Farooq Sulehria

فاروق سلہریا روزنامہ جدوجہد کے شریک مدیر ہیں۔ گذشتہ پچیس سال سے شعبہ صحافت سے وابستہ ہیں۔ ماضی میں روزنامہ دی نیوز، دی نیشن، دی فرنٹئیر پوسٹ اور روزنامہ پاکستان میں کام کرنے کے علاوہ ہفت روزہ مزدور جدوجہد اور ویو پوائنٹ (آن لائن) کے مدیر بھی رہ چکے ہیں۔ اس وقت وہ بیکن ہاوس نیشنل یونیورسٹی میں اسسٹنٹ پروفیسر کے طور پر درس و تدریس سے وابستہ ہیں۔


ایاز امیر کو خواہش ہٹلر کی ہے، نام چے گویرا کا لے رہے ہیں

ایاز امیر ایک چھوٹا سا جنرل مشرف ہیں۔ کپتان کی سطح کا جنرل مشرف۔ پینا پلانا ٹھیک ہے۔ ناچ گانا، بغل میں کتا اٹھا کر تصویر کھنچوانا اور کبھی کبھی فیض کی شاعری…یہ سب ہونا چاہئے لیکن جمہوریت، سوشلزم، برابری، سیکولرزم، اکبر بگٹی وغیرہ کو زندہ نہیں چھوڑیں گے۔ فی الحال کوئی جنرل مشرف دستیاب نہیں تو اب آخری امید عمران خان کو قرار دیا جا رہا ہے۔

ننھا پروفیسر ایٹ نسٹ: طارق جمیل ایٹ جی سی یو

یونیورسٹی کا کام ہے علم، تحقیق اور مکالمے کو فروغ دینا۔ فیکلٹی کو درس و تحقیق میں مگن ہونا چاہئے۔ نئی تھیوریاں پیش کریں۔ نئی ٹیکنالوجی بنائیں جس سے ملک کو درپیش مسائل پر قابو پایا جا سکے۔ نیا ادب تخلیق کریں۔ نیا علم تخلیق کریں۔ طالب علموں کے پاس یہ موقع ہونا چاہئے کہ وہ علم، تحقیق اور مکالمے کا ہنر سیکھ سکیں اور لازمی طور پرسیکھیں۔

زلزلے کے نام پر’کافروں‘ سے بھیک مانگتے طالبان

ساڑھے تین سو افراد ہیں پاکستان کی قومی اسمبلی میں۔ صرف ’غدار‘ محسن داوڑ کو خیال آیا افغان زلزلے کے متاثرین کا۔ امہ کے غم میں گھلنے والے باقی کسی ’محب وطن‘ رکن اسمبلی کو شائد معلوم بھی نہ ہو کہ پکتیکا میں ہزار مزید افراد سٹریٹیجک ڈیتھ کا شکار ہو گئے ہیں۔

مولانا! افغان لڑکیاں جینز پہنتی ہیں، نہ کو ایجوکیشن ہے پھر زلزلہ کیوں آیا؟

مجھے یاد ہے جب بھی کوئی زلزلہ یا سیلاب آیا مولوی حضرات نے شور مچایا کہ اس کی وجہ فحاشی و عریانی ہے۔ ایک طرف آپ کے کسی بھائی بند نے کہا کہ زلزلے لڑکیوں کے جینز پہننے کی وجہ سے آ رہے ہیں تو دوسری طرف آپ نے اعلان کیا کہ کو ایجوکیشن کی وجہ سے معاشرے پر عذاب نازل ہو رہے ہیں۔ ہر آفت کے بعد، آپ اور آپ کے بھائی بندے یہ اعلان بھی کرتے تھے کہ ملک میں سودی نظام اور غیر شرعی حکومتوں کی وجہ سے عذاب آ رہے ہیں۔

