Day: اگست 15، 2022

مصنف آئی بی اے کراچی کے ڈائریکٹر اور معروف ماہر معیشت ہیں۔ وہ ’ایشیوز ان پاکستانز اکانومی‘ (Issues in Pakistan's Economy: A Political Economy Perspective)اور ’میکنگ اے مسلم‘ (Making a Muslim: Reading Publics and Contesting Identitiesin Ninteenth-Century India) کے مصنف ہیں۔


اگر معیشت عوام دوست ہوتی تو ڈالر ریٹ اہم نہ ہوتا

جتنی دیر تک ہم معیشت کو لاحق بڑے مرضوں کا علاج کرنے سے کتراتے رہیں گے، تب تک ہماری معیشت کا شمار دنیا کی بدترین معیشتوں میں ہوتا رہے گا اور یہاں دنیا کی تیسری سب سے بڑی افراط زر کی شرح رہے گی۔ جب ہم اپنی معیشت کو بہتر طریقے سے چلانے لگیں گے، شہریوں کے معاشی حقوق پر توجہ دیں گے، انصاف فراہم کریں گے، اُن امیر لوگوں پر ٹیکس لگائیں گے جو ہر وقت ٹیکس بچانے کے چکر میں ہوتے ہیں،ڈالر کی قیمت اہم نہیں رہے گی۔

اُدھر ہوتے تو…!

امی کریب کے سفید ڈوپٹے کو اپنی آنکھ کے کونے پر ملتے ہوئے بڑبڑائے جارہی تھیں۔ ۔ ۔ پھر وہی شور برپا ہوا، اگست کے مہینے والے”اخگر“کی آواز کی گونج نے امی کی دھیمی مگر حواس باختہ بڑبڑاہٹ کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ ”تم بے قدرے لوگ اگر یہاں نہ آتے تو وہاں پتا ہے کہ کتنا برا حال ہوتا۔ وہاں تم چپڑاسی لگے ہوتے ‘سمجھے کچھ‘ چپڑاسی“۔ مجھے لگا کہ لوہے کی رگڑ سے شل ہاتھ بے جان ہورہے ہیں، میرے خالی دماغ میں چلنے والی لہریں کسی طوفان کی زد میں آکر بہت تیز ہوکر اوپر نیچے اور دائیں بائیں گھومنے لگیں۔ وہاں ”بندہ“ چپڑاسی لگ جاتا ہے !!ہیں ہیں تو پھر یہ چپڑاسی کیسے ”اِدھر“آگیا؟ کیا یہاں پر ساری چپڑاسی ”اُدھر“ کے ہیں؟ اگریہ ”اُدھر“ کے ہیں تو پھریہ ”یہاں“ کیا کررہے ہیں؟میرا سر اور تیزی سے گھوما، ہاتھ اکھڑنے لگے۔ پاﺅں‘ اس بڑے ہوئے چبوترے سے پھسل رہے تھے۔ مجھے لگ رہا تھاکہ اب میرا یہاں کھڑا رہنا مشکل ہے۔ ۔ ۔ اوریہ کیا؟ میں تو اُڑرہا ہوں…. ہوا میں ….چھپاکے کی آواز آتی ہے۔ ۔ اخگرصاحب تھوک میں لپٹے لفظوں کی دھول اڑاتے ہیں….تم۔ ۔ تم ”آزادی“کی قدر نہیں کرتے، شکوے کرتے ہو!ادھر ہوتے توتم چپڑاسی ہوتے!