پاکستان

انسداد پولیو مہم کے نام پر پشتونوں کی سٹیرئیو ٹائپنگ

حارث قدیر

پاکستان اور اس کے زیر انتظام علاقوں میں پیر کے روز سے نئے سال کی پہلی انسداد پولیو مہم کا آغاز کیا جا رہا ہے۔ ماضی کی طرح اس مرتبہ بھی ٹی وی چینلوں، سوشل میڈیا اور دیگر ذرائع سے لوگوں کو آمادہ کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے کہ وہ اپنے بچوں کو انسداد پولیو کے قطرے پلوائیں۔ ماضی کی طرح اس مرتبہ بھی اشتہار بازی میں پاکستان کی ایک مخصوص قومیت کو پولیوکے مرض کا ذمہ دار قرار دینے کی متعصبانہ کوشش کی جا رہی ہے۔

ایک تازہ اشتہار میں دکھایا جا رہا ہے کہ ایک پشتون مزدور سعودی عرب سے واپس آتا ہے تو اس کا دوست اپنے نو مولود بچے کو پولیو قطرے پلانے پر تیار نہیں حالانکہ اس کا ٹین ایجر ایک بیٹا پہلے ہی پولیو کے ہاتھوں مفلوج ہے۔ سعودی عرب سے آیا پشتون اپنے دوست کو بتاتا ہے کہ سعودی عرب میں بھی پولیو قطروں کی مدد سے پولیو پر قابو پایا گیا ہے۔ یوں مذہب کے نام پر ایک پشتون کو قائل کیا جاتا ہے (تاہم آخری روز ٹی وی چینلوں پر چلنے والے اس ویڈیو اشتہار سے سعودی عرب کا ذکر نکال دیا گیا)۔

ریاستی سرپرستی میں یوں ثابت کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے، جیسے پاکستان میں پولیو کے مرض کے پھیلاؤ کے ذمہ دار صرف پشتون عوام ہی ہیں اور پشتون عوام ہی ایسے ہیں جو بچوں کو پولیو کے قطرے نہیں پینے دینا چاہتے۔

یہ صرف ایک حالیہ اشتہار کی بات نہیں ہے، ہر سال اور ہر چند ماہ بعد ایک نیا اشتہار جاری کیا جاتا ہے، جس میں یہ ایک مخصوص پشتو لہجے میں بولنے کی ناکام کوشش کرنے والے اداکاروں کے ذریعے یہ باور کروایا جاتا ہے کہ پشتون علاقوں میں لوگ بچوں کو پولیو کے قطرے پلانے کی مخالفت کرتے ہیں اور کچھ لوگ انہیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہوتے ہیں۔

اس کے علاوہ پاکستان کے پولیو ایریڈیکشن پروگرام کے یوٹیوب چینل پر درجنوں ایسی ویڈیوز موجود ہیں، جن میں پشتون عوام کو پولیو مہم مخالف قراردیا گیا ہے۔ ’پہلا قدم‘ اور ’اڑان‘ کے نام سے دو شارٹ فلمیں بھی بنائی گئی ہیں، جن میں پشتون علاقوں میں لوگوں کی انسداد پولیو ویکسین کے خلاف مزاحمت اور پھر انہیں اس کی حمایت کرنے پر قائل کئے جانے کی کہانیاں بتائی گئی ہیں۔ پولیو سے متاثر ہونے والے نوجوانوں کے کردار بھی پشتون ہی دکھائے گئے ہیں۔

یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا صرف پشتون عوام ہی ہیں، جو پولیو کے قطروں کی مخالفت کر رہے ہیں، یا پاکستان میں کہیں اور بھی اس طرح کی سوچ اور ذہنیت پائی جاتی ہے؟ دوسرا سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا یہ مخالفت صرف پسماندگی اور جہالت کی وجہ سے ہے، یا اس میں ریاست کا بھی کوئی عمل دخل موجود رہا ہے؟

سب سے پہلی بات یہ ہے کہ پاکستا ن میں کوئی علاقہ، چاہے وہ شہری ہو یا دیہی، ایسا نہیں ہے، جہاں ایسے لوگ موجود نہ ہوں، جو انسداد پولیو ویکسین کی مخالفت نہ کر تے ہوں۔ پولیو ویکسین ہی کیوں کورونا وائرس بھی تو کل کی بات ہے، جس نے دنیا بھر میں لاکھوں زندگیوں کے چراغ گل کئے۔ کورونا ویکسین کے خلاف پاکستان میں کیا کیا سازشی کہانیاں نہیں پھیلائی گئیں؟

