خبریں/تبصرے

مالکانہ حقوق تحریک کا جلسہ: مکانات گرانے بند کرنے، مہنگائی ختم کرنے کے مطالبات

لاہور (جدوجہد رپورٹ)ہربنس پورہ نواں پنڈ، کچی آبادی میں مالکانہ حقوق تحریک کے زیر اہتمام رہائشیوں کو قبضہ گیرقرار دیئے جانے، مکانات گرانے کا سلسلہ بند کرنے، پٹرولیم، گیس اور بجلی کی قیمتوں میں کئے گئے اضافے کو واپس لئے جانے جیسے مطالبات کے گرد احتجاجی جلسہ عام کا انعقاد کیا گیا۔

ہفتہ کی رات منعقدہ کئے گئے جلسہ میں ہربنس پورہ نواں پنڈ، کچی آبادی اور لاہور سے سیکڑوں لوگوں نے شرکت کی۔

جاری کی گئی پریس ریلیز کے مطابق جلسہ سے خطاب کرتے ہوئے حقوق خلق پارٹی کے رہنما فاروق طارق نے مطالبہ کیا کہ ہربنس پورہ کے رہاشیوں کو قبضہ گیر کہنا بند کرو، پولیس کے ہمراہ کرینیں لا کر عوام کے مکانات گرانے بند کرو اور پٹرولیم، گیس اور بجلی کی قیمتوں میں اضافہ فوری واپس لو۔

انہوں نے کہا کہ ہربنس پورہ میں کسی جگہ بھی قبضہ نہیں کیا گیا۔ زمینیں مقامی کسانوں سے خریدی گئیں جو صدیوں سے اس علاقہ میں کاشتکاری کر رہے تھے۔ ان کے پاس زمین کی ملکیت کے کوئی کاغذات نہ تھے۔ مختلف حکومتوں نے انہیں مالکانہ حقوق دینے کی بجائے ہربنس پورہ کی زمین کو سرکاری قرار دے کر مختلف اوقات میں پولیس آپریشن کے ذریعے درجنوں مکانات گرائے۔ ہربنس پورہ میں ہزاروں گھر آباد ہیں، جنہوں نے زمین کی قیمت پوری ادا کی ہوئی ہے۔ ان کو بے گھر کرنے کے تمام سرکاری منصوبے ناکام ثابت ہوئے ہیں۔ ہزاروں گھروں کو گرانا کسی حکومت کے بس کی بات نہیں۔ اس کا واحد حل اس علاقہ کے باسیوں کو مالکانہ حقوق دینا ہے۔

فاروق طارق نے کہا کہ تحریک انصاف کے دور میں بے شمار دفعہ پولیس نے اس علاقہ میں کرینوں کی مدد سے مکانات گرا کر دہشت بڑھائی اور یوں مکان بنانے کے لئے پٹواریوں نے اپنے ریٹ دو دو لاکھ روپے فی مرلہ تک بڑھا دئیے۔ رشوت دے دو اور مکان بنا لو، مجبور عوام اس راستہ پر چلتی رہی ہے۔ مسلم لیگ نواز دور میں بھی یہ سلسلہ جاری ہے۔ مگر اب ہم دیوار بن کر ہمارے گھروں کو گرانے والوں کے سامنے کھڑے ہوں گے۔ رشوت اور ریاستی اہلکاروں کی غنڈہ گردی کا راستہ پرامن عوامی تحریک کے ذریعے روکیں گے۔

انہوں نے کہا کہ حقوق خلق پارٹی کی عوام بچاؤ تحریک کا آغاز ہربنس پورہ سے ہوا ہے۔ تمام محنت کش علاقوں میں ایسے عوامی اجتماعات کا آغاز کریں گے۔

حقوقِ خلق پارٹی کے رہنما مزمل کاکڑ نے کہا گزشتہ کئی دہائیوں سے پاکستان میں رہنے والے بیشتر عوام غربت کی لکیر سے نیچے گزار رہے ہیں۔ اس کی ایک وجہ حکمران جماعتوں اور ریاستی پالیسیوں کی وجہ سے عام عوام پر ٹیکسوں، بلوں اور بیروزگاری کی صورت میں ہر آئے دن نئی استحصالی پالیسیاں مسلط کرنا ہے۔ دوسری جانب اس ملک کے امیر افراد اور سرمایہ دار طبقے کو ہر آئے دن نئی سے نئی مراعات اور سہولیات دے کر پاکستان کی پہلے سے دولت یافتہ اشرافیہ کو اور مضبوط بنایا جا رہا ہے۔

حیدر بٹ ایڈووکیٹ نے کہا کہ موجودہ حکومت نے بھی تحریک انصاف کے نقش قدم پر چلتے ہوئے پٹرول، بجلی اور دیگر چیزوں کی قیمتوں میں ہوشربا اضافہ کیا جس کے بعد عام لوگوں کی بنیادی ضروریات تک رسائی بھی ناممکن ہو چکی ہے۔ پورا پاکستان در حقیقت دو حصوں میں تقسیم ہو چکا ہے۔ جہاں ایک طرف اشرافیہ کی بڑی بڑی ہاؤسنگ سوسائٹیوں والے علاقوں میں بڑے بڑے گھروں میں رہنے والے افراد ہیں، جو اپنے بچوں کو مہنگے تعلیمی اداروں میں پڑھاتے ہیں، بڑے شاپنگ مالوں اور مہنگی مارکیٹوں سے کپڑے اور جوتے خریدتے ہیں اور بڑی بڑی جدید گاڑیوں میں گھومتے پھرتے ہیں۔

ناصر اقبال نے اپنے خطاب میں کہا کہ ایک پاکستان ایسا بھی ہے، جو گاؤں، قصبوں، محلوں اور کچی آبادیوں میں رہنے والے افراد پر مشتمل ہے۔ ان علاقوں میں رہنے والے آپ جیسے لوگ بجلی، صحت، رہائش، صاف پانی، تعلیم اور روزگار جیسے حقوق سے بالکل محروم ہیں۔ اس ملک کے حکمران اشرافیہ نے ان غریبوں کی آبادیوں کو آلودگی، بیماریوں اور غربت کے کارخانوں میں بدل کر رکھ دیا ہے۔

جلسہ سے عائشہ احمد، ڈاکٹر عالیہ حیدر، محبہ احمد، حیدر بٹ ایڈووکیٹ، حافظ اسرار، بابا وحید چکی والا، ناصر اقبال، میاں شاہد، بابا رفیق، مزمل کاکڑ اور دیگر نے خطاب کیا۔