پاکستان

پاکستان کسان رابطہ کمیٹی کا تعارف اور جدوجہد

ناصر اقبال

17 اپریل 1996ء کے دن برازیل کے صوبے ’پارا‘ میں بے زمین کسانوں کے ایک پر امن احتجاجی جلوس پر ملٹری پولیس کی فائرنگ سے 19 کسان شہید اور سینکڑوں زخمی ہوئے۔ کسانوں کے حقوق کے لیے کسانوں کی اس لازوال جدوجہد اور قربانی کو خراج تحسین پیش کرنے کے لیے اس دن کو کسانوں کے عالمی دن کے طور پر دنیا بھر میں منایا جاتا ہے۔ پاکستان میں پاکستان کسان رابطہ کمیٹی 2009ء سے ابتک باقاعدگی سے اس دن کو منانے کا اہتمام کرتی ہے۔ اس سال اس دن کو منانے کے لیے رابطہ کمیٹی نے جڑانوالہ کی کسان تحریک سے اظہار یکجہتی کے لیے جڑانوالہ کا انتخاب کیا۔

ستمبر 2020ء کو چک نمبر 121 (گ ب) جڑانوالہ میں مقامی اور صوبائی حکومت نے پولیس کی مدد سے تقریباً 104 مربع زرعی زمین ”واگزار“ کروانے کے لیے ایک اندھا دھند آپریشن کا آغاز کر دیا۔ پولیس نے کروڑوں کی مالیت کی کھڑی فصلوں کو تباہ کر دیا۔ مقامی کسان خواتین و حضرات کی مزاحمت کے نتیجے میں درجنوں افراد شدید زخمی ہوئے مگر انتظامیہ کو پسپا ہونا پڑا۔ اس علاقہ میں 70 کے قریب چھوٹے گاؤں ہیں اور تمام کسان بہت ہی چھوٹے پیمانے کے کاشتکار ہیں اور پیڑھی در پیڑھی صدیوں سے آباد ہیں۔ پاکستان کے پیچیدہ لینڈ اور ریونیو سسٹم کے سبب حکومت نے انہیں غیر قانونی قابض گردانتے ہوئے انہیں جبری طور پر بیدخل کرنے کی کوشش کی۔

موقع کی مناسبت سے پاکستان کسان رابطہ کمیٹی (جڑانوالہ) کے زیر اہتمام ایک تقریب پذیرائی زیر صدارت ر ائے محمد قذافی خاں کھرل (ایڈووکیٹ (کا انعقاد کیا گیا۔ پاکستان کسان رابطہ کمیٹی کے مرکزی کوآرڈی نیٹر و بانی فاروق طارق تقریب میں شرکت کے لیے خاص طور پر لاہور سے تشریف لائے۔ مقامی اور مرکزی کسان قیادت کے علاوہ بڑی تعداد میں کارکنان نے شرکت کی۔ کمیٹی کے مقامی رہنما رائے محمد فضل رسول رضوی نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے حکومت سے مطالبہ کیا کہ کسانوں کو منڈی کے رحم وکرم پر نہ چھوڑا جائے بلکہ ا جناس کی قیمتوں کے تعین کا حق کسانوں کو دیا جائے۔

فاروق طارق نے اپنے خطاب میں کسانوں کے عالمی دن کو منانے کی غرض و غائیت بیان کی اور حکومت سے مطالبہ کیا کہ کسانوں کے تمام مسائل کو اقوام متحدہ کے چارٹر کے مطابق حل کیا جائے اور زرعی ریفامز کو نافذ کر کے تمام بے زمین کسانوں کو زمین فراہم کی جائے اور کسانوں کی زمین کے مالکانہ حقوق کا تحفظ یقینی بنایا جائے۔ تقریب سے ناصر اقبال، رائے شعیب رضا کھرل اور قمر عباس نے بھی اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ صدر تقریب جناب رائے محمد قذافی خاں کھرل نے حاضرین کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کسانوں کے تمام مسائل کے مناسب حل ہونے تک اپنی اور ساتھیوں کی جدوجہد کا اعادہ کیا۔

