پاکستان

پاکستانی سرمایہ داری کا تاریخی بحران

عمران کامیانہ

پچھلے کئی دن پاکستان کی معیشت کے کچھ بنیادی اشاریوں کو تاریخی حوالے سے کھوجتے اور پھر انہیں گرافوں میں ڈھال کے اقتصادی پیشرفت کی سمت کا تعین کرتے ہوئے گزرے۔ کچھ ڈیٹا عالمی اداروں سے نسبتاً آسانی سے میسر تھا جبکہ کچھ اعداد و شمار کے لئے پاکستان کی حکومتی دستاویزات کھنگالنی پڑیں۔ سر کھپائی کی اس مشق سے برآمد ہونے والے نتائج میں دوستوں کے ساتھ شیئر کر رہا ہوں۔

اس کا مقصد دوستوں کے سامنے انتہائی آسان انداز میں پاکستانی سرمایہ داری کے معاشی بحران کی وضاحت کرنا ہے۔

نوٹ

تجزئیے کے لئے 1981ء سے 2021ء تک کے چالیس سالوں کا انتخاب کیا گیا ہے۔ جس کی وجوہات کچھ یوں ہیں:

1) 80ء کی دہائی پاکستانی معاشرت اور سیاست کے ساتھ ساتھ معیشت میں بھی بڑی تبدیلی کی عکاسی کرتی ہے جس میں بھٹو دور کی نسبتاً بائیں بازو کی معاشی پالیسیوں کے بعد معیشت کو دوبارہ دائیں طرف موڑنے کے عمل کا آغاز کیا گیا۔

2) عالمی سطح پر اس عرصے کو نیولبرل معاشی پالیسیوں کی باقاعدہ شروعات کے طور پر دیکھا جا سکتا ہے۔ اگرچہ یہ عمل غیر رسمی طور پر اس سے کچھ سال پہلے شروع ہو چکا تھا تاہم رونلڈ ریگن 81ء میں برسر اقتدار آیا۔ تقریباً اسی عرصے میں برطانیہ میں مارگریٹ تھیچر اقتدار میں آئی۔

3) ویسے بھی زیادہ پرانے ڈیٹا کا حصول مشکل سے مشکل تر ہوتا جاتا ہے۔ 80ء کی دہائی کا ڈیٹا بھی مشکل سے ہی ملتا ہے لیکن اس سے پیچھے کے اعداد و شمار نکالنا بہت محنت طلب اور بعض صورتوں میں ناممکن کام ہے۔

یوں ملکی و عالمی سطح پر ان گہری سیاسی تبدیلیوں کی شروعات سے آج تک کے تقریباً چالیس سال کے معاشی جمع حاصل کا تجزیہ کرنا ضروری ہے۔ تاہم بعض صورتوں میں مجھے81ء تک کا ڈیٹا نہیں ملا۔ ایسے میں کوشش کی گئی ہے کہ ماضی میں جہاں تک کا بھی ڈیٹا میسر ہو، تجزئیے میں لایا جائے۔

ہر گراف میں نظر آنے والا خط مستقیم دراصل ’ٹرینڈ لائن‘ ہے جو اشارئیے کے عمومی رجحان کی نشاندہی کرتی ہے۔

گرافوں کی مختصر وضاحت

گراف نمبر 1: معیشت میں بچتوں (Savings) کی شرح جو تاریخی طور پر کمی کا شکار ہے۔ جس کی بنیادی وجہ یہاں اندھی کھپت پہ مبنی معاشی ماڈل کا مسلط کیا جانا ہے جو عالمی سرمایہ داری کے موجودہ نیو لبرل مرحلے سے مطابقت رکھتا ہے۔ یاد رہے کہ ترقی پذیر ممالک میں یہ بچتیں سرمایہ کاری کی شرح کے تعین میں کلیدی کردار ادا کرتی ہیں۔ دستیاب بچتوں اور مطلوبہ سرمایہ کاری کے درمیان خلیج پسماندہ سرمایہ دارانہ نظاموں کے بنیادی مسائل میں شامل ہے جو فارن ایکسچینج کی قلت، جس کا ذکر آگے گراف نمبر 6 میں ہے، کے ساتھ مل کے مشہور زمانہ ’دوہرے خلا‘ (Dual Gap) کو جنم دیتی ہے(ڈیٹا بحوالہ ورلڈ بینک)۔

 

گراف نمبر 2: معیشت میں سرمائے کی تشکیل یا سرمایہ کاری کی شرح جو تاریخی طور پر زوال پذیری کا شکار ہے۔ ترقی پذیر ممالک میں یہ سرمایہ کاری معاشی ترقی و پھیلاؤ کے لئے ناگزیر ہوتی ہے (ڈیٹا بحوالہ ورلڈ بینک)۔

