خبریں/تبصرے

عرفان خان بطور لینن

لاہور (جدوجہد رپورٹ) معروف اداکار عرفان خان مرحوم نے اپنے تیس سال سے زائد طویل اداکاری کے دور میں ایک بار لینن کا کردار بھی ادا کیا۔

تفصیلات کے مطابق انہوں نے بھارت کے سرکاری ٹیلی ویژن چینل دور درشن پر انقلاب ِروس کے رہنما ولادیمیر لینن کی زندگی پر پیش کئے گئے ایک کھیل میں لینن کا کردار ادا کیا تھا۔ ”لال گھاس نیلے گھوڑے“ نامی یہ ٹیلی ڈرامہ روسی مصنف میخائل شتروف کا تحریر کردہ تھا جسے اُدے پرکاش نے ہندی میں ترجمہ کیا تھا۔

عرفان خان کا انتقال دو دن قبل ہوا۔ گذشتہ دو دن سے سوشل میڈیا پر ان کے چاہنے والے ایسی کئی ویڈیوز پوسٹ کر چکے ہیں جن میں عرفان خان انقلابی نظمیں یا تقریریں کرتے ہوئے دیکھے جا سکتے ہیں۔

ایک ویڈیو کلپ میں انہیں جواہر لعل نہرو یونیورسٹی میں تقریر کرتے سنا جا سکتا ہے جس میں وہ کہہ رہے ہیں کہ عام آدمی ہی اصل ہیرو ہوتا ہے اور اسی لئے وہ عام آدمی کا کردار ادا کرتے ہیں۔

ایک اور ویڈیو میں وہ مذہبی رہنماؤں کے ساتھ بحث کرتے ہوئے دیکھے جا سکتے ہیں۔ اس بحث میں وہ ایک انسان دوستی پر مبنی مذہب کی تشریح کرنے پر زور دے رہے ہیں۔

گذشتہ روز ”روزنامہ جدوجہد“ نے یہ خبر دی تھی کہ انہوں نے ایک ٹیلی ڈرامے میں مخدوم محی الدین کا کردار بھی ادا کیاتھا۔

بھارتی کمیونسٹ پارٹی کے رکن، مخدوم محی الدین شاعر انقلاب کہلاتے تھے اور ان کی انقلابی نظمیں بھارت کے بائیں بازو کے جلسوں میں آج بھی مقبول عوامی ترانوں کے طور پر گائی جاتی ہیں۔ وہ انجمن ترقی پسند مصنفین کے بانی رکن تھے۔ آندھرا پردیش کی ریاستی اسمبلی کے رکن اور حزب اختلاف کے رہنما بھی رہے۔ وہ ان کمیونسٹ رہنماؤں میں سے تھے جو آزادی کے فوری بعد منتخب ہو کر اسمبلی میں پہنچے۔ ان کی مقبولیت آندھرا پردیش تک محدود نہیں تھی۔ وہ پورے ہندوستان کے مقبول انقلابی رہنما تھے۔