کسانوں کے عالمی دن کے موقع پر ہم پاکستان کسان رابطہ کمیٹی کا بھی مختصر تعارف اپنے قارئین اور ساتھیوں کے مطالعہ کے لیے پیش کر رہے ہیں۔

پاکستان کسان رابطہ کمیٹی کا قیام مندرجہ ذیل پس و پیش منظر میں عمل میں لایا گیا۔

پاکستان کی 64 فیصد آبادی دیہات میں رہائش پذیر ہے اور زراعت سے براہ راست اور بالواسطہ طور پر منسلک ہے۔ کل ملکی لیبر فورس کا 43 فیصد زراعت سے وابستہ ہے، جو کہ کل ملکی پیداوار میں 21 فیصد ہی اضافہ کر پاتا ہے۔ کم پیداوار اور کم آمدن کے علاوہ کسانوں کے چھوٹے بڑے معاشی، سماجی مسائل کی بڑی وجہ رائج جاگیرداری نظام ہے۔ گوکہ ملک میں 1959ء اور 1972ء میں لینڈریفارمز کی گئیں مگر عدالتوں نے مارچ 1990ء کو لینڈریفارمز کو ”غیراسلامی“ قرار دے کر کالعدم قرار دے دیا۔ جس کے نتیجے میں جاگیرداری نظام مزید مضبوط ہوا۔

کسانوں کی زبوں حالی کی دوسری بڑی وجہ ورلڈ ٹریڈ آرگنائزیشن کی زراعت پر اثر اندازی ہے۔ ایک طرف مہنگی کھادوں، مہنگی بجلی، درآمد شدہ بیجوں، کیڑے مار زہروں کا استعمال اور جملہ حقوق کے مسائل کے سبب پیداواری لاگت میں اضافہ ہو رہا ہے، تو دوسری طرف ریاستی امدادی مدعات میں بھی مسلسل کمی ہو رہی ہے۔ ریاست آئے دن چھوٹے کسانوں اور مزارعین کو زمینوں سے بیدخلیوں کے احکامات جاری کرتی رہتی ہے، کسان خواتین کی معاشی و سماجی صورتحال انتہائی ابتر ہے۔ دیہات میں تعلیم، صحت، رہائش، نقل و حمل، صاف پانی اور نکاسی آب کے پست انتظامات ہیں۔ عام کسانوں کو گندم اور چاول کی فصل کے عوض سرکاری مقرر کردہ قیمتوں کے حصول میں مشکلات کا سامنا ہے۔ گنے اور کپاس اور دیگر فصلوں کے کسانوں کا پرائیویٹ سیکٹر کی طرف سے قیمتوں کے نامناسب تعین اور ادائیگیوں میں بے قاعدگیاں کے مسائل کا سامنا ہے۔

عالمی مالیاتی اداروں، ریاستوں یا بالعموم سوچ کے مطابق زیادہ سے زیادہ زرعی پیداوار خواہ کسی بھی طریقہ یا قیمت پر ہو، کو کسان کی خوشحالی کا باعث سمجھا جاتا ہے۔ کسان رابطہ کمیٹی خیال کی اس سمت کو درست نہیں سمجھتی۔ امرضروری یہ ہے کہ پیداوار کی قیمتوں کے بہتر تعین اور حصول کو ممکن بنایا جائے۔ ارزاں لاگت اور ذرائع پیداوار کے مناسب استعمال کو اختیار کیا جائے۔ جدید اور روایتی طریقہ کاشت کے بہتر امتزاج سے کھیتی باڑی کی جائے۔ قدرتی وسائل پر کسانوں کے کنٹرول یا قدرتی وسائل کی تقسیم اور انتظام و انصرام میں کسانوں کی شمولیت اور مشاورت ضروری ہے۔ کسان دوست حکومتی پالیسیوں، خوراک کی خود انحصاری اور ماحولیاتی انصاف کا حصول لازمی ہے۔ لینڈریفارمز اور جاگیرداری نظام کے خاتمے پراستوار ترقی پسند نظام ہی کسانوں کی معاشی و سماجی اور سیاسی حقوق اور حقیقی خوشحالی کا ضامن ہو سکتا ہے۔ کسانوں کی حقیقی خوشحالی سے ہی ملکی و عالمی امن کی ضمانت، تہذیب و ثقافت اور صنعتی ترقی ممکن ہے۔