گراف نمبر 3: معیشت میں ترقیاتی اخراجات کی شرح جو تاریخی کمی سے دوچار ہے۔ یہ ترقیاتی اخراجات سماجی و مادی انفراسٹرکچر کی تعمیر میں کلیدی حیثیت رکھتے ہیں۔ اسی انفراسٹرکچر کے اوپر پھر پیداواری و تجارتی سرگرمیاں استوار ہوتی ہیں۔ پاکستان میں انفراسٹرکچر جس زبوں حالی اور بوسیدگی سے دوچار ہے اس کی بنیادی وجہ ان ترقیاتی اخراجات کا انتہائی ناکافی ہونا ہے (ڈیٹا بحوالہ وزارت خزانہ)۔

گراف نمبر 4: معیشت میں ٹیکس ریونیو کی شرح جو تاریخی طور پر گراوٹ کا شکار ہے۔ ٹیکس آمدن میں یہ کمی جہاں مالیاتی خساروں کا ماخذ ہے وہاں کالی معیشت کے پھیلاؤ اور ریاست کی معیشت پر کمزور پڑتی گرفت کی غمازی بھی کرتی ہے (ڈیٹا بحوالہ ورلڈ بینک، گراف بذریعہ ’ٹریڈنگ اکنامکس‘)۔

گراف نمبر 5: جی ڈی پی گروتھ یا مجموعی معاشی ترقی کی شرح جس میں تاریخی زوال پذیری کا رجحان واضح ہے۔ حالیہ عرصے میں آبادی میں اضافے اور قرضوں پر سود کی ادائیگی کو مدنظر رکھا جائے تو معیشت عملاً سکڑاؤ کا شکار ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ آبادی کے بڑے حصے کی آمدن درحقیقت گر رہی ہے (ڈیٹا بحوالہ ورلڈ بینک)۔

گراف نمبر 6: بیلنس آف پیمنٹ یا کرنٹ اکاؤنٹ کی کیفیت (ارب ڈالر میں)، یعنی ملک میں کتنے ڈالر آ رہے ہیں اور کتنے یہاں سے باہر جا رہے ہیں۔ گراف سے واضح ہے کہ کرنٹ اکاؤنٹ مسلسل خسارے سے دوچار ہے اور یہ خسارہ بڑھتا جا رہا ہے۔ جس سے واضح ہوتا ہے کہ ملکی معیشت خود کچھ پیدا کرنے سے قاصر ہے، درآمدات پر منحصر ہے اور برآمدات روبہ زوال ہیں۔ یہ وہ بنیادی وجہ ہے جس کی وجہ سے بار بار آئی ایم ایف کے پاس جانا پڑتا ہے (ڈیٹا بحوالہ ورلڈ بینک)۔

گراف نمبر 7: مجموعی حکومتی/ریاستی قرضے (اندورنی و بیرونی) کی کل ملکی معاشی حجم سے شرح جس میں طویل عرصے میں گردشی یا ’سائیکلک‘ رجحان کے ساتھ اضافہ ہو رہا ہے۔ یہ گردشی رجحان بنیادی طور پر آئی ایم ایف کے سٹرکچرل ایڈجسمنٹ پروگراموں کی وجہ سے ہے جن کے ذریعے بار بار دیوالیے کے دہانے پہنچ جانے والی معیشت کو بچایا جاتا ہے۔ لیکن اس کی قیمت عام لوگ بالخصوص محنت کش طبقات کھپت میں کمی اور غربت و تنگی میں اضافے کی صورت میں ادا کرتے ہیں۔ علاوہ ازیں آئی ایم ایف کے پروگرام طویل عرصے میں معیشت کے بنیادی تضادات کو حل کرنے سے قاصر نظر آتے ہیں (ڈیٹا بحوالہ آئی ایم ایف)۔

نتیجہ

پاکستانی سرمایہ داری تاریخی بحران سے دوچار ہے اور ملک کو سماجی و معاشی طور پر ترقی دینے کے لئے جو دیوہیکل وسائل درکار ہیں وہ سرمایہ داری کے تحت میسر نہیں ہو سکتے۔ مذکورہ بالا اشارئیے ماضی میں بھی کسی بڑے معاشی معجزے کا پیش خیمہ نہیں تھے لیکن وقت کے ساتھ مزید ابتری کا شکار ہو گئے ہیں۔ اس کیفیت میں یہاں کسی معاشرتی و سیاسی استحکام کا قیام بھی محال ہے۔

عمران کامیانہ گزشتہ کئی سالوں سے انقلابی سیاست اور صحافت سے وابستہ ہیں۔ سیاسی معاشیات اور تاریخ ان کی دلچسپی کے موضوعات ہیں۔