پاکستان

پی ٹی آئی ظالموں کی مظلومیت کا اظہار ہے

فاروق سلہریا

پہلے ایک واقعہ: چند ہفتے قبل میں ایک صحافی دوست کے ہاں مدعو تھا۔ تھوڑی دیر بعد وہاں ایک نوجوان مہمان بھی آ گیا۔ مہمان نے آتے ہی عمران خان کی عظمت کے گیت گانا شروع کر دئیے۔ شہباز شریف اور آصف زرداری کو چور اور ڈاکو قرار دیا۔ پھر میرے میزبان کو لے کر ایک کونے میں چلے گئے۔ کھسر پھسر کے بعد روانہ ہو گئے۔ میرے میزبان نے مجھے بتایا کہ مذکورہ یوتھیا بھائی سگریٹ کا کاروبار کرتے ہیں اور کسٹمز والوں کو کچھ دے دلا کر سگریٹ لاہور میں سمگل کرنا چاہتے ہیں جس کے لئے وہ میرے دوست کے صحافتی تعلقات کا استعمال کرنا چاہتے تھے۔

آپ بھی قوم یوتھ کے ایسے کئی افراد کو جانتے ہوں گے جنہیں نواز شریف اور آصف زرداری (یا کچھ دنوں سے بعض نامعلوم افراد) کی بدعنوانی تو نظر آتی ہے مگر ذاتی چوریاں ڈاکے نظر نہیں آتے۔ قوم یوتھ کے ان امیر، بعض اوقات مڈل کلاس افراد کو اپنے گھر میں چائلڈ لیبر نظر نہیں آتا۔ یہ لوگ اس قانون سے بھی نابلد ہیں کہ ان کے گھر، فیکٹری یا دفتر میں ان کے ملازمین کے لئے پچیس ہزار کم از کم تنخواہ کا قانون موجود ہے۔ راقم نے ان ہی صفحات پر قوم یوتھ کے بارے میں یہ کانسیپٹ پیش کیا تھا کہ یہ لوگ وینا ملک سنڈروم کا شکار ہیں۔ اس سنڈروم کی وضاحت اس لنک پر موجود ہے۔

قوم یوتھ وینا ملک سنڈروم کا ہی شکار نہیں۔ یہ ایک اور سماجی و سیاسی رجحان کا اظہار بھی ہے۔ اس رجحان کو ہم ’ظالموں کی مظلومیت‘(Victimhood of the Oppressors) کہہ سکتے ہیں۔

یہ مظہر صرف پاکستان تک محدود نہیں۔ ڈونلڈ ٹرمپ کا بھی یہی کہنا تھا کہ امریکہ کے ساتھ بہت زیادتی ہو رہی ہے۔ اسرائیل بھی یہ رونا روتا ہے کہ اہل فلسطین اس کے ساتھ بہت زیادتی کر تے چلے آ رہے ہیں۔ بی جے پی کے ساتھ بھی موازنہ کیا جا سکتا ہے۔ ہندتوا کا خیال ہے کہ تاریخ میں ہندووں کے ساتھ جو انیائے ہوئے اب اس کے ازالے کا وقت آ چکا ہے۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا ہے کہ ان دنوں ہر ہندوستانی مسجد کے نیچے ایک مندر نکل رہا ہے۔

فی الحال بات قوم یوتھ تک محدود رکھتے ہیں۔

قوم یوتھ کا خیال ہے کہ ان کے ساتھ سب سے بڑا ظلم تو جمہوریت ہے۔ بھلا یہ کیسا نظام ہے جس میں ان کے ان پڑھ خانساماں، ’جاہل‘ ڈرائیور، پسینے میں شرابور مالی یا فیکٹری میں ملازم مزدور کا بھی ایک ووٹ ہے اور ان کا اپنا بھی صرف ایک ووٹ ہے حالانکہ وہ نہ صرف ہینڈ سم ہیں، آکسبرج نہیں تو کم از کم لمز یا آئی بی اے کے گریجویٹ ہیں، بہت ساروں نے ایم بی بی ایس انجینئرنگ اور آئی ٹی کی ڈگری لے رکھی ہے۔ ان کا خیال ہے اس طرح کی جمہوریت ’میرٹ‘ کی خلاف ورزی ہے جس میں صاحب کا بھی ایک ووٹ، گاؤں کے جاہل کسان کا بھی اتنا ہی ایک ووٹ۔

