خبریں/تبصرے

پیپسی، کوک اور نیسلے جیسی ملٹی نیشنل کمپنیوں کی پلاسٹک بوتلوں پر بھی پابندی لگائیں!

فاروق سلہریا

کچھ شہروں میں حکو مت کی جانب سے پلاسٹک بیگز پر پابندی ایک اچھا اقدام ہے مگر یہ ناکافی اور ادھورا قدم ہے۔ اہم بات یہ ہے کہ بڑے مگر مچھوں پر ہاتھ ڈالا جائے۔

سب سے زیادہ اہم اور ضروری بات ہے کہ ملٹی نیشنلز کی جانب سے پلاسٹک کے استعمال پر پابندی لگائی جائے بالخصوص ایسی کمپنیاں جو پلاسٹک کی بوتلوں میں مشروبات بیچ رہی ہیں۔

اسی بلکہ نوے کی دہائی کے اوائل تک پاکستان میں عمومی رجحان یہ تھا کہ کوکا کولا یا پیپسی کو لا وغیرہ شیشے کی بوتلوں میں ملتی تھی۔ صارفین اگر کسی ڈھابے یا ریستوران پر کولا پیتے تو گلاس کی یہ بوتل وہیں رکھ دی جاتی۔ خالی بوتلیں باٹلرز کو واپس بھیج دی جاتیں۔ اسی طرح اگر مہمانوں کی تواضع کے لئے محلے کی دکان سے بوتلیں منگوائی جاتیں تو بھی خالی بوتلیں دکاندار کو لوٹا دی جاتیں۔ بوتل ٹوٹنے یا واپس نہ کرنے کی صورت میں جرمانہ ادا کرنا ہوتا تھا۔ دکاندار بھی خالی بوتلیں باٹلرز کو واپس بھیج دیتے۔ یوں ری سائیکلنگ اور وسائل کے بے جا استعمال میں کمی کا ایک رجحان موجود تھا، چاہے اس کی وجہ کوئی منصوبہ بندی نہیں بلکہ وسائل کی کمی تھی۔

نوے کی دہائی میں کنزیومر ازم اور سماجی بیگانگی کے جس طوفانِ بد تمیزی نے معاشرے کو گھیرا اس کا ایک اظہار یہ ہے کہ بوتلوں کی ری سائیکلنگ توایک طرف، ہر طرف پلاسٹک کی بوتلیں بکھری ہوئی دکھائی دیتی ہیں۔

یاد رہے سمندر میں موجود پلاسٹک کا اسی فیصد زمین سے پہنچتا ہے۔ پاکستان جیسے ملک جہاں کوڑے کی ری سائیکلنگ بہت ہی نچلی سطح پر بلکہ نہ ہونے کے برابرہے، وہاں صرف اتنا یاد رکھیں کہ جب آپ پلاسٹک کی بوتل پانی، کولا یا جوس پینے کے بعد پھینکتے ہیں تو آپ صرف ایک بوتل نہیں پھینک رہے ہوتے، آپ سمندر میں موجود ایک مچھلی یا کچھوے کی جان بھی لے رہے ہوتے ہیں۔ پلاسٹک کی بوتل سمندری حیات کے لئے پھانسی کا باقاعدہ پھندہ ہے۔

انفرادی سطح پر پلاسٹک کا بائیکاٹ اہم ہے مگر ریاستی اور سٹرکچرل سطح پر اقدامات کے بغیر ماحولیات کے بے قابو جن کو سدھانا ممکن نہیں۔ یہ ایک ایمر جنسی ہے۔ یہ انسانیت کی بقا کا سوال ہے۔

فوری طور پر بڑے اقدامات کی ضرورت ہے اور اس سلسلے میں ایک اہم قدم یہ ہے کہ پلاسٹک کی بوتلوں میں مشروبات یا صاف پانی بیچنے والی ملٹی نیشنلز کے ساتھ ساتھ مقامی باٹلرز کو بھی پابند کیا جائے کہ وہ پلاسٹک کی بوتلیں استعمال نہیں کریں گے۔

اس کے ساتھ ساتھ یہ بھی اہم ہے کہ صحت دشمن مشروبات کے خلاف بھی شعور اجاگر کیا جائے۔ ہمارا نعرہ ہونا چاہئے: کولا چھڈ تے لسی پی!

فاروق سلہریا روزنامہ جدوجہد کے شریک مدیر ہیں۔ گذشتہ پچیس سال سے شعبہ صحافت سے وابستہ ہیں۔ ماضی میں روزنامہ دی نیوز، دی نیشن، دی فرنٹئیر پوسٹ اور روزنامہ پاکستان میں کام کرنے کے علاوہ ہفت روزہ مزدور جدوجہد اور ویو پوائنٹ (آن لائن) کے مدیر بھی رہ چکے ہیں۔ اس وقت وہ بیکن ہاوس نیشنل یونیورسٹی میں اسسٹنٹ پروفیسر کے طور پر درس و تدریس سے وابستہ ہیں۔