مارکسی تعلیم


انسان کا مستقبل

فطرت اور ریاست کے درمیان معیشت حائل ہوتی ہے۔ تکنیکی سائنس نے انسان کو آگ، پانی، مٹی، ہوا جیسے قدیم عناصر کے جبر سے تو نجات دلائی ہے لیکن اسے خود انسان کے جبر کے تابع کر دیا ہے۔ انسان فطرت کا غلام تو نہیں رہا لیکن مشین کا غلام بن گیا۔ بلکہ اس سے بھی بڑھ کے طلب اور رسد (منڈی) کا غلام ہو گیا۔ موجودہ عالمی بحران المناک انداز میں واضح کرتا ہے کہ انسان، جو سمندر کی تہوں میں غوطہ زن ہے، جو فضا کی بالا ترین پرتوں میں اڑ رہا ہے، جو غیرمرعی شعاعوں کے ذریعے دنیا کے ایک کونے سے دوسرے کونے میں بات کر رہا ہے…فطرت پہ بڑے تکبر اور بے باکی سے حکمرانی کرنے والا یہی انسان ابھی تک اپنی ہی معیشت کی اندھی قوتوں کا غلام ہے۔ ہمارے عہد کا تاریخی فریضہ یہی ہے کہ منڈی کے بے قابو کھیل کو معقول منصوبہ بندی کے ساتھ تبدیل کیا جائے۔

دانشور اور سوشلزم

لیون ٹراٹسکی کسی تعارف کے محتاج نہیں۔ ولادیمیر لینن کے ہمراہ انقلاب روس کی قیادت کرنے والے وہ دوسرے اہم ترین رہنما تھے۔ انقلاب کے بعد وہ سرخ فوج کے سربراہ رہے۔ ٹراٹسکی نے بے شمار ثقافتی و سیاسی سوالات پر سوشلسٹ نظریہ دان کے طور پر لکھا۔ ان کے دوست انہیں ’قلم‘ کہہ کر پکارتے کیونکہ وہ لکھنے پر ملکہ رکھتے تھے۔ ٹراٹسکی کا شمار بیسویں صدی کے بہترین دماغوں اور نظریہ سازوں میں ہوتا ہے۔ ان کا زیر نظر طویل مضمون دراصل میکس آڈلر کے ایک کتابچے پر تبصرہ تھا۔ کتابچہ اور ٹراٹسکی کا تبصرہ، دونوں 1910ء میں شائع ہوئے۔ میکس آڈلر آسٹرین سوشل ڈیموکریٹک پارٹی کے ترجمان اخبار کے مدیر تھے۔ ان کا کتابچہ ویانا سے شائع ہوا۔ ٹراٹسکی کا تبصرہ سینٹ پیٹرز برگ کے ایک اخبار نے روسی زبان میں شائع کیا۔ مندرجہ ذیل ترجمہ انگریزی زبان سے کیا گیا ہے۔ انگریزی ترجمے میں شامل مترجم برائن پیرس کی وضاحتوں کو سرخ رنگ میں ہائی لائٹ کیا گیا ہے: مدیر

دانشور طبقہ سوشلزم سے کتراتا کیوں ہے؟ (تیسری قسط)

آخر میں ہم دیکھتے ہیں آڈلر خود بھی سوشلزم اور دانشور طبقے کے تعلق بارے خیال پرستانہ اور تجریدی کلئے بارے مطمئن نہیں۔ آڈلر کے اپنے پراپیگنڈے کے مطابق اس کے مخاطب وہ ذہنی مزدور نہیں جو سرمایہ دارانہ معاشرے میں پہلے سے خدمات سر انجام دے رہے ہیں بلکہ وہ اس نوجوان نسل سے مخاطب ہے جو یہ پیشہ اختیار کرنے جا رہی ہے یعنی طالب علم۔ اس کا ایک ثبوت تو یہ ہے کہ انہوں نے کتابچے کا انتساب ”ویانا کی آزاد طلبہ یونین“ کے نام کیا ہے بلکہ اس کتابچے یا تقریر کا خطیبانہ اور ایجی ٹیشنل لہجہ بھی اس بات کی چغلی کھاتا ہے کہ وہ طلبہ سے مخاطب ہیں۔ اس قسم کے لہجے میں آپ پروفسیروں، لکھاریوں، وکیلوں اور ڈاکٹروں سے بات نہیں کر سکتے۔ ابتدائی چند الفاظ کے بعد ہی یہ تقریر آپ کے حلق میں اٹک جائے گی۔

دانشور طبقہ سوشلزم سے کتراتا کیوں ہے؟ (دوسری قسط)

آڈلر کا یہ تجزیہ تو بالکل درست ہے کہ دانشور طبقے کی اجتماعیت کے لئے حمایت انہیں فوری مادی فوائد دینے کی بنیاد پر حاصل نہیں کی جا سکتی البتہ اس تجزئے سے یہ بھی نہیں پتہ چلتا کہ کیا کسی صورت دانشور طبقے کی حمایت حاصل کر نا کسی طور ممکن ہے بھی سہی۔ نہ ہی آڈلر کے تجزئے سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ دانشور طبقے کے مادی مفادات اور طبقاتی بندھن ان ثقافتی و تاریخی امکانات سے زیادہ اہم نہیں جو سوشلزم پیش کرتا ہے۔

