Aman Ullah Kakar

امان اللہ کاکڑ پلانٹ بریڈنگ اینڈ جینیٹکس (زراعت) کے طالب علم ہیں۔ قلعہ سیف اللہ سے تعلق ہے۔ طبقاتی جدوجہد کے کارکن اور بائیں بازو کی سیاست سے وابستہ ہیں۔


مولانا کی سیاسی قلابازیاں

1970ء کے انتخابات میں قومی اسمبلی کے ایک حلقے سے مفتی محمود نے ذوالفقار علی بھٹو کو شکست دے کر کامیابی حاصل کی۔

ثور انقلاب کی 44 ویں سالگرہ

افغانستان کو جیوپولیٹیکل اہمیت کی وجہ سے مختلف سامراجی قوتوں نے اپنے مفادات کیلئے استعمال کرنے کی بھرپور کوشش کی۔

سری لنکا: سیاسی و معاشی ہلچل اور عوامی للکار

پاکستان کی طرح سری لنکا میں بھی عدم اعتماد کسی عوامی مسئلے کا حل نہیں ہے اور نہ ہی کوئی امید رکھی جا سکتی ہے۔ سری لنکا کی حکومت جلد ہی آئی ایم ایف کے ساتھ بیل آؤٹ پر بات چیت شروع کرنے والی ہے۔ یہی توقع ہے کہ کثیر جہتی قرض دہندہ کے ساتھ ساتھ ملک کے غیر ملکی قرض دہندگان ایک ایسا منصوبہ پیش کرینگے جو ملکی اقتصادی استحکام کو ترجیح دے گا، تاہم یہ کوئی تسلی بخش اقدام نہیں ہے۔ فی الحال لوگوں کو سستی خوراک، ایندھن اور ادویات فراہم کرنے میں مدد کو ترجیح دی جانی چاہیے۔ ملک کو قرضوں کے جال سے بچانے کیلئے طویل المدتی منصوبے کو ختم کرنے کی ضرورت ہے۔ سری لنکا کے بحران کو دیگر ترقی پذیر ریاستوں کیلئے بھی ایک انتباہ کا کام کرنا چاہیے کہ معاشی بدانتظامی اور سیاسی اقربا پروری بڑے عدم استحکام کو جنم دے سکتی ہے، جو معاشرے کی بنیادوں کو ہلا کر رکھ سکتا ہے۔

پانی کی قلت

یہ بحران ایک غیر متوقع خشک موسم سے پیدا ہوا ہے، جس کے نتیجے میں سردیوں کے مہینوں میں 26 فیصد کم برف باری ہوئی ہے اور مارچ کے بعد سے کوئی بارش نہیں ہوئی ہے۔ مزید برآں اس سال موسم گرما کے ابتدائی آغاز کے باوجود برف متوقع رفتار سے نہیں پگھلی، کیونکہ زیادہ تر برف باری اونچائی پر ہوئی ہے۔ یہ پریشان کن صورت حال حیران کن نہیں ہونی چاہیے۔ عالمی ادارے کچھ عرصے سے خبردار کر رہے ہیں کہ 2025 ء تک پاکستان کو موسمیاتی تبدیلیوں، آبی وسائل کے ناقص انتظام اور پرانے ٹرانسمیشن انفراسٹرکچر کے نتیجے میں بارش کے انداز میں تبدیلی کی وجہ سے پانی کی شدید قلت کا سامنا کرنا پڑے گا۔

عدم اعتماد: کٹھ پتلی حکومت کیخلاف جعلی اپوزیشن کی ڈرامہ بازی

عوام اب ان میں سے کسی پر اعتماد نہیں کرینگے کیونکہ ان جعلی تبدیلیوں سے محنت کشوں اور عام لوگوں کی زندگیوں میں کوئی تبدیلی نہیں آئے گی۔ بے روزگاری، مہنگائی، غربت اور سامراجی مالیاتی اداروں کی عوام دشمن پالیسیوں اور احکامات کا سلسلہ ختم نہیں ہو گا۔ ان سب ظلمتوں کے خلاف حکمرانوں پر عدم اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے محنت کشوں کو اپنی لڑائی خود لڑنی ہو گی۔ تمام مالیاتی اداروں کے قرضوں کو ضبط کرنے، سامراجی معاشی پالیسیوں کو مسترد کرنے کیلئے ایک سوشلسٹ ریاست کے قیام کیلئے جدوجہد کو استوار کرنا ہو گا۔

کامریڈ علی وزیر کے نام خط

آپ کا ہنستا مسکراتا چہرہ ہمیں اعتماد دے رہا ہے کہ آپ کے ہاتھوں میں ڈالی گئی زنجیریں اور آپ کو پابند سلاسل کرنیو الا قید خانہ ہماری تحریک کو روک نہیں سکتے۔