پاکستان

مجید امجد: ایک نظم، ایک غزل

تعارف: قیصر عباس

جھنگ سے تعلق رکھنے والے مجید امجد (1914-1974ء) اردو شاعری کے صف اؤل کے نظم گو شاعر تھے۔ انہوں نے اردو نظم کو جدید موضوعات کا اسلوب دیا اور سادہ مگر عمیق تخیلات کے ساتھ اسے عالمی ادب کے قریب تر کرنے میں اہم کردار اداکیا۔ امجد اسلام امجد ان کے انتخاب کلام ”آٹوگراف“ کے تعارف میں لکھتے ہیں:

”قیام پاکستان کے بعد شعرا کی جس پہلی نسل نے اردو شاعری پر اپنے اثرات مرتب کئے ان میں مجید امجد کا نام پہلی صف میں آتا ہے۔ خاص طور پر اردو نظم کی روائت میں انہوں نے کچھ ایسے رنگوں کا اضافہ کیا جو صرف انہی سے تعلق رکھتے ہیں۔ مجید امجد کی غزلیں بھی اپنا ایک خاص مزاج رکھتی ہیں لیکن وہ بنیادی طور پر نظم ہی کے شاعر تھے۔“

جھنگ کے اخبار’’عروج“ کی ادارت سے اپنی ادبی زندگی کا آغاز کیا اور انگریز سامراج کے خلاف آواز اٹھانے کی پاداش میں انہیں ادارت سے ہا تھ دھونا پڑے۔ بعد میں وہ محکمہ خوراک کے افسر مقرر ہوئے اور انتقال تک وہیں ملازمت کی۔

ان کا پہلا مجموعہ کلام ”شبِ رفتہ“ 1958ء میں شائع ہوا۔ دوسرا مجموعہ کلام ”شب رفتہ کے بعد“ ان کے انتقال کے بعد 1976ء میں شائع کیا گیا اور 1989ء میں ”کلیات مجید امجد“ میں ان کا پورا کلام شائع کیا گیا۔

روزمرہ زندگی کے عام موضوعات کو انہوں نے اپنی شاعری کا محور بنایا مگر ایک جدید پیرایہ اظہار کے ساتھ۔ ”ہری بھری فصلو“، ”بس اسٹینڈ پر“، ”ہڑپے کا ایک کتبہ“، ”ایکسیڈنٹ“ اور ”کہانی ایک ملک کی“ جیسے عنوانات پر قلم اٹھا کر انہوں نے اردو نظم کو جدید رویوں سے ہم کنار کیا۔

اپنی نظم ”آٹو گراف“ میں انہوں نے اپنی زندگی کا موازنہ کرکٹ کے ایک کھلاڑی کی مقبولیت سے کیا۔ نظم کے آخری بند میں اپنی بے مائیگی کا گلہ کچھ اس طرح کرتے نظر آتے ہیں:

میں اجنبی، میں بے نشاں
میں پابہ گل
نہ رفعت مقام ہے، نہ شہرت دوام ہے
یہ لوح دل، یہ لوح دل
نہ اس پہ کوئی نقش ہے، نہ اس پہ کوئی نام ہے

مگر وقت نے ثابت کیا کہ مجید امجد جیسے لکھاریوں اور دانشوروں کی شہرت کرکٹ کے کھلاڑیوں کی طرح عارضی اور محدود نہیں ہوتی۔ یہاں ان کی ایک نظم اور ایک غزل ان کے انداز بیان کے کچھ گوشوں کا تعارف کراتی نظر آتی ہیں۔

کہانی ایک ملک کی

(1)
راج محل کے دروازے پر
ٓآ کے رکی ایک کار
پہلے نکلا بھدا، بے ڈھب، بودا،
میل کچیل کا تودا
حقہ تھامے ایک میراثی
عمر اس کی کوئی اسی بیاسی
پیچھے اس کا نائب، تمباکو بردار
باہر رینگے اسی کے بعد قطار، قطار
عنبر بار
نمبر دار
ساتھ سب ان کے دم چھلے
ایم ایّلے

(2)
راج محل کے اندر اک اک رتنا سن پر
کوڑھی جسم اور نوری جامے
روگی ذہن اور گردوں پیچ عمامے
جہل بھرے علامے
ماجھے، گامے
بیٹھے ہیں اپنی مٹھی میں تھامے
ہم مظلوموں کی تقدیروں کے ہنگامے
جیبھ پہ شہد۔ اور جیب میں چاقو
نسل ہلاکو!

(3)
راج محل کے باہر، سوچ میں ڈوبے شہر اور گاؤں
ہل کی انی، فولاد کے پنجے
گھومتے پہیے، کڑیل باہیں،
کتنے لوگ، کہ جن کی روحوں کو سندیسے بھیجیں
سکھ کی سیجیں
لیکن جو ہر رات کو ٹھکرائیں
آگ پئیں اور پھول کھلائیں

غزل

چہرہ اداس اداس تھا، میلا لباس تھا
کیا دن تھے، جب خیال تمنا لباس تھا

عریاں زمانہ گیر، شرر گوں جبلتیں
کچھ تھا تو ایک برگ دل ان کا لباس تھا

اس موڑ پر ابھی جسے دیکھا ہے، کون تھا
سنبھلی ہوئی نگاہ تھی، سادہ لباس تھا

یادوں کے دھندلے دیس، کھلی چاندنی میں رات
تیرا سکوت کس کی صدا کا لباس تھا

ایسے بھی لوگ ہیں جنہیں پرکھا تو ان کی روح
بے پیرہن تھی، جسم سراپا لباس تھا

صدیوں کے گھاٹ پر بھرے میلوں کی بھیڑ میں
اے درد شادماں، ترا کیا کیا لباس تھا

دیکھا، تو دل کے سامنے، سایوں کے جشن میں
ہر عکس آرزو کا انوکھا لباس تھا

امجد قبائے شہ تھی کہ چولا فقیر کا
ہر بھیس میں ضمیر کا پردا لباس تھا

ڈاکٹر قیصرعباس روزنامہ جدوجہد کی مجلس ادارت کے رکن ہیں۔ وہ پنجاب یونیورسٹی  سے ایم اے صحافت کے بعد  پاکستان میں پی ٹی وی کے نیوزپروڈیوسر رہے۔ جنرل ضیا کے دور میں امریکہ آ ئے اور پی ایچ ڈی کی۔ کئی یونیورسٹیوں میں پروفیسر، اسسٹنٹ ڈین اور ڈائریکٹر کی حیثیت سے کام کرچکے ہیں۔ آج کل سدرن میتھوڈسٹ یونیورسٹی میں ایمبری ہیومن رائٹس پروگرام کے ایڈوائزر ہیں۔