پاکستان

شیریں مزاری اور علی وزیر: ’دو قومی نظریہ‘

حارث قدیر

سابق وفاقی وزیر حکومت اور تحریک انصاف کی رہنما شیریں مزاری کی گرفتاری اور رات گئے اسلام آباد ہائی کورٹ کے دروازے کھول کر رہائی کے احکامات جاری ہونے کا واقعہ انصاف کے دہرے معیار کی نشاندہی کے طور پر سوشل میڈیا پر وائرل ہو رہا ہے۔

سوشل میڈیا صارفین، سینئر صحافیوں اور سیاسی رہنماؤں کی جانب سے علی وزیر اور شیریں مزاری کی تصاویر سوشل میڈیا پر شیئر کرتے ہوئے انصاف کے نام پر سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔

سینئر صحافی حامد میر نے ٹویٹر پر لکھا کہ ’اگر اسلام آباد ہائی کورٹ کے حکم پر شیریں مزاری کو رہا کیا جا سکتا ہے تو سپریم کورٹ اور سندھ ہائی کورٹ کے حکم پر علی وزیر کو رہا کیوں نہیں کیا گیا؟ ان کے خلاف نت نئے مقدمے کون بنا رہا ہے؟ مراد علی شاہ صاحب کچھ تو بولئے!‘

رکن قومی اسمبلی علی وزیر گزشتہ ڈیرھ سال سے زائد عرصہ سے کراچی کی جیل میں قید ہیں۔ ان کے خلاف 4 مقدمات پے درپے اوپن کئے گئے ہیں اور غداری، بغاوت، دفاعی اداروں کے خلاف تقاریر کرنے سمیت دہشتگردی کی دفعات شامل کی گئی ہیں۔

علی وزیر کو سپریم کورٹ سے ضمانت ملنے پر نئے مقدمہ میں زیر حراست رکھنے کا فیصلہ کیا گیا تھا، بعد ازاں دوسرے مقدمہ میں سندھ ہائی کورٹ سے ضمانت منظور ہو جانے اور تیسرے مقدمہ میں ضمانت کے امکانات کے پیش نظر ایک سربمہر ایف آئی آر کو اوپن کر کے علی وزیر کی اس نئے اور چوتھے مقدمہ میں گرفتاری ظاہر کر دی گئی ہے۔ اس طرح سپریم کورٹ سے بھی ضمانت منظور ہونے کے باوجود علی وزیر تاحال جیل میں ہیں۔

سینئر صحافی وجاہت مسعود نے ٹویٹر پر لکھا کہ ’وزیر اعلیٰ پنجاب حمزہ شہباز کا شیریں مزاری کی رہائی کا حکم دینا قابل تعریف ہے۔ امید ہے کہ وزیر اعلیٰ مراد علی شاہ اس اچھی مثال کی تقلید کرتے ہوئے رکن قومی اسمبلی علی وزیر کی رہائی کا حکم دینگے۔ علی وزیر سیاسی انتقام میں دسمبر 2020ء سے کراچی میں قید ہیں۔‘

حقوق خلق پارٹی کے رہنما ضیغم عباس نے ٹویٹر پر لکھا کہ ’یہ یاد رہے کہ بابا جان کو عدالتوں سے بری ہونے میں 9 سال لگے اور علی وزیر کو جیل میں 18 ماہ سے زائد عرصہ ہو چکا ہے اور ابھی تک ٹرائل جاری ہے۔ صرف 8 گھنٹوں کے اندر شیریں مزاری کو انصاف مل گیا۔ اس قسم کے نظام میں یہاں کچھ خوفناک حد تک غلط ہو رہا ہے۔‘

کئی صارفین نے آئین اور قانون پر سوالات اٹھائے اور کئی صارفین طبقاتی تفریق کو زیر بحث لا رہے ہیں۔

ٹویٹر صارف سلیم لکھتے ہیں کہ ”فوری رہائی اور اوپر سے جوڈیشل انکوائری بھی۔ کیا بات ہے۔ اب پتہ چلا کہ ہمارا آئین اور قانون کتنا طاقتور ہے۔ جبکہ یہی آئین علی وزیر جیسوں کیلئے کتنا کمزور ہے۔“

فیض اللہ جان نے شیریں مزاری اور علی وزیر کی تصاویر ٹویٹ کرتے ہوئے اس دوہرے معیار کو اصل دو قومی نظریہ قرار دیا ہے۔

پاکستان کسان رابطہ کمیٹی کے جنرل سیکرٹری فاروق طارق نے لکھا کہ ”علی وزیر کے خلاف نئے سے نیا کیس کھولا جا رہا ہے۔ ایم این اے ہے۔ کیا گرفتاری کے وقت سپیکر سے اجازت لی گئی تھی؟ شریں مزاری ان زمینوں کے فراڈ میں وقتی طو رپر پکڑی گئیں جو مزارعوں اور چھوٹے کسانوں کو ملنی تھیں۔ علی وزیر کی تو ایک تقریر تھی۔ یہ دوغلا پن نامنظور۔“

حارث قدیر کا تعلق پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے علاقے راولا کوٹ سے ہے۔  وہ لمبے عرصے سے صحافت سے وابستہ ہیں اور مسئلہ کشمیر سے جڑے حالات و واقعات پر گہری نظر رکھتے ہیں۔