پاکستان

ہاؤسنگ سوسائٹیاں قومی خزانے کو اربوں کا نقصان پہنچا رہی ہیں (پہلا حصہ)

رانا سیف

پاکستان بالخصوص پنجاب میں نئی رہائشی کالونی کی منظوری کے لئے بہت سخت قواعد وضوابط نافذ ہیں۔ تاہم اس کے باوجود عام آدمی کے ساتھ ڈویلپر دھوکہ دہی کرے تو مجھے یہ کہنے میں کوئی عار نہیں کہ اس کا ذمہ دار منظوری دینے والا متعلقہ محکمہ ہے۔

آج ہمارا موضوع کالونی آباد ہونے کے بعد ڈویلپر کی جانب سے رہائشیوں سے ایک سرکاری محکمہ کے طور پر لوٹ مار کر کے اربوں روپے جمع کرنے اور قومی خزانہ کو نقصان پہنچانے سے متعلق ہے۔

قواعد و ضوابط کے مطابق اگر کوئی ڈویلپر، لمیٹڈ کمپنی یا کوآپریٹو سوسائٹی کسی بھی ہاؤسنگ اتھارٹی یا بلدیاتی ادارے کو نئی رہائشی سکیم کے لئے درخواست جمع کروائے، تو اس کے لئے ضروری ہے کہ درخواست گزار زمین کی ملکیت کے تصدیق شدہ ثبوت فراہم کرے۔ وہ اس بات کو بھی یقینی بنائے گا کہ اس کی زمین ہر قسم کی مقدمہ بازی اور قانونی موشگافیوں سے پاک ہے۔ درخواست کی وصولی کے بعد منظوری دینے والا محکمہ زمین کی ملکیت اور اس پر کسی قسم کا اعتراض نہ ہونے کو یقینی بنانے کے لئے منصوبہ میں شامل زمین کے مربع نمبرات، خسرہ نمبرات، کھیوٹ و کھتونی نمبرات کا اخباری اشتہار جاری کرے گا۔ اگر 30 دن میں کسی قسم کا کوئی اعتراض موصول نہ ہو، تو پھر محکمہ دیگر متعلقہ محکموں مثلاً سوئی گیس، واسا، محکمہ مال، محکمہ ماحولیات، لیسکو وغیرہ سے این او سی کے حصول کے لئے درخواست گزار کو خط جاری کرے گا۔ یہ تمام این او سی حاصل کرنے کے بعد دیگر نقشہ کالونی، سیوریج، سڑکوں، گلیوں، بجلی کی تنصیبات، واٹر سپلائی اور دیگر تکنیکی اور فنی منظوریوں کے لئے عمل کا آغاز کر دیا جاتا ہے۔

تمام پیپر ورک کے مکمل ہونے کے بعد ڈویلپر کو سوسائٹی میں مختلف مقاصد، مثلاً گلیوں، سڑکوں، پارکوں یا کھلی جگہ، مفاد عامہ کی عمارتوں، قبرستان، واٹر سپلائی، سالڈ ویسٹ مینجمنٹ اور ڈسپوزل پمپ کے لئے مختص زمین کو منظوری دینے والے محکمہ کے نام انتقال کروانے کی ہدایت جاری کی جاتی ہے۔ جیسے ہی زمین متعلقہ سرکاری محکمہ کے نام پر انتقال کروا دیا جائے گا، تو ڈویلپر کو این او سی جاری کر دیا جاتا ہے۔ ساتھ ہی اسے پلاٹس کی خرید و فروخت کی اجازت مل جاتی ہے۔

بد قسمتی سے عموما ًایسا نہیں ہوتا ہے بلکہ ڈویلپر بد عنوان سرکاری اہلکاروں کی ملی بھگت سے درخواست جمع کروانے کے فوری بعد پلاٹس کی فروخت شروع کر دیتا ہے اور بعد ازاں فراڈ کر کے بھاگ جاتا ہے۔ قواعد و ضوابط کے مطابق کسی بھی کالونی میں کم از کم گلی کی چوڑائی 30 فٹ ہوتی ہے۔ اس اصول کے مطابق کم از کم 29 فیصد جگہ گلیوں، 7 فیصد پارکس، دو فیصد قبرستان، ایک فیصد مفاد عامہ، کالونی کے حجم کے مطابق سالڈ ویسٹ مینجمنٹ کا پلاٹ، واٹر سپلائی کے لئے کم از کم دس مرلہ اور ضرورت کے مطابق گندے پانی کے نکاس کے لئے درکار ڈسپوزل پمپ کی جگہ حکومت کے نام وقف کیا جانا لازم ہے۔ اس کے علاوہ فروخت کے لئے پیش کئے جانے والے 20 فیصد پلاٹ منظوری دینے والے سرکاری محکمہ کے پاس گروی رکھے جائیں گے، تاکہ ڈویلپر ترقیاتی کام مکمل کروائے بغیر منصوبہ کو چھوڑ نہ جائے۔

حکومتی منظوری اور این او سی کے اجرا کے بعد سرکاری جگہ پر بجلی، پانی، گیس، فٹ پاتھ، سڑک، غرضیکہ جو بھی ترقیاتی کام کیا جائے گا، وہ سرکاری ملکیت میں از خود شامل ہو جائے گا۔ ڈویلپر اس بات کا بھی پابند ہوتا ہے کہ وہ گلیوں، سڑکوں، پارک، قبرستان، واٹر سپلائی، سیوریج، بجلی اور دیگر ہر قسم کے ترقیاتی کام مکمل کرے گا۔ اگر وہ ایسا نہیں کرتا ہے، تو گروی رکھے گئے 20 فیصد پلاٹ فروخت کر کے حکومت ترقیاتی کام مکمل کروانے کی پابند ہو گی۔

بہت سی ہاؤسنگ سوسائٹیاں ان قوانین کی خلاف ورزی کر رہی ہیں۔ یہ خلاف ورزی حکومتی اداروں کی ملی بھگت سے ہوتی ہے۔ ایسی بدعنوانیوں کو روکنے کے لئے ضروری ہے کہ شہری بھی باخبر ہوں اور جب تک لوگ بطور سارفین منظم ہو کر ان بد عنوانیوں کو نہیں روکیں گے، یہ سلسلہ چلتا رہے گا۔

سب سے اہم بات: شہریوں کی مناسب رہائش فراہم کرنا ریاست کی ذمہ داری ہے۔ ایک طرف ریاست نے اس کام سے ہاتھ کھینچ رکھا ہے، دوسری جانب سرمایہ داروں کو کھلی چھوٹ دے دی گئی ہے کہ وہ جس طرح چاہیں، ہاؤسنگ سوسائٹیوں کے نام پر اس ملک کے عوام اور ماحولیات کا استحصال کریں۔

جاری ہے…

سیف الرحمن رانا لاہور میں مقیم سینئیر صحافی ہیں۔ وہ لاہور کے مختلف اردو اخباروں سے وابستہ رہ چکے ہیں۔ ان دنوں وہ یوٹیوب چینل ’دیکھو‘ سے وابستہ ہیں۔