پاکستان

لالہ لطیف آفریدی کا قتل: جدوجہد کا استعارہ ایک مبینہ سازش کا شکار

حارث قدیر

گذشتہ روز سابق صدر سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن عبداللطیف آفریدی (لالہ لطیف آفریدی) کو پشاور ہائی کورٹ کے بار روم میں فائرنگ کر کے قتل کر دیا گیا ہے۔ قاتل کو موقع سے ہی گرفتارکر لیا گیا ہے۔

عبداللطیف آفریدی کو زخمی حالت میں پشاور کے لیڈی ریڈنگ ہسپتال منتقل کیاگیا، تاہم وہ راستے میں ہی دم توڑ گئے۔

پولیس کے کے مطابق ملزم کی شناخت عدنان آفریدی کے نام سے ہوئی ہے۔ ایس ایس پی پولیس نے ’ڈان‘ کو بتایا کہ حملہ آور سے ایک چھوٹا ہتھیار، ایک شناختی کارڈ اور ایک اسٹوڈنٹ کارڈ برآمد ہوا ہے۔

واقعہ کو ذاتی دشمنی کا شاخسانہ ثابت کرنے کی کوشش شروع کر دی گئی ہے۔ پولیس نے بتایا کہ انہیں شبہ ہے کہ یہ حملہ ذاتی دشمنی کی وجہ سے کیا گیا ہے۔

تاہم خیبرپختونخوا کے ترقی پسند وکلا اور سیاسی کارکنوں کا خیال ہے کہ ایک منظم سازش کے تحت عبداللطیف آفریدی کو قتل کیا گیا ہے اور اب اس قتل کو ذاتی دشمنی ثابت کر نے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

گرفتار ملزم کون ہے؟

عبداللطیف آفریدی کے قتل کے الزام میں گرفتار ہونے والا ملزم عدنان آفریدی مقتول وکیل سمیع اللہ ایڈووکیٹ کا بیٹا اور خاندان کے ہمراہ قتل کئے جانے والے سابق جج آفتاب آفریدی کا بھانجا ہے۔

سابق صدر ڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشن مالاکنڈ اور سوشلسٹ رہنما غفران احد ایڈووکیٹ نے بتایا کہ عبداللطیف آفریدی اورسمیع اللہ ایڈووکیٹ دونوں ڈاکٹر شکیل آفریدی کے وکلا تھے۔ مارچ 2017ء میں سمیع اللہ ایڈووکیٹ کو نامعلوم افراد نے قتل کر دیا تھا۔ سمیع اللہ کے ورثا نے کسی کے کہنے پر قتل کا الزام عبداللطیف آفریدی پر عائد کیا اور لطیف آفریدی کے بھتیجے کو قتل کر دیا گیا۔

گزشتہ سال سوات کی انسداد دہشت گردی عدالت کے جج کے طور پر فرائض سرانجام دینے والے سیشن جج آفتاب آفریدی کو ان کی اہلیہ، بہو اور پوتے سمیت قتل کر دیا گیاتھا۔ اس قتل کا مقدمہ عبداللطیف آفریدی اور دیگر کے خلاف درج کروایا گیا۔ تاہم صوابی کی انسداد دہشت گردی عدالت نے عبداللطیف آفریدی کو اس مقدمہ میں باعزت بری کر دیا تھا۔

انہوں نے بتایا کہ ملزم عدنان آفریدی کی سوشل میڈیا پر ریاست کی طاقتور شخصیات کے ساتھ گردش کرنے والی تصاویر اور دیگر سرگرمیاں بھی یہ ظاہر کر رہی ہیں کہ اس قتل سمیت ماضی میں اس واقعہ سے جڑے ہوئے قتل کے واقعات اور مقدمات بھی ایک گہری سازش ہیں، جن پر سے پردہ اٹھایا جانا ازحد ضروری ہے۔

انکا کہناتھا کہ اس کے علاوہ یہ بات بھی ملحوظ رہنی چاہیے کہ عبداللطیف آفریدی کے قتل سے نقصان کس کا ہوا اور فائدہ کس کو پہنچ رہا ہے؟

قاتل کی اسلحہ کے ہمراہ بار روم تک رسائی

عبداللطیف آفریدی کے قتل نے پشاور ہائی کورٹ کے اندر اور بالعموم پشاور میں سکیورٹی صورتحال پر بھی کئی سوالات پیدا کئے ہیں۔

پشاور ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن نے واقع کو سکیورٹی کی ناکامی قرار دیتے ہوئے سوال اٹھایا ہے کہ ایک شخص اسلحہ کے ساتھ بار روم تک کیسے پہنچنے میں کامیاب ہوا ہے؟

یہ بات قابل ذکر ہے کہ پشاور ہائی کورٹ کے داخلی راستے پر باقاعدگی سے سخت سکیورٹی تعینات کی جاتی ہے اور لوگوں کو صرف شناختی کارڈ اور جامعہ تلاشی کے بعد ہی اندر جانے کی اجازت ہوتی ہے۔ اس کے باوجود اسلحہ سمیت ایک شخص ہائی کورٹ کے احاطے میں داخل ہوا اور وکیل نہ ہوتے ہوئے بھی بار روم تک پہنچ گیا۔