پاکستان میں چھوٹے کسان اور کاشتکار، بے زمین کسان، کھیت مزدور، ہاری اور مزارعین بے شمار مسائل سے دوچار ہیں۔ جاگیرداری نظام ملک کے مختلف حصوں میں پنجے گاڑے موجود ہے۔ چھوٹے کاشت کاروں اور زمینداروں کے فصل اگانے سے لیکر اٹھانے تک کے اخراجات پورے نہیں ہوتے۔ شوگر، کپاس، چاول اور فلور ملوں کے مالکان کسانوں کی دونوں ہاتھوں سے لوٹ مار کرتے ہیں اور آڑھتی حضرات ان مل مالکان کے ایجنٹوں کا کام کرتے ہیں۔ کسانوں کو قرضہ جات کے نام پر زرعی ترقیاتی بینک زرعی کمپنیوں کو قرضے جاری کر دیتا ہے۔ کھادوں اور زرعی زہروں کا کاروبار پرائیویٹ ہاتھوں میں ہے۔ کھادوں اور زرعی زہروں کی فیکٹریوں کے مالکان بھی کسانوں کے نام پر حکومت سے سبسڈی حاصل کرتے ہیں، ٹیکسوں کی چوری کرتے ہیں اور دن رات زبردست منافع کمانے میں مصروف ہیں۔

محکمہ زراعت پرانے طریقوں پر ہی چل رہا ہے۔ وہ کسانوں کی حقیقی مدد کرنے کی بجائے بڑے زمین داروں اور جاگیرداروں کے مفادات کا ہی خیال رکھتا ہے۔ ملک میں زرعی یونیورسٹیاں موجود ہیں مگر ان کا نصاب جدید نہیں، دیہاتوں میں زرعی تعلیم کا کوئی ادارہ نہیں اور پورے ملک میں کوئی زرعی سکول موجود نہیں ہے۔ ملک میں غذائی قلت ہے اور بھوک بڑھتی جا رہی ہے جو خوراک اگاتے ہیں انہیں صحت افزا خوراک نہیں ملتی۔

ملک کی جی ڈی پی میں زراعت کا حصہ کم ہو رہا ہے۔ یہ 2 فیصد تک نیچے گر گیا ہے۔ زرعی پیداوار کھادوں اور زرعی زہروں کی وجہ سے جمود کا شکار ہے یا نیچے کی طرف کی جاری ہے۔ کسانوں کو فصل کا پوراطے شدہ سرکاری معاوضہ نہیں ملتا۔

کسانوں کو چار فصلوں کپاس، گنے، گندم اور چاول کی پیداوار تک محدود کر دیا گیا ہے کیونکہ یہ ان کے لیے کیش فصلیں بنا دی گئی ہیں۔ صدیوں سے یہاں بیجی جانے والی کئی اور فصلیں اور ان کے بیج ناپید ہوتے جا رہے ہیں۔ اس کی بڑی وجہ 1960ء کی دہائی میں شروع کیا جانے والا ”سبز انقلاب“ تھا جس کے دوران کسانوں کو ٹریکٹر خریدنے پر مجبور کیا گیا۔ کھادوں اور زرعی زہروں کے استعمال کی تراغیب دی گئیں۔ 60ء کی دہائی کے ”سبز انقلاب“ نے فیملی فارمنگ کو شدید ٹھوکریں لگائیں۔ بڑی ہاؤسنگ سکیموں کے مالکان نے زرعی زمینوں کو اونے پونے خرید کر لاکھوں کسانوں کو بے زمین اور بے دخل کردیا ہے۔ زرعی زمینیں جاگیرداروں اور تعمیراتی مافیا کے کنٹرول میں چلی گئیں اور چھوٹا کسان بے زمین ہوتا گیا اور شہروں کی طرف ہجرت کرنے پر مجبور ہوا۔

