پاکستان

پاکستان نیشنل آرٹس کونسل خط اقلیتوں سے متعلق ریاستی پالیسی کا عکاس

حارث قدیر

پاکستان نیشنل کونسل آف آرٹس (این سی اے)کی جانب سے متنازعہ’یوم یکجہتی کشمیر‘ کے سلسلہ میں 3 فروری کو ایک پروگرام کا انعقاد کیا جا رہا ہے۔ اس پروگرام کیلئے دعوتی خط سوشل میڈیا پر زیر گردش اور زیر بحث ہے۔ دعوتی خط کو پاکستان کی اقلیتوں اور مذہبی فرقہ وارانہ ہم آہنگی سے متعلق ریاستی پالیسی کا عکاس قرار دیا جا رہا ہے۔

16 جنوری کو یہ خط وفاقی دارالحکومت اسلام آباد اور جڑواں شہر راولپنڈی کے تمام تعلیمی اداروں (سکولوں اور کالجوں) کے سربراہان کو لکھا گیا ہے۔ خط کے ذریعے تعلیمی اداروں کے سربراہان کو پروگرام میں ہونے والے مختلف مقابلہ جات میں حصہ لینے کیلئے طلبہ کو نامزد کرنے کے علاوہ پروگرام میں شریک ہونے کیلئے ادارہ کی ٹرانسپورٹ کے ذریعے طلبا و طالبات کو (این سی اے) بھیجنے کی درخواست بھی کی گئی ہے۔

خط کے مطابق اس پروگرام میں تقریری مقابلہ، ٹیبلوز، ملی نغمے، کشمیری ترانے اور پتلی تماشہ جیسے ایونٹس شامل ہیں۔ تاہم تقریری مقابلہ کیلئے دیا گیا عنوان اس وقت سوشل میڈیا پر زیر بحث ہے۔

یہ تقریری مقابلہ ’جنت کسی کافر کو ملی ہے، نہ ملے گی‘ کے عنوان پر منعقد کروایا جا رہا ہے۔ جموں کشمیر کو جنت ارضی قرار دیتے ہوئے ایک عرصہ سے بنیاد پرست اور عسکریت پسند تنظیموں کی طرف سے یہ دعویٰ کیا جاتا رہا ہے کہ جموں کشمیر ایک جنت ہے اور بھارت کافروں کا ملک ہے، جسے جنت کسی صورت نہیں مل سکتی۔

تاہم حکومت پاکستان بنیاد پرست اور عسکریت پسند تنظیموں سے لاتعلقی کا اعلان کرتی آئی ہے اور جموں کشمیر میں بسنے والے تمام مذاہب اور قومیتوں کے حق خودارادیت کا وکیل ہونے کا دعویٰ کرتی آئی ہے۔

دوسری جانب سرکاری سرپرستی میں اس طرح کے عنوانات پر پروگرامات کا انعقاد بھی کروایا جاتا رہا ہے۔ نوجوانوں اور طالبعلموں کی ذہن سازی بھی اسی طرز پر کئے جانے کی ایک لمبی تاریخ موجود ہے۔

سوشل میڈیا پر اس فقرے کو پاکستان میں رہنے والی مذہبی اقلیتوں سے متعلق ریاستی پالیسی کا عکاس بھی قرار دیا جا رہا ہے۔

راولپنڈی اسلام آباد سمیت پاکستان کے مختلف شہروں میں کام کرنے والی ترقی پسند طلبہ تنظیم پروگریسیو سٹوڈنٹس فرنٹ (پی آر ایس ایف) کی جانب سے اس خط کو ٹویٹر پر شیئر کرتے ہوئے اس اقدام کی مذمت کی گئی ہے۔ تنظیم نے لکھا ہے کہ ’یہاں جو زبان استعمال کی گئی ہے وہ مذہبی اقلیتوں کیلئے انتہائی پریشان کن اور غیر حساس ہے۔‘

تنظیم کی جانب سے قومی ثقافتی ادارے کی جانب سے اس طرح کے اقدام کی مذمت کی ہے، جو معاشرے کو متنوع بنانے کا دعویٰ کرتا ہے۔ ٹوئٹر تھریڈ میں لکھا گیا ہے کہ ’ہمارا ماننا ہے کہ یہ دائیں بازو اور رجعت پسندوں کی طرف سے اقلیتوں کیلئے معاشرے میں بڑھتی ہوئی عدم برداشت کی عکاسی ہے۔ ریاستی اداروں کی طرف سے اس بیانئے کو معمول بنایا جا رہا ہے۔ اگر ان کی طرف سے یکجہتی ضروری ہوتی تو وہ کشمیر کے لوگوں کی آواز پر توجہ دیتے، جو خوراک کی بلند ترین مہنگائی، بجلی اور گیس کی کمی کے خلاف سڑکوں پر احتجاج کر رہے ہیں اور تشدد کا سامنا کر رہے ہیں۔‘

مزید لکھا گیا کہ ’ریاست صورتحال کی حقیقت پر توجہ دینے کی بجائے مذہبی منافرت اور تعصب کی آگ کو بھڑکا رہی ہے۔‘

جموں کشمیر کی سوشلسٹ طلبہ تنظیم جموں کشمیر نیشنل سٹوڈنٹس فیڈریشن کی جانب سے بھی اس اقدام کی شدید مذمت کی گئی ہے۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ جموں کشمیر کے لوگوں کے ساتھ یکجہتی سے زیادہ یہ دن ایک سامراجی قبضے کو دوام بخشنے کا راستہ ہموار کرنے کیلئے منایا جاتا ہے۔

جموں کشمیر میں آگ اور خون کی ہولی کھیلنے والے قاضی حسین احمد کی کال پر ریاستی سرپرستی میں اس دن کو منانا اور یکجہتی کے نام پر جموں کشمیر کے محکوموں کو زبردستی پاکستانی ریاست کے بیانیہ کو پروموٹ کرنے پر مجبور کرنا یکجہتی کسی صورت نہیں ہو سکتی ہے۔

بیان میں لکھا گیا کہ جموں کشمیر میں مختلف مذاہب اور قومیتوں کے لوگ بستے ہیں اور جموں کشمیر کا مسئلہ ان تمام قومیتوں اور مذاہب کے لوگوں کے حق آزادی کا مسئلہ ہے۔ جموں کشمیر کوئی مذہبی مسئلہ نہیں ہے، کہ مذہب کی بنیاد پر نفرتوں کے بھیج بو کر اسے حل کیا جا سکے۔ اگر ریاست پاکستان یا بھارت کی طرف سے کشمیریوں سے کسی قسم کی یکجہتی کی جا سکتی ہے تو وہ یہی ہے کہ دونوں ملکوں کے حکمران جموں کشمیر کے لوگوں کو حق خودارادیت دینے کا اعلان کریں تاکہ وہ اپنی مرضی سے اپنے مستقبل کا فیصلہ کر سکیں۔

بیان میں یہ بھی کہا گیا کہ قومی ثقافتی ادارے کی طرف سے اس طرح کے تنگ نظر، متعصبانہ اور بنیاد پرستانہ بیانئے کو پروموٹ کیا جانا نہ صرف انتہائی تشویشناک ہے، بلکہ مذہبی اقلیتوں سے متعلق ریاست کی پالیسی کا عکاس بھی ہے۔

حارث قدیر کا تعلق پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے علاقے راولا کوٹ سے ہے۔  وہ لمبے عرصے سے صحافت سے وابستہ ہیں اور مسئلہ کشمیر سے جڑے حالات و واقعات پر گہری نظر رکھتے ہیں۔