پاکستان

لانگ مارچ عمران خان کی سیاسی پسپائی کا موجب بن سکتا ہے

فاروق طارق

تحریک انصاف کے کارکنوں کو پہلی دفعہ بڑے پیمانے پر ریاستی جبر کاسامنا کرنا پڑا ہے۔ پنجاب میں جگہ جگہ پولیس چھاپے، گرفتاریاں اورکنٹینرز کے ساتھ سڑکیں بندکی جا رہی ہیں۔ یہ سب کچھ عمران خان کے 25 مئی کے لانگ مارچ کو روکنے کے لئے کیا جا رہا ہے۔

مسلم لیگ ن اور اس کی مخلوط حکومت نے یہ طے کر لیا ہے کہ کم از کم پنجاب سے لوگوں کو اسلام آباد نہیں جانے دیا جائے گا۔ لاہور میں ایک ایسے ہی چھاپے کے دوران تحریک انصاف کے ایک سابقہ میجر کے ایما پر چلائی گئی سیدھی گولی سے ایک کانسٹیبل وفات پا گیاہے۔

سیاسی صورتحال بھی واضع ہوتی جا رہی ہے۔ مسلم لیگ نواز کی ابتدائی ہچکچاہٹ کے بعد اب طے کیا گیا ہے کہ حکومت کو اگلے سال کے آخر میں ہونے والے عام انتخابات تک قائم رکھا جائے گا۔ جس کے دوران مشکل فیصلوں کے نام پر آئی ایم ایف کو خوش کرنے کے لئے تیل اور بجلی کی قیمتوں میں ہوش ربا اضافہ کیا جائے گا۔

اسی لئے لانگ مارچ کو روکنے کی مختلف حکمت عملیوں پر کام ہو رہاہے۔ عمران خان کو پشاور سے شائد آنے کی اجازت ہو گی جبکہ پنجاب سے کسی کو جانے نہیں دیا جائے گا۔ مسلم لیگ نواز اس آمرانہ حکمت عملی پر پہلے بھی کئی دفعہ عمل کر چکی ہے اسے ریاستی جبر کرنے اور راستے روکنے کاپرانا تجربہ ہے۔

عمران خان کے 2014ء کے لانگ مارچ اور اس لانگ مارچ میں بہت فرق نظر آئے گا۔ اس وقت انہیں اسٹیبلشمنٹ کے ایک بڑے حصے کی حمائیت حاصل تھی جسے ریفری کا نام دیا جاتاتھا۔ اب اسے طعنہ دیتے ہوئے ”نیوٹرلز“ کہا جا رہا ہے۔ اس وقت عمران خان کے ساتھ طاہر القادری بھی قسمت آزمائی کر رہے تھے۔ اب عمران خان اکیلے ہی میدان میں ہیں۔

2014ء میں علیم خان اور جہانگیر ترین جیسے بدعنوان سرمایہ داروں کی کھلی حمایت بھی حاصل تھی، اب وہ بھی میسر نہیں ہے۔ اس وقت عوام بالخصوص درمیانے طبقے کو بھی کافی خوش فہمیاں تھی اور اب عمران خان کو عوام پر کافی خوش فہمیاں ہیں۔ 2014ء میں کمرشل میڈیا کو بھی عمران خان کا بڑاشوق تھا، سبھی ساتھ تھے۔ وہ کرسیوں کو بھی خطاب کریں توکوئی میڈیا خالی کرسیاں دکھانے کی جرات نہ کرتا، لیکن اب تو صورتحال ہی مختلف ہے۔ ایک اے آر وائے کے علاوہ باقی اس طرح عمران خان کا ساتھ نہیں دے رہے، جس طرح 2014ء میں دیا تھا۔

عمران خان اقتدار سے محرومی کے بعد اپنے جلسوں میں عوام کی بڑی تعداد دیکھ کر سمجھ رہے ہیں کہ عوام اسی جوش و خروش سے لانگ مارچ میں بھی شریک ہوں گے، لیکن انہیں معلوم ہونا چاہیے کہ ایک پرامن جلسے اور ریاستی جبر کے باوجود لانگ مارچ میں شمولیت میں بہت فرق ہوتا ہے۔