ایک اور واقعہ: چند روز قبل برطانیہ میں مقیم ایک عمران وادی تارک وطن سے ملاقات ہو گئی۔ وہ کچھ دن کے لئے لاہور یاترا کے لئے آئے تھے۔ بغیر پوچھے مانگے میرے علم میں اضافہ کرتے ہوئے انہوں نے اس راز انکشاف کیا کہ برطانیہ کی ترقی کا واحد راز یہ ہے کہ وہ ہر کام میرٹ پر کرتے ہیں۔

میں نے ڈرتے ڈرتے پوچھا کہ ملکہ برطانیہ کس میرٹ کی بنیاد پر پچھتر سال سے تخت پر براجمان ہیں؟ انہیں لیبر پارٹی اور ٹریڈ یونین کانگرس بابت کچھ بتانے کی کوشش کی۔ انہوں نے لیبر پارٹی کا ذکر تو سن رکھا تھا مگر ٹریڈ یونین کانگر س بارے انہیں زیادہ علم نہیں تھا۔ وہ بضد تھے کہ برطانوی ترقی کا واحد راز میرٹ پر عمل درآمد ہے۔ ہاں یاد آیا۔ موصوف چند سال پہلے ایک فوجی عہدے پر تعینات تھے۔ ریٹائرمنٹ کے بعد عازم لندن ہو گئے۔

ظالموں کی مظلومیت کو اسلامک ٹچ تو عمران خان خود دے لیتے ہیں لیکن اکیڈیمک ٹچ دینے کے لئے تارکین وطن سے تعلق رکھنے والے اکیڈیمکس بھی موجود ہیں۔ انہوں نے پالیٹکس آف پیٹرنیج (Politics of Patronage) کی تھیوری کو ایمان کا درجہ دے رکھا ہے۔ سویڈن کی اُپسالہ یونیورسٹی میں ایک کانفرنس کے دوران راقم کا سامنا لندن اسکول آف اکنامکس سے آئی ایک ایسی ہی اکیڈیمک سے ہو گیا۔ لمبے چوڑے اعداد و شمار پیش کرنے کے بعد انہوں نے نتیجہ یہ اخذ کیا کہ غریب ووٹر بریانی کی پلیٹ پر ووٹ بیچ دیتے ہیں۔ کہنا وہ یہ چاہتی تھیں کہ پاکستان میں جمہوریت کا ڈھنڈھورا پیٹنا بے کار ہے۔ جب راقم نے انہیں یاد دلایا کہ 1977ء، 1970ء، کسی حد تک 1988ء کے انتخابات کا ذکر کیوں نہیں کیا گیا کہ جب بڑے بڑے برج الٹ گئے تھے اور پاکستان کے لالچی غریب ووٹروں نے بریانی کی پلیٹ پر بکنے سے انکار کر دیا، تو مکالمہ تھوڑا تلخ ہو گیا۔ باقی دن ہم دونوں کی بات چیت بند رہی۔

قوم یوتھ اور اس کے حاضر سروس و ریٹائرڈ فوجی حامیوں، اس کی صفوں میں موجود ڈاکٹروں، انجینئروں، چارٹرڈ اکاؤنٹنٹس کو لگتا ہے کہ جس طرح وہ میرٹ پر فوج میں بھرتی ہوئے تھے (اس میرٹ کے تحت بنگالیوں کو فوج میں نہیں آنے دیا جاتا تھا)، جس طرح انہوں نے میرٹ پر کنگ ایڈورڈ میڈیکل کالج یا لمز اور یو ای ٹی میں داخلہ لیا، اسی طرح ہر کام میرٹ پر ہونا چاہئے۔ اگر ان سے پوچھا جائے کہ لانس نائک کی اولاد جنرل صاحب کی اولاد کا مقابلہ کیسے کر سکتی ہے؟ شاہ محمود قریشی کے بچوں کا مقابلہ اس کے غریب مریدوں کے بچے کس منطق اور دلیل کے ساتھ کر سکتے ہیں؟ کیسا میرٹ، کہاں کا میرٹ جب معاشرے میں اس قدر عدم مساوات ہے؟ اس کے جواب میں وہ آپ کو جنرل کیانی کی مثال دیں گے جو ایک حوالدار کی اولاد تھے لیکن چیف آف آرمی سٹاف بن گئے۔ زیادہ’لبرل‘اور ’صاحب علم یوتھئے‘ ڈاکٹر سلام کا ذکر بھی کریں گے جو جھنگ کے اردو میڈیم سکول سے نکل کر نوبل انعام لینے سٹاک ہولم پہنچ گئے تھے۔