دانشور طبقہ سوشلزم سے کتراتا کیوں ہے؟

یورپی دانشور، باوجودیکہ اجتماعیت کے ساتھ ان کا کوئی براہ راست تضاد نہیں بنتا، محنت کشوں کی جدوجہد سے لا تعلق نظر آتے ہیں۔ دانشوروں میں محنت کشوں کی جدوجہد بارے کوئی دلچسپی نہیں پائی جاتی۔ آڈلر بھی اس صورت حال سے نا واقف نہیں مگر آڈلر کی نظر میں ایسا ہونا نہیں چاہئے کیونکہ اس لا تعلقی اور عدم دلچسپی کی کوئی معروضی بنیادیں موجود نہیں۔ آڈلر بھرپور طریقے سے ایسے مارکس وادیوں کی مخالفت کرتے ہیں جن کی نظر میں ایسے عمومی حالات ناپید ہیں جن کے نتیجے میں دانشور طبقہ بڑے پیمانے پر سوشلزم کی طرف راغب ہو جائے۔

ظلمت سے چھٹکارا کیسے ہو؟

مارکس نے جدید ذرائع پیداوار پر محنت کشوں کے کنٹرول سے قلت اور مانگ ختم کرنے کی بات کی تھی۔ اس کا مخاطب ’عالمی مزدور‘ بطور ’طبقہ‘ تھا نہ کہ کوئی ایک ملک یا خطہ یا اس کے رہنے والے لوگ۔

سرمائے کا انتشار

ہم سمجھتے ہیں کہ معاشی بحران خواہ وہ کسی بھی ملک کا ہو جب بھی کسی سماج کو اپنے شکنجے میں جکڑتا ہے تو صرف بیروزگاری، مہنگائی، غربت اور لا علاجی نہیں بڑھتی بلکہ معیشت کا بحران سماج میں موجود ہر چیز میں اپنا اظہار کرتا ہے پھر چاہے وہ آپ کی سیاست ہو، اخلاقیات ہوں، دوستیاں ہوں، رشتے، کلچر، موسیقی، ادب، آرٹ حتیٰ کہ سماج کی ہر چیز میں اسکا اظہار ہوتا ہے۔

خاندانی تضادات، عورت اور سماج

مگر موجودہ وقت میں خاندان کے پرانے قبائلی طرز کے نظام کو جاگیراداری کے اندر پنپنے والے خاندان کی طرز پر چلانا ناممکن ہو چکا ہے۔ خاندانوں کی موجودہ شکل جو مروجہ نظام میں صرف بیوی اور شوہر اور ان کے بچوں تک محدود ہو کر رہ گئی ہے۔ انسان کی مجبوری بن گئی ہے کہ وہ ان تمام رشتوں سے کنارہ کشی اختیار کرے جو اس کے لیے معاشی طور پر فائدہ مند نہیں ہیں۔ سرمایہ دارانہ نظام کے اندر مقابلہ بازی کا بڑھتا ہوا رجحان رشتوں کی نوعیت کو بدل چکا ہے۔ بیگانگی اس حد تک سماج پہ حاوی ہو چکی ہے کہ رشتوں کی قدر ومنزلت بھی پیسے کی محتاج ہو چکی ہے۔

انقلابی مڈل کلاس

اس طبقے کا مطمع نظر اپنے مستقبل کا تحفظ ہے چنانچہ جب یہ طبقہ دیکھتا ہے کہ اس کامستقبل محفوظ ہے تو یہ سٹیٹس کو کے علاوہ آمریت کی حمایت بھی کرتاہے اور جب خطرہ محسوس کرتا ہے تو پھر معاشرے کے ان طبقات کے ساتھ مل جاتا ہے جو معاشرے میں وسائل کی منصفانہ تقسیم کے لیے جد وجہد کر رہے ہوتے ہیں۔

کیا سوشلزم صرف مغربی ملکوں کے لئے ہے؟

سرمایہ دارانہ نظام نہ صرف مزدوروں پر اس قسم کے جبر کو جاری رکھتا ہے بلکہ وہ سماجی سطح پر اس ماحول کو فروغ دیتا ہے جس میں اس استحصال کو جائز سمجھا جاتا ہے اور لوگوں کو ایک دوسرے کے خلاف لڑایا جاتا ہے۔ یہ نظریہ فرینز کافکاکے ناول کے ایک کردار گریگر سمسا کی طرح لوگوں کو انسانیت کی سطح سے نیچے گرا کر معاشرے میں تنہا کر دیتا ہے۔ سرمایہ داری نظام کو رد کرنے اور اس کی جگہ ایک منصفانہ نظام کے قیام کی کوششیں عالمگیر نوعیت کی ہیں جنہیں صرف یورپی ممالک تک محدودنہیں کیا جا سکتا کیونکہ سوشلزم ایک عالمی نظریہ ہے جس کی بنیاد انسانی فلاح و بہبود پر رکھی گئی ہے۔