اس وقت پاکستان کسان رابطہ کمیٹی بے زمین کسانوں، مزارعین، کھیت مزدوروں، ہاریوں، چھوٹے پیمانے کے کاشتکاروں اور زراعت سے متعلقہ دیگر افراد اور طبقات کا ملک گیر سطح پر نمائندہ پلیٹ فارم ہے۔ 2003ء میں چشتیاں کسان کانفرنس کے موقع پر رابطہ کمیٹی کاباقاعدہ قیام عمل میں لایا گیا۔ ”جہیڑا واوے اوہی کھاوے“ اور اپنی مدد آپ کے نعروں کے تحت ملک کے تمام استحصال زدہ کسانوں کے ہر قسم کے معاشی، سماجی اور سیاسی حقوق کے تحفظ کے لیے ملکی اور عالمی سطح پر آواز بلند کرنے کے ساتھ ساتھ پرامن جمہوری اور آئینی و قانونی جدوجہد کا طریقہ کار مسلسل اختیار کیا گیا۔ کمیٹی ارکان میں کسان ذاتی، علاقائی یامقامی تنظیموں اور کوآپریٹو سوسائٹی کی صورت میں موجود ہیں۔ تمام فیصلے ارکان کی باہمی مشاورت کے بعد اتفاقِ رائے یا کثرت رائے کی بنیاد پر کئے جاتے ہیں۔

پاکستان کسان رابطہ کمیٹی اپنے قیام سے اب تک صوبہ پنجاب، سندھ، بلوچستان اور خیبر پختونخواہ کے مختلف اضلاع میں مزارعین اور بے زمین کسانوں کے حقوق ملکیت کے تحفظ، خوراک کے آئینی حق، کسانوں کی بے دخلیوں، کسانوں کی آمدن بڑھانے کے منصوبوں اور ”پائیدار قدرتی نظام کاشتکاری“ کو متعارف اور رائج کرنے کی جدوجہد میں ہمہ تن ہے۔ گذشتہ 17 برسوں کے دوران میر پور خاص (سندھ) 2004ء، ٹوبہ ٹیک سنگھ 2005ء اور مینار پاکستان لاہور 2007ء میں کامیاب کسان کانفرنسوں، 2009ء سے لیکر اب تک ہر سال 17 اپریل کو کسانوں کا عالمی دن منانے، 2012ء میں اسلام آباد میں ”فوڈسویرینٹی پارلیمینٹیرین کانفرنس“ اور 2020ء میں ایشیا پیپلز یورپ فورم کے تعاون سے ”زمینوں کی ملکیت اور خوراک ایک آئینی حق ہے“ کے عنوان سے ایک عالمی کانفرنس، جس میں ایشیا اور یورپ کے 12 ممالک سے 20 عالمی مندوبین نے شرکت کی، کا انعقاد کر چکی ہے۔ ان کانفرنسوں اور ایونٹس میں ہزاروں کسانوں اور ان کے نمائندوں نے شرکت کی۔ گو ناگوں ملکی زرعی مسائل کو اجاگر کرنے کے ساتھ ساتھ رابطہ کمیٹی جنوبی ایشیا یورپ اور لاطینی امریکہ میں منعقد ہونے والے کسانوں کے عالمی اجتماعات میں پاکستانی کسانوں کی نمائندگی کر چکی ہے۔

پاکستان کسان رابطہ کمیٹی گاؤں، تحصیل، ضلع، صوبائی اورملکی سطح پر کسانوں او ر دیگر افراد کی تنظیم سازی کے لیے کوشاں ہے۔ مطالبات کے حصول کے لیے جمہوری جدوجہد، عالمی و حکومتی زرعی پالیسی سازی اور عمل درآمد کے کسانوں پر اثرات یا نتائج کا تجزیہ کرتے ہوئے ترقی پسند متبادل نقطہ نظر کو فروغ دیتی ہے۔ پالیسی سازی کے عمل میں کسان دوست سوچ کو فروغ دیتی ہے، عالمی کسان برادری سے یکجہتی میں رہتے ہوئے مقامی یا ملکی کسان تحریکوں کی نمائندگی اور مطالبات کی وکالت کرتی ہے۔ کسان اور زراعت کی ترقی کے عمل میں کسان عورتوں کی تمام سطحوں پر شمولیت کو یقینی سمجھتی ہے۔

