہیں آتے۔ عمران خان کا جانا خوشی کی بات لیکن جو اقتدار میں آئے اس کی جگہ ان کی حمایت نہیں کی جا سکتی۔

حکمران ٹولے کا یہ گروہ ماضی میں نجکاری کا بانی رہا ہے ار نیو لبرل پالیسیوں کو نافذ کرتا رہاہے۔ اس سے کوئی ریڈیکل اقدامات کی نہ امید ہے اورنہ خوش فہمی ہونی چاہیے۔ تاہم عمران خان نے جو آمرانہ اقدامات اپنی اپوزیشن کو خاموش کرانے، میڈیا کی زبان بند کرنے، مخالفین کو جیلوں میں بند کرنے اور سب سے بڑھ کر جو انتہائی عوام مخالف معاشی اقدامات کئے، ان کی وجہ سے اس کو جس قدر جلدی فارغ کیا جاتا اچھا تھا۔

عمران پچھلے عرصہ میں مزید مذہبی ہو چکا تھا، جادو ٹونے پر یقین کر رہا تھا، طالبان کی حمایت کر رہا تھا اوروہ تاریخی مہنگائی کا موجد تھا۔ وہ اس کوشش میں تھا کہ پاکستان کے مذہبی گروہوں کی حمایت کو بھی اپنی گرہ میں ڈال لے۔ آپ جس قدر رائٹ ونگ پالیسیاں اختیار کریں گے، اس قدر ہی مذہبی انتہا پسند تنظیمیں مضبوط ہوں گی۔

حقیقت یہ ہے کہ عمران کو اقتدار اب اپنی جان سے بھی زیادہ پیارا تھا۔ وہ اس سے چمٹے رہنے کے ہزار جتن کرتا رہا، مگر جو اس کو 2018ء میں لائے تھے، انہیں اپنی اس چوائس پر انتہائی افسوس تھا۔ شیخ رشید کے تمام تر جھوٹے دعوؤں کے باوجود وہ اب اسکے ساتھ ایک صفحہ پر نہ تھے۔ انہوں نے بھی اس کو اتارنے میں ایک کردار ادا کیا۔ تاہم ان کا اس کو سپورٹ نہ کرنا ہی اس کو اتارنے کے لئے کافی ثابت ہوا۔

نئی حکومت کیا کر سکے گی اس پر تفصیلی گفتگو اگلے مضمون میں کریں گے، مگر یہ واضح ہے کہ عمران کا ’اینٹی امریکہ‘بیانیہ زیادہ دیر نہ چلے گا۔

فارق طارق روزنامہ جدوجہد کی مجلس ادارت کے رکن ہیں۔ وہ پاکستان کسان رابطہ کمیٹی کے جنرل سیکرٹری ہیں اور طویل عرصے سے بائیں بازو کی سیاست میں سرگرمِ عمل ہیں۔