پاکستان

حقیقی آزادی کی جدوجہد

سبحان عبدالمالک

نئے پاکستان کا خواب دکھا کر قتدار میں آنے والے تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان کو اقتدار سے بے دخلی کے بعد اچانک یہ خیال آیاکہ پاکستان تو آزاد نہیں ہے، اس لیے حقیقی آزادی کی جنگ ضروی ہے۔

آج کل عمران خان حقیقی آزادی کی جنگ میں مصروف عمل ہیں، لیکن یہ بتانے سے قاصر ہیں کہ وہ یہ جنگ کس کے خلاف لڑ رہے ہیں اور کس طبقے کی آزادی کی کے لیے لڑ رہے ہیں۔ مزدوروں، کسانوں، خواتین، مظلوم قوموں اور دیگر جبر کاشکار مظلوم عوام کی آزادی سے تو ان کو کوئی سروکار نہیں ہے، جس کی واضح مثال پونے 4 سال کے دور اقتدار میں تحریک انصاف کی حکومت کے عالمی مالیاتی اداروں، مقامی حکمران طبقے اور فوجی اشرافیہ کی خوشنودی کے لیے محنت کشوں، طلبہ اور مظلوم قومیتوں پر مسلسل ریاستی جبر اور معاشی حملے رہے ہیں، جن کو ملکی مفاد کے لیے لازمی قرار دیا جاتا رہا ہے۔ قومی اداروں کی نجکاری اور جبری برطرفیوں کے ذریعے ہزاروں محنت کشوں کو بے روزگار کر کے ان سے اجرتی غلام کی حیثیت سے زندہ رہنے کی آزادی بھی چھین لی گئی تھی۔ حقیقی آزادی کی جنگ لڑنے والوں نے اپنے دور اقتدار میں ہر ایک جمہوری آزادی کا گلہ گھونٹنے کی کوشش کی اور ہر مخالف آواز کو جبر کے ذریعے دبانے میں اپنا جابرانہ کردار ادا کرتے ہوئے اپنی اصلیت دیکھائی۔

کرپشن کے خلاف جنگ کی حقیقت کو بھی ایک کے بعد دوسرا کرپشن کا سکینڈل کھول رہا ہے، جس کی تفصیل بیان کی جائے تو مضمون کی بجائے کتاب کی ضرورت ہے۔ ویسے بھی تحریک انصاف کی لیڈر شپ کی اکثریت مافیائی نودولتیوں سے تعلق رکھتی ہے، یہ کالے دھن سے وابستہ ایسے افراد کا ٹولہ ہے، جو افغان ڈالر جہاد کے بعد پاکستان میں پروان چڑھنے والی کالی معیشت پر پروان چڑھا ہے۔ ان میں ریٹائرڈ جرنیلوں کے قریبی رشتے داروں اور امریکی گماشتوں کی بڑی تعداد شامل ہے، جن کو امریکی سامراج کی تشکیل کردہ کالی معیشت نے راتوں رات امیر بنا دیا۔ عمران خان کا منشیات، اسلحے، سمگلنگ اور زمینوں پر قبضے سے وابستہ مافیا کی فوج کو لے کر کرپشن کے خلاف جہاد سے بھونڈا مذاق کوئی اور نہیں ہو سکتا۔

اشرفیہ کے خلاف جنگ لڑنے کے دعوے کرنے والے عمران خان نے پارٹی کے عہدوں سمیت سب سے زیادہ مراعات اور اہم وزاتیں جاگیرداروں، سرمایہ داروں اور ریٹائرڈ جرنیلوں پر مشتمل اس اشرافیہ کے ٹولے کو دیتے ہوئے مہنگائی اور نجکاری کے ذریعے محنت کشوں کا خون نچوڑ کر اس طبقے کو خوب نوازا۔