ان’مظلوم‘ظالموں کا خیال ہے کہ اجتماعی مسائل کے حل انفرادی سطح پر ہو سکتے ہیں بشرطیکہ انسان محنت کرے، اس کا ارادہ پکا ہو اور خان کی طرح ورلڈ کپ جیتنے اور شوکت خانم بنانے کی دھن سر پر سوار ہو۔

معلوم نہیں کہ پاکستان کا کسان پانچ ہزار سال سے محنت کر رہا ہے مگر ڈی ایچ اے یا بحریہ میں گھر بنانا تو دور کی بات، ایک کمرہ کرائے پر بھی نہیں لے سکتا۔ یہی حال مزدور کا ہے جو اٹھارہ اٹھارہ گھنٹے محنت کرتا ہے مگر دو وقت کی روٹی پوری نہیں کر پاتا۔ اس طرح کے اعتراضات کو یہ ’مظلوم‘ ظالم سوشلزم سمجھتے ہیں۔ ان کے نزدیک سویت روس کی جنرل حمید گل کے ہاتھوں شکست کے بعد سوشلزم والی باتیں کرنا بالکل وقت کا ضیاع ہے۔

ظالموں کی اس مظلومیت کے بہت سے فوائد بھی ہیں۔ اس کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہے کہ ان ظالموں کو پیپلز پارٹی، نواز لیگ، ایم کیو ایم (جب وہ ساتھ چھوڑ جائیں) کی چوریاں ڈاکے تو نظر آتے ہیں، اپنی چوریاں اور اپنے ڈاکے انہیں ان کا پیدائشی حق، عین شرعی اور حلال محسوس ہوتے ہیں۔ انہیں لگتا ہے کہ ان کی جائداد کے پیچھے کوئی جرم نہیں چھپا مگر سپریم کورٹ کے ایک جج کی نواز شریف بارے یہ بات بالکل درست ہے کہ:’Behind every big fortune, there is a big crime‘۔

اس کا ایک فائدہ یہ ہوتا ہے کہ انہیں یورپ اور امریکہ میں اسلاموفوبیا دکھائی دیتا ہے مگر روس اور چیچنیا میں نہیں۔ انہیں فلسطین تو نظر آتا ہے، بلوچستان نہیں۔ انہیں ہندوستانی مقبوضہ کشمیر سے لداخ کی علیحدگی پر تو برا لگتا ہے لیکن پاکستانی مقبوضہ کشمیر سے گلگت بلتستان کی علیحدگی بارے علم تک نہیں ہوتا۔ ایک اور فائدہ یہ ہوتا ہے کہ انہیں سوشلزم تو ناکام نظر آتا ہے مگر پاکستان میں سرمایہ داری کامیاب نظر آتی ہے۔

فاروق سلہریا روزنامہ جدوجہد کے شریک مدیر ہیں۔ گذشتہ پچیس سال سے شعبہ صحافت سے وابستہ ہیں۔ ماضی میں روزنامہ دی نیوز، دی نیشن، دی فرنٹئیر پوسٹ اور روزنامہ پاکستان میں کام کرنے کے علاوہ ہفت روزہ مزدور جدوجہد اور ویو پوائنٹ (آن لائن) کے مدیر بھی رہ چکے ہیں۔ اس وقت وہ بیکن ہاوس نیشنل یونیورسٹی میں اسسٹنٹ پروفیسر کے طور پر درس و تدریس سے وابستہ ہیں۔