Day: اگست 16، 2022

فاروق سلہریا روزنامہ جدوجہد کے شریک مدیر ہیں۔ گذشتہ پچیس سال سے شعبہ صحافت سے وابستہ ہیں۔ ماضی میں روزنامہ دی نیوز، دی نیشن، دی فرنٹئیر پوسٹ اور روزنامہ پاکستان میں کام کرنے کے علاوہ ہفت روزہ مزدور جدوجہد اور ویو پوائنٹ (آن لائن) کے مدیر بھی رہ چکے ہیں۔ اس وقت وہ بیکن ہاوس نیشنل یونیورسٹی میں اسسٹنٹ پروفیسر کے طور پر درس و تدریس سے وابستہ ہیں۔


پاکستان ہو یا ہندوستان، مذہبی جنونیت ملیریا ہے

شرمناک بات ہے کہ اس فلم پر تنازعہ ایک ایسے وقت پر ہو رہا ہے جب ہندوستان پاکستان اپنی اپنی آزادی کی ڈائمنڈ جوبلی منا رہے ہیں۔ پاکستان میں اس بات پر خوشی منائی جا رہی ہے کہ سلمان رشدی پر حملہ ہوا ہے جبکہ تحریک لبیک کے ڈر سے سرمد کھوسٹ کی فلم ریلیز نہیں ہو پا رہی۔ ادہر ہندو طالبان بضد ہیں کہ عامر خان غدار ہے اس لئے’لال سنگھ چڈھا‘ کا بائیکاٹ کیا جائے۔ سرحد کے آر پار پاگل پن کی یہ محض تازہ مثالیں ہیں۔ جس طرح ’ٹوبہ ٹیک سنگھ‘ کے ذریعے منٹو نے یہ پوچھا تھا کہ پاگل کون ہے، وہ جو لاہور کے پاگل خانے میں قید ہیں یا جنہوں نے ٹوبہ ٹیک سنگھ پاکستان کو دے کر بشن سنگھ انڈیا کے حوالے کر دیا ہے؟ اسی طرح، لال سنگھ چڈھا بھی کچھ سوال پوچھ رہا ہے اور معصومیت سے آئینہ لئے کھڑا ہے جس میں ہندو طالبان اپنا چہرا دیکھ کر شور مچا رہے ہیں۔