کمیٹی کے اغراض و مقاصدمیں مندرجہ ذیل نکات اہم ہیں:

٭ زرعی اصلاحات اور بے زمین کسانوں اور مزارعین کے لیے زمین کے حق ملکیت واسطے قانون سازی کے لیے ملک گیر سطح پر جدوجہد۔
٭ کھیت مزدوروں، مزارعین، ہاریوں، کسان خواتین اور بے زمین کسانوں کی عزت نفس کوبحال کر کے قائم رکھنے کا اعادہ۔
٭ خوراک کی پیداوار اور تقسیم کے عمل کو عالمی خود انحصاری و پیداواری معیارات کے مطابق بنانا۔
٭ کسانوں کی زرعی پیداوار کی سرکاری قیمتیں مہنگائی میں اضافہ سے منسلک اور کسانوں کی مارکیٹ تک رسائی آسان بنانا۔
٭ زرعی ترقیاتی بینک بڑی زرعی کمپنیوں کو کسانوں کے نام پر قرضے دینا بند اور قرضہ جات سود کے بغیر عام کسانوں کی پہنچ میں دینے کا سلسلہ شروع کرانے میں جدوجہد۔
٭ دیہاتوں میں زرعی سکولوں کا آغاز جہاں کسانوں کو قدرتی اور پائیدار بنیادوں پر قائم زرعی طریقہ کار سے ان کی آمدنی بڑھانے کا موقع فراہم کرنا۔
٭ ہر گاؤں کو ایک مثالی گاؤں جہاں روزگار، تعلیم، صحت، رہائش،ٹرانسپورٹ صاف پانی اور نکاسی آب کی مناسب اور مؤثر سہولیات موجود ہوں۔
٭ ملکی سطح پر کم لاگت ماحول دوست طریقہ کاشت کوفروغ دینا۔ تحصیل و ضلع و صوبائی کی سطح پر کسان کمیٹیوں کا قیام اورایک مضبوط وفاقی جمہوری کسان تنظیم کی تشکیل۔
٭ کمیونٹی کوآپریٹوز کی تشکیل اور پائیداری۔
٭ صوبائی و فیڈرل سطح پر کسان رابطہ کمیٹی کے مؤثر سیکرٹریٹ کا قیام۔

پاکستان کسان رابطہ کمیٹی مندرجہ ذیل مقامی، علاقائی اور عالمی تنظیموں کی باضابطہ ممبر ہے:

٭ لاویا کمپسینا (LA VIA CAMPESINA)
یہ چھوٹے کسانوں کی عالمی سطح پرسب سے بڑی تنظیم ہے۔ جس کی 80 ممالک میں 180 کسان تنظیمیں ا ور تحریکیں ممبر ہیں۔ اس کی کاوشوں سے 2018ء میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے کسان چارٹر منظور کیا گیا۔

٭ایشیایورپ پیپلز فورم (AEPF)
یہ ایشیا اور یورپ کی سماجی، سیاسی وتنظیموں اورتحریکوں کا فورم ہے۔

٭ایشیا پیپلز موومنٹ قرضہ جات اور ڈویلپمنٹ (APMDD)
یہ ایشیا کی عوامی تحریکوں کی قرضہ جات اور ڈویلپمنٹ کے ایشو پر کام کرتی ہے۔

٭ ٹیکس اینڈ فیسکل جسٹس ایشیا(TFJA)

٭عدم مساوات کے خلاف جدوجہد الائنس(Fight Inequality Alliance)

٭ ساؤتھ ایشیا الائنس برائے غربت خاتمہ (SAAPE)

٭ فیان انٹرنیشنل (Fian International)

٭ جائنٹ ایکشن کمیٹی فارپیپلز رائٹس لاہور (JAC)

ناصر اقبال گزشتہ تقریباً تین دہائیوں سے پاکستان کی ترقی پسند تحریک کیساتھ وابستہ ہیں۔