Day: جولائی 8، 2022

فاروق سلہریا روزنامہ جدوجہد کے شریک مدیر ہیں۔ گذشتہ پچیس سال سے شعبہ صحافت سے وابستہ ہیں۔ ماضی میں روزنامہ دی نیوز، دی نیشن، دی فرنٹئیر پوسٹ اور روزنامہ پاکستان میں کام کرنے کے علاوہ ہفت روزہ مزدور جدوجہد اور ویو پوائنٹ (آن لائن) کے مدیر بھی رہ چکے ہیں۔ اس وقت وہ بیکن ہاوس نیشنل یونیورسٹی میں اسسٹنٹ پروفیسر کے طور پر درس و تدریس سے وابستہ ہیں۔


وجاہت مسعود صاحب! اگر بزدل ہوتا تو چے گویرا نہ کہلاتا

مارکسزم کے خلاف پراپیگنڈے کا جو کام کبھی جماعت اسلامی سر انجام دیا کرتی تھی، یوں لگتا ہے کہ یہ ذمہ داری اب کچھ لبرل دوستوں نے سنبھال لی ہے۔ اس کی تازہ مثال قابل احترام وجاہت مسعود کا کالم ہے 6 جولائی کو روزنامہ جنگ میں شائع ہوا۔ کالم کا عنوان تھا: ’ایاز امیر کا خواب اور چے گویرا‘۔
وجاہت مسعود کا یہ کالم ’روزنامہ جدوجہد‘میں شائع ہونے والے ایک کالم،بعنوان: ’ایاز امیر کو خواہش ہٹلر کی ہے،نام چے گویرا کا لے رہے ہیں‘، کو بنیاد بنا کر لکھا گیا۔

تنویر الیاس قوم پرستوں کیلئے تہاڑ جیلیں، صحافیوں کو صحافت سکھائیں گے

جب تک مسائل موجود ہیں، تب تک ان کے خلاف جدوجہد بھی موجود رہے گی۔ کسی مخصوص خطے یا علاقہ میں موجود سیاسی تحرک کو مصنوعی قومی شاؤنزم، ریاستی جبر اور سکیورٹی سلوشن کے ذریعے دباتے ہوئے حب الوطنی پیدا کرنے کی کوششیں کامیاب ہونے کی بجائے الٹا پڑنے کے خدشات اور امکانات زیادہ موجود رہتے ہیں۔ اس خطے سے ابھرنے والی بغاوتیں اور تحریکیں اس ریاستی ڈھانچے کو چیلنج کرنے کے ساتھ ساتھ اس نظام کو چیلنج کرنے کی صلاحیت حاصل کرتے دیر نہیں لگائیں گی۔