خبریں/تبصرے

جی سی یو میں سیمینار: امیروں پر ویلتھ ٹیکس لگانے اور چھوٹ ختم کرنے کا مطالبہ

لاہور (جدوجہد رپورٹ) گورنمنٹ کالج یونیورسٹی (جی سی یو) کے بخاری آڈیٹوریم میں ویلتھ ٹیکس، عدم مساوات اور کورونا وبا کے اثرات پر سیمینار کا انعقاد کیا گیا۔ یہ سیمینار جی سی یو، ساؤتھ ایشیا الائنس فار پاورٹی ایلیویشن (SAAPE)، پاکستان کسان رابطہ کمیٹی اور آکسفیم (OXFAM) کے اشتراک سے منعقد کیا گیا تھا۔

سیمینار میں ’ایشیا پر کورونا وائرس کے اثرات‘ پر کتاب کی رونمائی کی گئی، جس میں ’ویلتھ ٹیکس‘ کا مطالبہ کیا گیا تھا۔ سیمینار سے پروفیسر ڈاکٹر اصغر زیدی (وی سی جی سی یو)، ڈاکٹر عالیہ حیدر، ڈاکٹر اکبر زیدی، مصطفی تالپور، فاروق طارق، عائشہ احمد، ڈاکٹر فہد علی اور ڈاکٹر عابد امین برکی نے خطاب کیا۔

ڈاکٹر اصغر زیدی نے تعارفی کلمات ادا کرتے ہوئے آکسفیم کو کورونا وائرس اور عدم مساوات پر کتاب کی اشاعت پر خراج تحسین پیش کیا۔ انہوں نے کورونا وبا کے دوران جی سی یو کی خدمات پر بھی روشنی ڈالی اور کہا کہ گورنمنٹ کالج یونیورسٹی میں قرنطینہ سنٹر بنایا گیا تھا، جبکہ سائیکالوجی ڈیپارٹمنٹ نے کورونا کے مریضوں کی ٹیلی کاؤنسلنگ پر کام کیا تھا۔

آکسفیم کی مہمات اور وکالت کے سربراہ مصطفی تالپور نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ کورونا کے بعد عدم مساوات میں ڈرامائی طور پر اضافہ ہوا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ کورونا کے دوران بہت سے مزدور اور عام لوگ متاثر ہوئے، انہیں بھوک اور افلاس کا سامنا کرنا پڑا اور دوسری طرف ایک چھوٹا امیر طبقہ اس سے بھاری منافع حاصل کرتا رہا۔ ایک رپورٹ کے مطابق دنیا میں 2 سال میں جو دولت بنائی گئی، اس کا 67 فیصد حصہ ایک فیصد امیر طبقے نے کمایا جبکہ 99 فیصد کو اس کا صرف 37 فیصد حصہ ملا۔ طلبہ تعلیم سے محروم رہے جبکہ ڈیجیٹل کوالٹی کے لوازمات نہ رکھنے والے تمام افراد کو بے روزگاری کی زندگی گزارنی پڑی۔

انسٹی ٹیوٹ آف بزنس ایڈمنسٹریشن کراچی کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر اکبر زیدی نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ غربت اورعدم مساوات دو مختلف چیزیں ہیں۔ دنیا بھر کی طرح پاکستان میں بھی غربت کم ہو رہی ہے، لیکن عدم مساوات میں اضافہ ہو رہا ہے، جس نے خوفناک صورتحال اختیار کر لی ہے۔ انہوں نے کہا کہ عدم مساوات نو آبادیاتی نظام کا ایک اہم ستون ہے، جو ہمارے نظام کے ڈھانچے کا حصہ بن چکا ہے۔

انکا کہنا تھا کہ عدم مساوات کی ایک اہم وجہ صنفی تعصب ہے۔ بنگلہ دیش جو ہم سے آزاد ہوا اور ہم ہمیشہ اس کی ترقی کی مثالیں دیتے ہیں، اس کی سب سے اہم وجہ یہ ہے کہ وہاں خواتین کام کرتی ہیں اور خواتین کو مساوی حقوق دیئے جاتے ہیں۔ انکا مزید کہنا تھا کہ پاکستان میں عدم مساوات کی بنیادی وجہ اقتدار میں عدم مساوات ہے، جس میں فوج، بیوروکریسی اور عدلیہ شامل ہیں۔