اقتدار ہاتھ سے نکل جانے کے بعد عمران خان کو یہ احساس ہوا کہ پاکستان ایک آزاد اور خود مختار ملک نہیں ہے، اس کی خارجہ پالیسی کا تعین امریکہ کرتا ہے۔ اس بات میں کسی قسم کے شک کی کوئی گنجائش نہیں ہے، واقعی ایساہی ہے، لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ایسا کیوں ہے؟

اس بات کا جواب عمران خان اور ان کے پیروکار دینے سے قاصر ہیں۔ سامراجیت کے عہد میں جب دنیا کی معیشت اور تجارت پرامریکی سامراج اور دیگر سامراجی ممالک کی پشت پناہی سے چند ملٹی نیشنل کمپنیوں کی اقوامِ متحدہ جیسے عالمی سامراجی اداروں کے ذریعے اجاراداری قائم ہو، تو سرمایہ داری کے اندر رہتے ہوئے کوئی ملک کیسے خود مختار ہو سکتا ہے؟

لاغر مقامی سرمایہ دار اور ریاستی اشرافیہ کے اشتراک سے وجود میں آنے والے حکمران طبقے کے ساتھ مل کر کیسے حقیقی آزادی کی جدوجہد کی جا سکتی ہے، جسکی تکنیکی پسماندگی اور تاریخی متروکیت کی وجہ سے اپنے وجود کو قائم رکھنے کی واحد شرط سامراجی دلالی ہے؟

دوسری عالمی جنگ کے بعد انقلاب کے بغیر مقامی حکمران اشرافیہ اور ان کے آقاؤں کے درمیان مذاکرات کے نتیجے میں جو ریاستیں وجود میں آئیں، وہ بظاہر تو آزاد ریاستیں ہیں، مگر درحقیقت یہ جدید نو آبادیاتی ریاستیں ہیں، جن کی معیشت کو سامراجی ممالک تجارتی قوانین، آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک جیسے مالیاتی اداروں کے ذریعے کنٹرول کرتے ہیں۔

دوسری عالمی جنگ کے بعد سامراجی طاقتوں نے محض لوٹ کھسوٹ کا طریقہ تبدیل کیا ہے۔ براہئ راست قبضے کی جگہ مقامی فوجی اور سول حکمران اشرافیہ کے ذریعے پسماندہ ممالک کے قدرتی وسائل اور انسانی محنت پر قبضے کو برقرار رکھا ہے۔ پاکستانی ریاست کا وجود بھی کسی قومی آزادی کی تحریک کے نتیجے میں نہیں، بلکہ سامراجی مفادات کے تحت عمل میں آیا تھا۔ برصغیر کی تقسیم کرنے کے لیے برطانوی سامراج نے مقامی حکمران اشرافیہ کے ذریعے مذہبی منافرت پھیلا کر 27 لاکھ معصوم انسانوں کا قتل عام کیا۔ یہ قتل عام حقیقی آزادی کی جدوجہد کو روکنے کے لیے کیا گیا، جو محض سامراجی قبضے کے خلاف نہیں تھی بلکہ سرمایہ دارانہ نظام کے خلاف اس خطے کے محنت کشوں اور نوجوانوں کی جدوجہد تھی، جسے مذہبی فرقہ وارانہ فسادات کے ذریعے ختم کیا گیا۔ مقامی حکمران طبقات نے مذاکرات کے ذریعے جوآزادی حاصل کی، اس نے سرمایہ دارنہ استحصال اور سامراجی لوٹ کھسوٹ کو تحفظ فراہم کیا۔

حقیقی آزادی کی جدوجہد، جو سامراجی غلامی اور سرمایہ دارانہ استحصال کے خلاف تھی، کے حصول کے لیے برصغیر کے ہزاروں نوجوانوں اور محنت کشوں نے اپنی جانوں کی قربانی دی، جسے ان ریاستوں کے حکمران طبقات نے تاریخ کے اوراق سے مکمل مٹانے کی ہر ممکن حد تک کوشش کی ہے۔

