مارکسی تعلیم

عامر رضا ڈرامہ نگار اور پروڈیوسر ہیں۔


انقلابی مڈل کلاس

اس طبقے کا مطمع نظر اپنے مستقبل کا تحفظ ہے چنانچہ جب یہ طبقہ دیکھتا ہے کہ اس کامستقبل محفوظ ہے تو یہ سٹیٹس کو کے علاوہ آمریت کی حمایت بھی کرتاہے اور جب خطرہ محسوس کرتا ہے تو پھر معاشرے کے ان طبقات کے ساتھ مل جاتا ہے جو معاشرے میں وسائل کی منصفانہ تقسیم کے لیے جد وجہد کر رہے ہوتے ہیں۔

کیا سوشلزم صرف مغربی ملکوں کے لئے ہے؟

سرمایہ دارانہ نظام نہ صرف مزدوروں پر اس قسم کے جبر کو جاری رکھتا ہے بلکہ وہ سماجی سطح پر اس ماحول کو فروغ دیتا ہے جس میں اس استحصال کو جائز سمجھا جاتا ہے اور لوگوں کو ایک دوسرے کے خلاف لڑایا جاتا ہے۔ یہ نظریہ فرینز کافکاکے ناول کے ایک کردار گریگر سمسا کی طرح لوگوں کو انسانیت کی سطح سے نیچے گرا کر معاشرے میں تنہا کر دیتا ہے۔ سرمایہ داری نظام کو رد کرنے اور اس کی جگہ ایک منصفانہ نظام کے قیام کی کوششیں عالمگیر نوعیت کی ہیں جنہیں صرف یورپی ممالک تک محدودنہیں کیا جا سکتا کیونکہ سوشلزم ایک عالمی نظریہ ہے جس کی بنیاد انسانی فلاح و بہبود پر رکھی گئی ہے۔

مارکس کے پسندیدہ شاعر: ’سرمایہ‘ دانتے کے ’جہنم‘ کی طرز پر لکھی گئی

ولیم رابرٹس کا کہنا ہے کہ ترتیب کے اعتبار سے جس طرح 1848ء کے انقلاب فرانس پر لکھی گئی مارکس کی کتاب ’The Eighteenth Brumaire‘ شیکسپیئر کے معروف کھیل ’ہیملٹ‘ کی طرز پر لکھی گئی، اسی طرح ’سرمایہ‘ (جلد اؤل) کا طرز ترکیب دی ڈیوائن کا میڈی کے پہلے حصے ’جہنم‘ سے گہری مماثلت رکھتا ہے۔

انسان انقلاب کی آگ میں کندن بن کر نکلتا ہے: کارل مارکس

”انقلاب فقط اسی وجہ سے ضروری نہیں ہے کہ حکمران طبقے کو انقلاب کے علاوہ کسی اور ذریعے سے اقتدار سے بے دخل نہیں کیا جا سکتا بلکہ انقلاب اس وجہ سے بھی ضروری ہے کہ انقلاب ہماری ذات کی تطہیر کرتا ہے جس سے اطاعت و بندگی، تذبذب اور تشکیک کے داغ دھل جاتے ہیں اور انسان اس آگ میں کندن بن کر نکلتا ہے“۔

انسانی حقوق کی ضمانت سوشلزم ہی دے سکتا ہے

نسل انسان نے زندہ رہنے کی تگ و دو میں طویل سفر طے کیا، مختلف مدارج سے گزرتے ہوئے آج اس مقام تک پہنچی، جہاں مادی ترقی کے حوالے سے اگر دیکھا جائے تو یقینا وہ ماضی کے کسی بھی دور سے زیادہ ترقی یافتہ ہے۔ انسانی شعور کا مادی ترقی سے تعلق ہمیں یہ ادراک حاصل کرنے میں آسانی فراہم کرتا ہے کہ انسانی شعور بھی ماضی کے انسان کی نسبت، مادی ترقی کی وساطت سے اپنے بلند ترین مقام پر ہے۔

سوشلزم سے مایوسی سوچ کے بند گلی میں بند ہو جانے کانام ہے

ہماری ترقی پسندوں سے یہی گذارش ہے کہ وہ مایوسی کے اندرونی عوامل پر توجہ دیں، انہیں ٹھیک کریں اور یقین رکھیں کہ اس کا م کے لیے کسی بجٹ یا سرمائے کی ضرورت نہیں ہے۔ باقی کا کام سائنس اور فلسفے نے کرنا ہے اور وہ پہلے ہی سے بہت اچھا کر رہے ہیں۔

دنیا پر کمیونزم کا بهوت منڈلا رہا ہے

روبوٹیک ٹیکنالوجی، مصنوعی ذہانت، آٹومیشن اور ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کو انسانی ضروریات کے لیے استعمال سے وہ سب ممکن ہے جس کا آج سے پہلے تصور بھی نہیں کیا جا سکتا تھا۔

مارکسزم اور فیض

انسانی زندگی کے بہت ابتدائی دور میں معاشرہ کی تنظیم اشتراکیت کے اصولوں پر قائم تھی۔ سبھی مل جل کر شکار کرتے۔ جنگل سے پھل وغیرہ اکٹھے کرتے اور بانٹ کر کھا پی لیتے جو کچھ تھا وہ سب کا تھا اور سب کے لئے تھا۔ رفتہ رفتہ کھیتی باڑی شروع ہوئی۔ مویشی پالے گئے۔ روزمرہ کی ضرورتوں سے زیادہ چیزیں پیدا ہوئیں تو کچھ طاقتور اور ہوشیار لوگوں نے صرف اپنے لئے ذخیرہ کرنا شروع کیا اور چیزوں کا تبادلہ کرنا شروع کیا۔ اس عمل نے بڑھ کر ذاتی ملکیت کو رواج دیا۔ برابری کی جگہ اونچ نیچ نے لے لی جو بتدریج غلامی، جاگیرداری، سرمایہ داری تک پہنچی۔