شاعری

ایک نغمہ جو ہم سب پر قرض ہے!

ایمنڈا گورمن

منظوم ترجمہ: قیصر عباس

ایمنڈا گورمین، نوجوان امریکی شاعرہ اور سماجی کارکن ہیں جنہوں نے یہ نظم گزشتہ دنوں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کی ایک تقریب میں پیش کی۔ نظم عالمی برادری کو انسانیت، مساوات اور انصاف کا درس دے رہی ہے۔ اپنے اس پیغام کو’انسانیت کا پرانا نغمہ‘ قرار دیتے ہوئے وہ کہہ رہی ہیں کہ غربت، ماحولیاتی آلودگی اور طبقاتی ناانصافیوں کے خلاف آواز اٹھانے کا وقت آ گیا ہے۔ شاعرہ اس پیغام کے ذریعے دنیا بھر کے باسیوں کو دعوت دے رہی ہیں کہ وہ اکیسویں صدی کے سنگین مسائل کو سنجیدگی سے حل کرنے کی ہمت پیدا کریں۔

میں آپ سے بہتری کی استدعا کروں بھی تو کیسے؟
کہ ہمارے عہد کے عفریت
موت کے عمیق سایے
اداس موسموں کے بیوپاری
شہروں، قصبوں اور ملکوں میں
بڑھتی خوں ریزیاں
اور چار جانب پھیلی آلودگیاں
سر اٹھائے کھڑی ہیں
شاید ہم تھک گئے ہیں
اور خطرات کے گھیرے میں ہیں
اس لئے نہیں کہ ہم تعداد میں کم ہیں
اس لئے کہ بے حسی ہماری رگ و پے میں دوڑنے لگی ہے
ہم ایک دوسرے کی خوشیو ں اور غموں میں شریک نہیں
ہمیں نہیں معلوم کہ اس دنیا میں
مساوات انسانیت کی پہلی اور آخری منزل ہے
برابری کا یہ مطلب بھی نہیں کہ ہم سب ایک ہی رنگ میں رنگ جائیں
مگریہ کہ اس دھرتی کی خوش حالی ہم سب کا نصب العین قرارپا ئے۔

”اہل دانش“ تو یہی چاہیں گے
کہ لوگ غریبی کا بوجھ اٹھائے دنیا سے گزر جائیں
مگر نہیں
مفلسی اگر زندگی کا دوسرانام ٹھہری
توچپ رہنا بھی جرم سے کم نہیں۔

دھرتی ماں کے بقا کی جنگ
جو ہم نے شروع نہیں کی، اتنی آسان نہیں
لیکن یہ لڑائی اتنی کٹھن بھی نہیں
کہ ہم جیت بھی نہ سکیں
ہمیں یہ فاصلے طے کرنا ہوں گے۔

آج کا سب سے بڑا سچ یہی ہے
کہ ہم سب کا ایک ہی گھر ہے
اور اس گھر کے باسی ہم ہیں
ہم چاہیں تو ٹکڑوں میں بٹ کر چند لوگوں سے ہار مان لیں
یا شانہ بشانہ چل کر آنے والے کل کا معرکہ آج سر کر لیں
اور تاریخ ہمیں یاد رکھے
کہ وہ ہم ہی تھے جنہوں نے
ایک نئی سحر کا آغازکیا
کہو کہ جب تک ہم میں انسانیت کی ایک بھی رمق باقی ہے
امید وں کے چراغ روشن رکھیں گے۔

متحد ہوں تو ہم اس ہجوم کاحصہ نہیں رہیں گے
جو صرف سانس لینے کے لئے زندہ رہا
بلکہ اس نسل کے نام لیوا جس نے فاتح کی طرح زندگی بسر کی
چلو کچھ ایسی میراث چھوڑ جائیں
جو ہماری پہچان بن جائے۔

صرف امید کے دیے جلانا ہی کافی نہیں
ناقابل تسخیر ارادے ہماری کامیابی کی دلیل ہوں گے
تیرگی نہ ہو تو روشنی کا تصور کون کرے؟
ہماری دشواریاں ہی ہماری جدوجہدکو جنم دیں گی
یہ نغمہ نیا نہیں، مگر ایک قرض ہے ہم سب پر
جس کی ادائیگی سب پر فرض ہے
اپنے ماحول کی بہتری کے لئے
اپنے سماج کے لئے۔

آؤ دھرتی ماں کی حرمت اور حفاظت کو ہر دل کی زینت بنا دیں
اور اعلان کریں کہ ہر شخص کی قیمت
اس کے رنگ، نسل، جنس اور طبقاتی پہچان سے نہیں ہوتی
آؤ آج قسم کھائیں
کہ ہم سب انسانیت کے ایک ہی قبیلے کی کڑیاں ہیں
ہم اپنے مصائب کی رسیوں سے نہیں
اپنی مثبت سوچ کی ڈور سے بندھے ہیں۔

اس سے پہلے کہ بہت دیر ہو جائے
آؤ جاگتی آنکھوں سے ہنستی گاتی زندگی کے خواب دیکھیں
نفرتوں کے موسم میں محبتوں کے پھول بانٹیں
اپنی قسمت کے فیصلے خود کریں
اور زندگی کوچاہتوں کے دھنک رنگوں سے سنوارنے کا گر سیکھیں!