اسلامی سربراہی کانفرنس کی بد حال یادگار اور بھٹو کی وراثت

بھٹو کی تضادات سے بھرپور اندرونی سیاست کی طرح، بھٹو کی خارجہ پالیسی بھی تضادات سے بھرپور تھی۔ مذہب کے سیاسی استعمال و استحصال کے جس دھندے کو بھٹو نے فروغ دیااسے ضیا الحق نے انجام تک پہنچایا۔ گو یہ کام بھٹو سے پہلے والے حکمران بھی کرتے چلے آ رہے تھے مگر فرق یہ ہے کہ بھٹو کو اس کی ضرورت نہیں تھی۔ علاوہ اور چیزوں کے، مذہب کا سیاسی استحصال بھی بھٹو کے گلے کا پھندا بنا۔ پاکستان کے عوام اس کی سزا آج تک بھگت رہے ہیں۔ پہلے ضیا الحق کی شکل میں، اب ضیا باقیات (طالبان، ٹی ایل پی، سپاہ صحابہ، پی ٹی آئی، لشکر طیبہ وغیرہ) کی شکل میں۔

پی ٹی آئی ظالموں کی مظلومیت کا اظہار ہے

ظالموں کی اس مظلومیت کے بہت سے فوائد بھی ہیں۔ اس کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہے کہ ان ظالموں کو پیپلز پارٹی، نواز لیگ، ایم کیو ایم (جب وہ ساتھ چھوڑ جائیں) کی چوریاں ڈاکے تو نظر آتے ہیں، اپنی چوریاں اور اپنے ڈاکے انہیں ان کا پیدائشی حق، عین شرعی اور حلال محسوس ہوتے ہیں۔ انہیں لگتا ہے کہ ان کی جائداد کے پیچھے کوئی جرم نہیں چھپا مگر سپریم کورٹ کے ایک جج کی نواز شریف بارے یہ بات بالکل درست ہے کہ:’Behind every big fortune, there is a big crime‘۔

عمران خان کو چین، روس اور پاکستان میں اسلاموفوبیا کیوں نظر نہیں آتا؟

عمران خان کو مغرب میں رہنے والے مسلمانوں سے روا رکھے جانے والے اسلامو فوبیا کی اتنی فکر ہے تو ان کی حکومت نے لاپتہ کئے جا رہے بلوچوں، پی ٹی ایم کے کارکنوں (خڑ کمر میں قتل عام سمیت) اور رہنماؤں (محسن داوڑ، علی وزیر و دیگر)، اسلام آباد مظاہرہ کرنے والے ٹریڈ یونین کارکنوں، عورت مارچ اورہزارہ برادری کے لوگوں کے ساتھ جو سلوک کیا، کیا وہ اسلامو فوبک نہیں تھا؟

حکومت نہیں ریاست بحران کا شکار ہے

معاشی و سیاسی بحران کئی قسم کے سماجی بحرانوں کی شکل میں سامنے آ رہا ہے۔ بیگانگی بڑھ رہی ہے۔ تشدد اور جرائم میں اضافہ ہے۔ عدم برداشت ایک معمول ہے۔ سائنسی سوچوں کی جگہ توہمات، سازشی تھیوریاں، جادو ٹونے اور تعویز دھاگے کا استعمال اور بڑھ گیا ہے۔ میڈیا اور سوشل میڈیا کی پولیٹیکل اکانومی ایسی ہے کہ اس نے ان سماجی بحرانوں کو مزید گہرا کیا ہے۔ عوام کی اکثریت ایک ہیجان میں مبتلا ہے۔ محنت کش تو کیا، مڈل کلاس اور خوشحال لوگ بھی کسی امید کی بات نہیں کرتے۔ ہر کوئی مایوسی کی بات کر رہا ہے۔

لانگ مارچ ناکام مگر حکومت کی ناکامیاں جاری

اس قدر شدید بحران 1971ء کے بعد پہلی دفعہ درپیش ہے جو پچھلی سات دہائیوں کی عوام دشمن پالیسیوں کا مجموعہ ہے۔ بحران جس قدر شدید ہے، بحران کا حل بھی اتنے ہی ریڈیکل متبادل کا تقاضہ کرتا ہے۔ یہ متبادل ایک سوشلسٹ پلیٹ فارم کی شکل میں ہی سامنے آ سکتا ہے۔ یہ متبادل اس وقت عوامی شعور کا حصہ نہیں مگر بن ضرور سکتا ہے۔ سوشلسٹ قوتوں کو اس وقت سرگرمی دکھانا ہو گی۔ کوئی نیاتنظیمی ڈھانچہ تشکیل دینا ہو گا جو ملکی سطح پر موجود ہو۔ امکانات موجود ہیں۔ امکانات کو حقیقت کی شکل دینا ہی اس وقت بائیں بازو کا بھی اصل امتحان ہے۔