عمران خان نے بہت جلد اقتدار کھونے کے ڈیڑھ ماہ کے اندر ہی آر یا پارکرنے جو فیصلہ کیا ہے وہ سیاسی طور پر بہت مہنگا پڑ سکتا ہے۔ نہ تو آسانی سے انتخاب کی تاریخ مل سکتی ہے اور نہ ہی اس حکومت کی رخصتی اس طرح سے ممکن لگ رہی ہے۔ وجہ یہ ہے کہ اگرچہ ریاست اور حکمران طبقات میں ایک واضع تقسیم موجود ہے، مگر موجودہ مخلوط حکومت کواس وقت فوجی جرنیلوں کی اکثریت کی حمایت حاصل نظر آتی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ پاکستان کے حکمران طبقہ کی ایک بڑی اکثریت بھی موجودہ حکومت کے ساتھ کھڑی نظر آتی ہے۔

کیا عمران خان موجودہ حکومت کو اس لانگ مارچ سے ختم کر سکتے ہیں؟
کیا نئے عام انتخابات اس سال کے دوران ہو سکتے ہیں؟
لانگ مارچ کا کیا بنے گا؟

اگر سیاسی حالات کا بغور جائزہ لیا جائے تو عمران خان کی موجودہ سیاسی بنیاد مڈل کلاس تک محدود نظر آتی ہے اور اس مڈل کلا س میں نئے نئے شامل ہونے والے تارکین وطن کی بھی ایک بڑی تعداد شامل ہے۔ مڈل کلاس کی ایک مستقل بنیاد نہیں ہوتی، عارضی ہوتی ہے۔ یہ طبقہ ہمیشہ کبھی ایک طرف اور کبھی دوسری طرف جھولتا رہتا ہے۔ یہ بہت جلدمایوس بھی ہو جاتے ہیں یا جلدی جلدی انقلابی بھی بن جاتے ہیں۔ ان کی بنیاد پر تحریکیں وقتی طور پر جتنی تیزی سے ابھر سکتی ہیں اتنی ہی تیزی سے یہ پسپائی کا راستہ بھی اختیار کر سکتی ہیں۔

عمران خان نے جس تیزی سے اس مایوس سیکشن اف سوسائٹی کو اپنے ساتھ جوڑا ہے، اتنی ہی تیزی سے یہ ریاستی جبر یا کسی اور وجہ سے پیچھے بھی ہٹ سکتا ہے۔

عمران خان کو امید نہ تھی کہ ریاست اتنی تیزی سے ان کا راستہ روکے گی، جس کا اظہار آج ہوا ہے۔ اب جو سوچ کر بڑھک بازی کی جا رہی ہے کہ پاکستان کی تاریخ کا سب سے بڑا لانگ مارچ ہو گا۔ یہ تو ہوتا مشکل نظر آتا ہے۔ ویسے عمران خان کو یہ کہنے کا بڑا شوق ہے کہ وہ تاریخی جلسے کرینگے اور لاکھوں آئیں گے۔ وہ تو اپنا پانچ سال کا اقتدار بھی نہ سنبھال سکے وہ تاریخ کیا بنائیں گے۔

عمران کا یہ لانگ مارچ تاریخی تو نہیں البتہ عمران خان کی سیاسی پسپائی میں شائد تاریخی کردار ادا کرے گا۔ جیت کے اپنے مزے اور شکست کے اپنے منفی اثرات ہوتے ہیں۔ یہ نہیں ہوتا کہ آپ کی شکست آپ کی سیاست کو ٹچ نہ کرے۔ لانگ مارچ بارے یقین سے تو کچھ کہا نہیں جا سکتا مگر لگتا ہے کہ یہ کامیاب نہ ہو گا۔ کچھ وجوہات کا ذکر اوپر کیا جا چکا ہے۔