عبداللطیف آفریدی کا سیاسی سفر

عبداللطیف آفریدی پورے پاکستان میں لالہ لطیف کے نام سے جانے جاتے تھے۔ وہ کمیونسٹ رہنما، انسانی حقوق کے علمبردار اور آمریت دشمن کے طور پر اپنی ایک پہچان رکھتے تھے۔ انہیں بعد ازاں پشتون قوم پرست رہنما کے طور پر پہچان ملی اور یہی وجہ ہے کہ انہیں ایسے پہلے پشتون قوم پرست سیاستدان بھی قرار دیا گیا، جو سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن پاکستان کے صدر منتخب ہوئے۔ وہ پشتون تحفظ موومنٹ کے حامی اور خیبرپختونخوا میں پشتون تحفظ موومنٹ کے رہنماؤں کے خلاف درج تقریباً تمام ہی مقدمات کی پیروی بھی کرتے رہے۔

سیاسی جدوجہد کے دوران بالخصوص آمریتوں کے خلاف جدوجہد کے دوران متعدد مرتبہ قید و بند کی صعوبتیں برداشت کیں اور ریاستی جبر کا ڈٹ کر سامنا کرنے کے حوالے سے شہرت حاصل کی۔

ایوب خان کی آمریت کے دوران انہیں فاطمہ جناح کی حمایت کرنے پر یونیورسٹی سے نکال دیا گیاتھا۔ زمانہ طالبعلمی کے بعد انہوں نے نیشنل عوامی پارٹی (نیپ) میں شمولیت اختیار کی، بعد ازاں این ڈی پی میں شامل رہے۔ 1979ء میں وہ غوث بخش بزنجو کی زیر قیادت پاکستان نیشنل پارٹی (پی این پی) میں شامل ہوئے اور صوبہ سرحد (خیبر پختونخوا) کے صوبائی صدر بن گئے۔ 1986ء میں جب پی این پی کو عوامی نیشنل پارٹی (اے این پی) میں ضم کر دیا گیا، تو لطیف آفریدی بھی اے این پی میں شامل ہوئے اور اس کے پہلے صوبائی صدر منتخب ہوئے۔ بعد ازاں 2005ء سے 2007ء تک وہ اے این پی کے جنرل سیکرٹری بھی رہے ہیں۔

1997ء میں وہ قومی اسمبلی کے رکن بھی منتخب ہوئے۔ 30 اکتوبر 2020ء کو وہ سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن آف پاکستان کے صدر منتخب ہوئے۔ پشتون تحفظ موومنٹ کے حامی ہونے ی وجہ سے 2019ء میں لطیف آفریدی کی اے این پی سے رکنیت ختم کر دی گئی۔ اس کے بعد دو سال قبل بننے والی نیشنل ڈیموکریٹک موومنٹ (این ڈی ایم) کے بانی اراکین میں شامل ہوئے۔

بطور وکیل بھی جہاں انسانی حقوق کے مقدمات کی ہمیشہ پیروی کرتے رہے، اکثر اوقات بغیر کسی معاوضے کے ان مقدمات کی پیروی کی۔ وکلا تحریک میں بھی ایک جرأت مندانہ کردار کی وجہ سے پہچان رکھتے تھے۔

2007ء سے 2009ء کی وکلا تحریک میں سب سے آگے رہے اور اس دوران بدترین تشدد برداشت کیا اور بکتر بند گاڑی ان پر سے گزار دی گئی تھی، جس کی وجہ سے ان کی ایک ٹانگ ٹوٹ گئی تھی۔

5 مرتبہ پشاور ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدربھی رہ چکے ہیں۔

قتل کی مذمت

عبداللطیف آفریدی کے قتل کی ملک بھر کے تمام مکاتب فکر کی جانب سے شدید مذمت کی جا رہی ہے۔ سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹویٹر پر کئی گھنٹوں سے عبداللطیف آفریدی کا ہیش ٹیگ ٹاپ ٹریڈ کر رہا ہے۔

دائیں اور بائیں بازو کے سیاسی رہنماؤں، انسانی حقوق کے کارکنوں، وکلا، صحافیوں اور سماجی کارکنوں کی طرف سے لطیف آفریدی کے قتل کی شدید مذمت کی گئی ہے۔

غفران احد ایڈووکیٹ نے ’جدوجہد‘ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ’لطیف لالہ 70ء اور 80ء کی دہائی میں جدوجہد کا استعارہ تھے۔ مظلوم طبقات کی نجات کیلئے ان کی بہت طویل جدوجہد ہے۔ وہ ہمیشہ کمیونسٹ پارٹی کے رکن رہے اور بیرونی کام کیلئے وہ مختلف پارٹیوں کا حصہ رہے۔‘

انکا کہنا تھا کہ ’لالہ ایک ترقی پسند اور دیانتدار انسان تھے۔ وہ ایک بہت بلند کردار کے مالک نڈر اور بہادر شخصیت تھے۔ پورے خیبرپختونخوا اور بالعموم پورے پاکستان کے ترقی پسند نوجوانوں کیلئے وہ ایک سایہ دار درخت کی مانند تھے۔ ہمیشہ سب کی رہنمائی کی اور سہارا دیا۔‘

انکا کہنا تھا کہ ’لالہ لطیف آفریدی کے قتل سے یہ خطہ ایک جاندار آواز سے محروم ہو گیا ہے۔ وہ ہمیشہ اسٹیبلشمنٹ کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بات کرتے تھے۔ ان کے قتل سے ہونے والا خلا پر ہونا ممکن نظر نہیں آ رہا ہے۔‘

حارث قدیر کا تعلق پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے علاقے راولا کوٹ سے ہے۔  وہ لمبے عرصے سے صحافت سے وابستہ ہیں اور مسئلہ کشمیر سے جڑے حالات و واقعات پر گہری نظر رکھتے ہیں۔