دنیا

پوتن ناٹو کے لئے بہترین بھرتی افسر ثابت ہوئے ہیں

فاروق سلہریا

تازہ ترین اطلاعات کے مطابق روس نے فن لینڈ کو دھمکی دی ہے کہ وہ ناٹو میں شامل ہونے سے باز رہے لیکن اس بات کا امکان اب صفر کے برابر ہے کہ فن لینڈ اس دھمکی پر کان دھرے گا۔ ادہر، تا دم تحریر سویڈن کی حکمران جماعت ’سوشل ڈیموکریٹس‘ کا اجلاس جاری ہے جس میں پارٹی یہ فیصلہ کرے گی کہ کیا وہ ناٹو میں شامل نہ ہونے کا اپنا روایتی موقف برقرار رکھے یا اسے بدل لے۔ غالب امکان ہے کہ سویڈن بھی ناٹو کا رکن بن جائے گا۔ یہ بات تو طے ہے کہ جنگ رکتے ہی یا حالات سنبھلتے ہی یوکرین بھی ناٹو کا رکن بن جائے گا۔

اگر تو پوتن شاہی رژیم کا مقصد یہ تھا کہ یوکرین پر جنگ مسلط کر کے روس کے خلاف ناٹو کے گھیراؤ (Encirclement) کو روکے تو مندرجہ بالا حقائق ثابت کر رہے ہیں کہ پوتن شاہی ناٹو کو روکنے کی بجائے اس کے لئے بہترین بھرتی افسر ثابت ہوئی۔

رہی بات یوکرین کے خلاف جنگ کی تو دن بدن یہی لگتا ہے کہ روس اس جنگ میں پھنستا جا رہا ہے۔ یوکرین کی سر زمین پر موجود ہر روسی سپاہی ایک یرغمال سپاہی ہے۔ یہ بھی درست ہے کہ جدید عہد کی جنگ میں کوئی فاتح یا مفتوح نہیں ہوتا اورکمزور ملک تباہی سے دو چار ہوتا ہے لیکن یہ بھی طے ہے کہ دوسرے ملکوں پر قبضوں کا دور گزر چکا ہے۔ آج نہیں تو کل، پوتن کو شرمناک انداز میں یوکرین سے نکلنا ہو گا۔ افسوس یوکرین اور روس کے محنت کش اور نوجوان تب تک بہت بھاری قیمت چکا چکے ہوں گے۔

بائیں بازو کے کچھ حلقے اور کارکن ابھی بھی یوکرین کی جنگ کو ناٹو اور روس کی پراکسی جنگ کے طور پر دیکھ رہے ہیں اور ان کے منہ سے پوتن کی جارحیت کے خلاف ایک لفظ نہیں نکل رہا۔ ایسے لیفٹ کو بایاں بازو کہلانے پر نظر ثانی کرنی چاہئے۔ کچھ اور نہیں تو یوکرین کے بائیں بازو کی چند تحریریں ہی پڑھ لینی چاہئیں۔

یاد رہے: ہر جنگ کے کئی پہلو ہوتے ہیں۔ یوکرین جنگ کا ایک، بہت اہم، پہلو ناٹو ہے مگر جس درندگی کا مظاہرہ روس یوکرین میں کر رہا ہے اگر کوئی ترقی پسند اس سے آنکھیں چرا کرآئیں بائیں شائیں کر رہا ہے تو اسے جماعت اسلامی یا اخوان المسلمین میں شامل ہو جانا چاہئے کیونکہ ایسا ترقی پسند سوشلسٹ نہیں، فنیٹک (Fanatic) ہے جسے سامراج دشمنی اور امریکہ دشمنی کا ہی فرق معلوم نہیں۔

اس خون خرابے کو روکنے کے لئے دنیا بھر کے محنت کشوں کو آواز اٹھانی ہو گی اور کھل کر پوتن شاہی کی بربریت کے خلاف سڑکوں پر نکلنا ہو گا۔

فاروق سلہریا روزنامہ جدوجہد کے شریک مدیر ہیں۔ گذشتہ پچیس سال سے شعبہ صحافت سے وابستہ ہیں۔ ماضی میں روزنامہ دی نیوز، دی نیشن، دی فرنٹئیر پوسٹ اور روزنامہ پاکستان میں کام کرنے کے علاوہ ہفت روزہ مزدور جدوجہد اور ویو پوائنٹ (آن لائن) کے مدیر بھی رہ چکے ہیں۔ اس وقت وہ بیکن ہاوس نیشنل یونیورسٹی میں اسسٹنٹ پروفیسر کے طور پر درس و تدریس سے وابستہ ہیں۔