ریاستی جبر کی انتہا ”انقلابی سوچ“ کو اکثر بڑھاوا نہیں دیتی، بلکہ پیچھے کی طرف دھکیلتی ہے۔ عمران خان ایک جعلی انقلابی سیاست دان ہیں، وہ اچانک امریکہ مخالف بنے، اچانک ہی انہیں اقتدار سے علیحدہ کرنے کی سازش کا پتہ چلا، اچانک ہی وہ ”حقیقی آزادی پسند“ ہو گئے۔ یہ سب کچھ وہ اپنی سیاست چمکانے کے لئے کر رہے ہیں۔

مشکل ہے کہ وہ شہباز شریف حکومت کو انتخابی اعلان کرنے پر مجبور کر سکیں۔ اگرچہ یہ موجودہ حکومت بھی ایک کمزور حکومت ہے۔ اس کے پاؤں بھی ابھی تک زمین پر نہیں ہیں۔ یہ بھی مشکل فیصلوں کے نام پر آئی ایم ایف کا گندہ کام کرنے پر رضامند ہے۔ یہ حکومت مہنگائی کو روک نہ سکے گی، اس کی وجہ سرمایہ داری معیشت کا ایک بڑا بحران ہے، جو کرونا سے لیکر یو کرین جنگ اور اسکی اپنی ہیت سے منسلک ہے۔ اسے سرمایہ داری بنیادوں پر ٹھیک نہ کیا جا سکے گا۔

اس کے بحران کی مختلف شکلیں سامنے آتی رہیں گی۔ شہباز شریف حکومت عوامی مسائل حل کرنے کی سکت ہی نہیں رکھتی۔ اسی لئے یہ ایک کمزور اور ناتواں حکومت کے طور ہی کام کر سکے گی۔ اسے بار بار سیاسی و معاشی بحرانوں کا سامنا کرنا پڑے گا۔ ایک عمران خان سے جان چھوٹے گی، تو کئی اور اسی طرز کی قباحتیں اس کے راستے میں آتی رہیں گی۔

یہ سیاسی اتحاد سیاسی بنیاد پر نہیں بنا تھا، اپنی جانیں بچانے کے لئے بنا تھا۔ اس میں یہ وقتی طور پر کامیاب ہیں، انکے اپنے اندرونی تضاد عمران خان سے فارغ ہوتے کئی قبیح شکلوں میں سامنے آ سکتے ہیں۔

عمران خان کی وقتی مقبولیت بھی پسپائی کا راستہ اختیار کر سکتی ہے۔ دوبارہ اقتدار میں آنے کے امکانات کم ہیں۔ یہ جس طرح اداروں بارے یو ٹرن لیا جاتا رہا اور لیا جا رہا ہے، وہ ہی انکی بنیادوں کے راستے میں رکاوٹ بن رہا ہے۔

ہم کسی بھی صورت ریاستی جبر کی حمایت نہیں کر سکتے، مگر اس کا یہ مطلب نہیں کہ ہم عمران خان کے حامی ہو گئے ہیں۔ ہماری سیاست انقلابی اصولوں سے وابسطہ ہے، جس میں جمہوری دفاع بنیادی حیثیت رکھتا ہے۔ ہمارا مطالبہ ہے کہ گرفتار سیاسی کارکنوں کو رہا کیا جائے، راستوں سے رکاوٹیں ہٹائی جائیں۔ پرامن جدوجہد کے راستہ میں رکاوٹیں نہ ڈالی جائیں۔ اگر عمران خان کے بیانیہ کو اکثریت ملتی ہے تو ملے، اسے بندوقوں سے نہ روکا جائے۔

فارق طارق روزنامہ جدوجہد کی مجلس ادارت کے رکن ہیں۔ وہ پاکستان کسان رابطہ کمیٹی کے جنرل سیکرٹری ہیں اور طویل عرصے سے بائیں بازو کی سیاست میں سرگرمِ عمل ہیں۔