دوسرا یہ کہ پولیو ویکسین کی مخالفت ہو یا کورونا ویکسین مخالف مہم، اس میں صف اؤل کا کردار ان ملاں حضرات کا ہے، جنہیں ریاست مختلف طریقوں سے اس سماج پر مسلط کرنے میں ہمیشہ پیش پیش رہی ہے۔ گزشتہ دور حکومت میں ریاست مدینہ کے قیام کی خواہش میں حکمرانوں اور عسکری قیادت کیلئے گھنٹوں ٹی وی چینلوں پر دعائیں مانگنے والے مولانا طارق جمیل بھی تو پولیو ویکسین کی مخالفت کر چکے ہیں۔ بے شمار دیگر ملاں حضرات اس کے خلاف مہم چلا چکے ہیں۔ چند سال قبل پاکستان کے زیر انتظام جموں کشمیر میں ایک تحصیل مفتی کی جانب سے پولیو ویکسین پر اعتراضات کرتے ہوئے فتویٰ جاری کر دیا تھا۔ موصوف سرکاری دفتر میں سرکاری تنخواہ وصول کر رہے تھے، سوائے سخت نوٹس لئے جانے کے ان کے خلاف آج تک کوئی کارروائی نہیں ہو سکی۔

یوں یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ یہ پشتون عوام کا مسئلہ نہیں بلکہ ریاست کی ناکامی ہے۔ ضیا الحق کی آمریت کے بوئے ہوئے بیج اب ریاست کی رگ و پے میں دوڑ رہے ہیں اور خود ریاستی مشینری کے اندر پولیو مہم کی مخالفت موجود ہے۔

تیسرا یہ کہ ماضی میں انسداد پولیو ورکروں پر ہونے والے حملوں کو بنیاد بنا کر پشتون عوام کو ٹارگٹ کرنا بھی ایسا ہی ہے، جیسے دہشت گردی کو پشتون عوام کے ساتھ جوڑا جاتا ہے۔ پولیو ورکروں پر حملے کرنے والے دہشت گرد پشتون علاقوں میں موجود ہیں اور تھے، سارے پشتون نہیں تھے اور نہ ہی ہیں۔ پشتون عوام کا قصور یہ ہے کہ وہاں ریاست نے ایک سامراجی منصوبہ بندی کے تحت دہشت گردی کی فیکٹریاں قائم کی تھیں۔ صرف پاکستان کے مختلف کونوں سے نہیں بلکہ دنیا بھر سے دہشت گردوں کو وہاں پناہ گاہیں (جن کا اعتراف خود ریاست کے مختلف نمائندے کر چکے ہیں) فراہم کی گئی تھیں۔ یوں اس کی ذمہ دار بھی ریاست ہے، پشتون عوام نہیں ہیں۔

دہشت گردی ہو یا پولیو ویکسین مخالف مہم صرف سرکاری طور پر ہی اس سب کو پشتون عوام کے ساتھ منسلک نہیں کیا جاتا بلکہ اس سرکاری مہم کی وجہ سے نجی سطح پر بننے والی فلموں اور ڈراموں سمیت ثقافت کے ہر پہلو میں دہشت گردی کو بھی پشتون عوام کے ساتھ جوڑ دیا گیا ہے اور اسی طرح اب پولیو کے مرض کا ذمہ دار بھی پشتون عوام کو ہی ٹھہرانا شروع کر دیا گیا ہے۔

یہ صرف ایک محکوم قومیت تک محدود سوال بھی نہیں ہے۔ محنت کش طبقے کی تقسیم کی منظم ریاستی منصوبہ بندی سے جڑا سوال ہے۔ حکمران چاہے جس بھی قومیت کے ہوں، وہ نہ صرف ایک ہیں بلکہ ان کے مفادات اور مقاصد بھی ایک ہی ہیں۔ دوسری جانب محنت کشوں کو قوم، قبیلے، مذہب فرقے، نسل، زبان، رنگ اور دیگر تعصبات میں تقسیم کر کے ایک دوسرے کے خلاف نفرتوں کے بیج بونے کا یہ طریقہ واردات اس نظام کی بنیادی اساس ہے۔ اس سب کے بغیر نہ تو اقلیت کی حکمرانی باقی رہ سکتی ہے اور نہ ہی لوٹ مار کو جاری رکھا جا سکتا ہے۔

محنت کشوں اور نوجوانوں کی ایک طبقے کے طور پر جڑات اور یکجہتی ہی ریاست کی اس منصوبہ بندی کا خاتمہ کر سکتی ہے اور جب تک یہ نظام موجود ہے، تب تک حقیقی انسانی معاشرے کا وجود ممکن نہیں ہے۔

حارث قدیر کا تعلق پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے علاقے راولا کوٹ سے ہے۔  وہ لمبے عرصے سے صحافت سے وابستہ ہیں اور مسئلہ کشمیر سے جڑے حالات و واقعات پر گہری نظر رکھتے ہیں۔