بھگت سنگھ جیسے نوجوانوں کا نام لینے کی جرأت عمران خان سمیت حکمران طبقے کا کوئی فرد نہیں کر سکتا، جو جوانی میں برطانوی سامراج کے خلاف جدوجہد کرتے ہوئے اپنی جان قربان کر گئے۔ بھگت سنگھ نے کہا تھا ”ہمیں ایسی آزادی نہیں چاہیے، جہاں انگریز حکمرانوں کی جگہ مقامی اشرافیہ لے لے۔ ہمیں ایسی آزادی نہیں چاہیے جس میں غلامی اور استحصال پر مبنی یہ بوسیدہ نظام قائم رہے۔ ہماری لڑائی ایسی آزادی کے لیے ہے، جو اس ظالمانہ نظام کو ایک سوشلسٹ انقلاب کے ذریعے بدل کے رکھ دے۔“

برصغیر سے انگریز حکمران تو چلے گے مگران کی جگہ مقامی اشرافیہ نے لے لی، سامراجی لوٹ، استحصال اور غلامی پر مبنی نظام آج بھی قائم ہے۔ آج بھی اس خطے کے غریب عوام بیروزگاری، غربت،جہالت، محرومی کی ذلتوں میں غرق ہیں۔

اس خطے میں تمام بڑی سیاسی پارٹیاں، چاہے وہ مذہبی ہوں یا سیکولر، استحصالی نظام پر یقین رکھتی ہیں۔ مذہبی دائیں بازو کا تاریخی کردار سامراج مخالف لفاظی کے ذریعے سامراجی مفادات کے محافظ کا رہا ہے۔ آج ان مذہبی جماعتوں کے طریقہ واردات کو عمران خان اور ساتھی اپنی ناکامی کو چھپانے کے لیے استعمال کر رہے ہیں۔

عمران خان کی سامراج مخالفت اتنی ہی مصنوعی ہے، جتنی نواز لیگ کی اسٹیبلشمنٹ مخالفت تھی۔ پاکستان میں ہر آنے والی حکومت اپنی ناکامی کی ذمہ دار ماضی کی حکومتوں کو ٹھہراتی ہے اور ماضی میں اقتدار میں آنے والی پارٹیاں موجودہ حکومت کی ناکامیوں کو اپنی کامیابی قرار دیتی ہیں، لیکن ان میں سے کوئی بھی پارٹی اس نظام کی ناکامی کا نام لینے کو تیار نہیں۔ اس نظام میں اقتدار میں آنے والی ہر حکومت پہلے سے زیادہ ناکام اور نامرادثابت ہو گی۔ عمران خان اور ساتھی پاکستانی قوم پرستی کے رجعتی جذبات کو ابھار کر قومی غیرت اور مذہبی تعصب کے ذریعے قوم کو یکجا کرنے کی بات کرتے ہیں لیکن آئی ایم ایف کے قرضوں کو ضبط کرنے کی بات زبان پر لانے کی جرأت کبھی نہیں کر سکتے۔ وہ خود کو اشرافیہ کا مخالف ضرور گردانتے ہیں لیکن جاگیرداروں اور سرمایہ داروں کی ملکیت کو قومی تحویل میں لینے کا تصور بھی نہیں کر سکتے۔ کیوں کہ وہ خود اسی اشرافیہ اور سامراجی نظام کی نمائندگی کرتے ہیں، جس کے خلاف اس خطے کے محکوم عوام نے حقیقی آزادی کی لڑائی لڑنی ہے۔ سامراجی نظام کے خلاف حقیقی آزادی کی لڑائی پاکستانی قوم پرستی کی بنیاد پر نہیں بلکہ مزدوروں کے بین الااقوامی سوشلسٹ نظریات کی بنیاد پرہی لڑی اور جیتی جا سکتی ہے۔

سبحان عبدالمالک طالبعلم رہنما ہیں اور جموں کشمیر نیشنل سٹوڈنٹس فیڈریشن کے سابق ضلعی چیئرمین رہ چکے ہیں۔