پاکستان

منافقت، موقع پرستی کا انجام نا اہلی

فاروق سلہریا

گذشہ روز الیکشن کمیشن کے ہاتھوں عمران خان کی نا اہلی ہر گز غیر متوقع نہیں تھی۔ یہ سکرپٹ ہم پہلے بھی دیکھ چکے ہیں:

نواز شریف کو 1990ء کے انتخابات میں دھاندلی کے ذریعے اقتدار میں لایا گیا۔ پیپلز پارٹی کی غداریوں اور نالائقیوں کا نتیجہ یہ نکلا کہ ایک سیاسی و نظریاتی خلا پیدا ہوا۔ پرمٹ، پلاٹ، ٹھیکوں اور نوکریوں کی سیاست کے ذریعے پنجاب کی حد تک نواز شریف نے اپنی سماجی بنیاد حاصل کر لی۔ جب نواز شریف کو لگا کہ وہ سچ مچ مقبول عام رہنما ہیں تو انہوں نے اپنے بنانے والوں سے لڑائی مول لی مگر عوام کو اس لڑائی میں شامل نہ کیا کیونکہ مقصد امیر المومنین بننا تھا نہ کہ سول بالا دستی۔ یوں جنرل مشرف کا مارشل لا لگا۔ حالات،بالخصوص 2007-08ء کی وکلا تحریک، نے انہیں ایک بار پھر موقع دیا کہ وہ وزیر اعظم بنیں۔ پھر تضادات سے بھرپور ایک لڑائی جس کا نتیجہ ان کی نا اہلی کی صورت میں نکلا۔ یہ کہانی اس قدر بوریت پر مبنی ہے کہ دہرانے کی ضرورت نہیں۔

عمران خان کو 2018ء میں دھاندلی کے ذریعے لایا گیا۔ یہ نوے کی دہائی نہیں تھی۔ تحریک انصاف پر مبنی ہائبرڈ رجیم نے ہائبرڈ رجیم کی اپنی چیخیں نکلوا دیں۔ یہ منصوبہ رول بیک کرنے کا فیصلہ ہوا۔ نواز شریف اور بھٹوخاندان تو موروثی سیاست کرتے ہیں۔ ایک کے ہاتھ سے کرسی جاتی ہے تو وہ اپنی اولاد کے لئے راہ ہموار کرنے کے لئے چپ چاپ گھر چلا جاتا ہے۔

عمران خان موروثی سیاست کی بجائے شخصیت پرستی کا نمونہ تھا۔ عمر بھی ستر سال۔ اولاد نے سیاست میں آنا نہیں۔ انتظار کے لئے زیادہ سال بچے نہیں۔ بوکھلاہٹ میں ہر ممکن طریقے سے اقتدار بچانے کی کوشش ہوئی۔ اس کا یہ فائدہ تو ضرور ہوا کہ کھوئی ہوئی مقبولیت کافی حد تک بحال ہو گئی مگر فوج ایسی بد ظن ہوئی کہ اب عمران خان کو اگلی باری بھی شائد کبھی نہ ملے۔

بلاشبہ طاقت کے اس کھیل میں سرمایہ دار سیاستدان چھوٹے مجرم ہیں کیونکہ طاقت کا سرچشمہ ’خواص ‘ ہیں۔ بہر حال ان کو بری الذمہ قرار نہیں دیا جا سکتا۔

عمران خان جس راستے سے اقتدار میں آئے وہ بے اصولی، منافقت، جمہوریت دشمنی اور عوام دشمنی پر مبنی تھا۔ وہ اس کھیل کا حصہ تھے جس کے تحت نواز شریف کو نا اہل قرار دے کر ہائبرڈ رجیم کی بنیاد رکھی گئی۔ ہائبرڈ رجیم والوں نے اپنا جونئیر پارٹنر بدل لیا ہے۔ تضادات زیادہ دیر نہیں چلتے۔ ایک دن ٹکراؤ ہوتا ہے۔ گذشتہ روز نتیجہ سامنے آیا ہے۔

افسوس اس بات کا ہے کہ اس سارے عمل میں جمہوریت کمزور ہوئی ہے۔ بڑی سیاسی جماعتیں اس سارے کھیل میں شریک رہنا چاہتی ہیں۔ اصول کی بجائے موقع پرستی کے تحت سیاست جاری رہے گی تا آنکہ ایک دن لوگ سڑکوں پر نکل آئیں گے۔

کب نکلیں گے؟ ابھی کچھ نہیں کہا جا سکتا لیکن معاشی بحرانوں کے دوران اگر چند مہینوں میں سامراجی ملک برطانیہ کی وزیر اعظم کو گھر جانا پڑ گیا ہے تو پاکستان تو مضافاتی سرمایہ داری ہے۔

اس ملک میں حقیقی جمہوریت بغیر سوشلسٹ انقلاب کے ممکن نہیں۔ یہ فریضہ محنت کش ہی ادا کریں گے۔

فاروق سلہریا روزنامہ جدوجہد کے شریک مدیر ہیں۔ گذشتہ پچیس سال سے شعبہ صحافت سے وابستہ ہیں۔ ماضی میں روزنامہ دی نیوز، دی نیشن، دی فرنٹئیر پوسٹ اور روزنامہ پاکستان میں کام کرنے کے علاوہ ہفت روزہ مزدور جدوجہد اور ویو پوائنٹ (آن لائن) کے مدیر بھی رہ چکے ہیں۔ اس وقت وہ بیکن ہاوس نیشنل یونیورسٹی میں اسسٹنٹ پروفیسر کے طور پر درس و تدریس سے وابستہ ہیں۔