لاہوریونیورسٹی آف مینجمنٹ سائنسز کے پروفیسر ڈاکٹر عابد امان برکی نے کہا کہ عدم مساوات کو جانچنے کیلئے ابھی تک کوئی خاص پیمانہ نہیں ہے، کیونکہ اعداد وشمار کے نمونے کا سائز جس سے عدم مساوات کو جانچنے کی کوشش کی جاتی ہے، وہ بہت کم ہے۔ انہوں نے کہا کہ عدم مساوات ایک عالمی مسئلہ ہے، جو گزشتہ کوئی سو سالوں سے چلا آ رہا ہے۔ تاہم ایسے کئی ممالک ہیں، جنہوں نے عدم مساوات پر قابو پایا ہے، جن میں یورپی ممالک بھی شامل ہیں۔

سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے پاکستان کسان رابطہ کمیٹی کے جنرل سیکرٹری فاروق طارق نے کہا کہ مہنگائی میں اضافہ ہوا ہے۔ پیاز، آٹا، گھی اور روز مرہ کی اشیائے ضروریہ کی قیمتیں آسمان کو چھونے لگی ہیں۔ مہنگائی بے قابو ہو چکی ہے، جبکہ اس صورتحال میں خوراک کا بحران بڑھتا جا رہا ہے۔

انکا مزید کہنا تھا کہ غربت اور مہنگائی کے بعد پاکستان میں مزید تباہی موسمیاتی تبدیلیوں سے ہوئی ہے۔ انکا کہنا تھا کہ میں ’COP27‘ میں مصر گیا تھا اور ہم نے پوری دنیا کے سامنے احتجاج کیا تھا کہ ہم نے وہ گناہ نہیں کیا بلکہ ہمیں سزا دی گئی۔ ہمارے مسلسل احتجاج اور مظاہروں کے باعث بالآخر انہیں ہماری بات سننی پڑی۔ دنیا نے پاکستان کے جانی و مالی نقصان کا معاوضہ ادا کرنے کا اعلان کیا۔

یونیورسٹی کالج لاہور کی پروفیسر عائشہ احمد نے کہا کہ ٹیکس صرف غریبوں پر لگایا جاتا ہے، اس کی مختلف شکلیں ہیں اور سب سے خوفناک شکل بالواسطہ ٹیکس ہے۔ انہوں نے کہا کہ امیروں کو ٹیکس میں ریلیف اس لئے دیا جاتا ہے کہ وہ بڑے سیاستدانوں کے دوست ہیں اور سرمایہ داروں پر ٹیکس نہیں لگایا جا سکتا کیونکہ وہ الیکشن کو فنڈ دیتے ہیں۔

یونیورسٹی آف انفارمیشن ٹیکنالوجی کے ڈین فہد علی نے کہا کہ جن ملکوں میں ویلتھ ٹیکس متعارف کروایا گیا، وہاں عدم مساوات میں اضافہ نہیں ہوا۔ انہوں نے یورپ، آسٹریلیا اور دیگر ملکوں کی مثالیں دیتے ہوئے کہا کہ دوسری جنگ عظیم کے بعد ان تمام ملکوں نے ایک نیا اقتصادی معاہدہ کیا، جس کے تحت انہوں نے فیصلہ کیا کہ مغرب اب اس سیاسی، معاشی اور سماجی طریقے سے کام نہیں کرے گا، جو یہ پہلے استعمال کرتا تھا۔ اس کی وجہ ٹریڈ یونین تنظیموں، طلبہ تنظیموں اور بائیں بازو کی سیاسی جماعتوں کی جدوجہد تھی، جو عدم مساوات کے خاتمے کیلئے جدوجہد کر رہی تھیں۔