Farooq Sulehria

فاروق سلہریا روزنامہ جدوجہد کے شریک مدیر ہیں۔ گذشتہ پچیس سال سے شعبہ صحافت سے وابستہ ہیں۔ ماضی میں روزنامہ دی نیوز، دی نیشن، دی فرنٹئیر پوسٹ اور روزنامہ پاکستان میں کام کرنے کے علاوہ ہفت روزہ مزدور جدوجہد اور ویو پوائنٹ (آن لائن) کے مدیر بھی رہ چکے ہیں۔ اس وقت وہ بیکن ہاوس نیشنل یونیورسٹی میں اسسٹنٹ پروفیسر کے طور پر درس و تدریس سے وابستہ ہیں۔


مارشل لا لگے گا نہ اگلی حکومت عمران خان بنا سکیں گے

اگر عمران خان کی حکومت ہابرڈ رجیم تھی تو موجودہ سیٹ اپ ہائبرڈ رجیم پلس ہے۔ اگر عمران خان محنت کش طبقے کے دشمن اور نیو لبرل معیشت لاگو کرنے والے سیاستدان تھے تو موجودہ حکومت بھی اسی ڈگر پر گامزن ہے۔ اگر عمران خان نے بیرونی قرضوں سے عوام کی کمر توڑ دی تو شہباز شریف بھی کچھ کم نہیں۔ علی وزیر تب بھی جیل میں تھے، اب بھی رہائی ممکن نہیں ہو رہی۔ لاپتہ افراد کا مسئلہ تب بھی حل نہیں ہو رہا تھا، اب بھی وہیں ہے۔ مہنگائی تب بھی کمر توڑ رہی تھی،اب بھی۔ اب تو برداشت سے باہر ہو گئی ہے۔

کرکٹ کو تبلیغ سے علیحدہ کیا جائے

تبلیغی جماعت یا کسی بھی ایک سیاسی و مذہبی گروہ کی کرکٹ پر اجارہ داری کا واضح مطلب ہے کہ اقربا پروری سے کام لیا جائے گا۔ میرٹ پر تعیناتی نہیں ہو گی۔ اب حالت یہ ہے کہ کرکٹ ٹیم کا مینیجر، کوچ یا سلیکشن کمیٹی کا رکن اپنی تعیناتی کے لئے طارق جمیل کے اشارہ ابرو کا محتاج ہو چکا ہے۔ اسی طرح، اگر کوئی کرکٹر طارق جمیل کا چیلا نہ بنے، اس کی ٹیم میں جگہ نہیں بنتی۔ ماضی میں بعض کرکٹرز اس کا دبے لفظوں میں اظہار کر چکے ہیں۔

عمران خان پر حملہ: عمران کا جوابی حملہ

عمران خان کی ترجمانی کرتے ہوئے اسد عمر نے اس حملے کا الزام شہباز شریف، رانا ثنا اللہ اور ’میجرجنرل فیصل نصیر‘ پر لگایا۔ بہ الفاظ دیگر عمران خان نے کھل پر فوج پر الزام لگایا ہے۔ اگر ڈی جی آئی ایس آئی جنرل ندیم انجم اور ڈی جی آئی ایس پی آر جنرل بابر افتخار کی پریس کانفرنس پاکستان تحریک انصاف کو چتاؤنی تھی تو عمران خان کا ایک میجر جنرل پر قاتلانہ حملے کا الزام لگانا جوابی حملہ ہے۔ گویا عمران خان نے بھی کھل کر جنگ کا ا علان کر دیا ہے۔

یہ مارچ ہے نہ لانگ ہے

عمران خان کا سارا ریڈیکل ازم بھی اگلے چند دنوں میں جھاگ کی طرح بیٹھ جائے گا۔ فوج کھل کر ان کی مخالفت میں سامنے آ گئی ہے۔ اگر فوج منقسم تھی اور اس کے بعض دھڑے عمران کی پشت پناہی کر رہے تھے تو یہ زیادہ دیر نہیں چلے گا۔ ڈی جی آئی ایس آئی کی پریس کانفرنس اس بات کا اظہار تھی کہ فوج نے اپنی صفیں از سر نو درست کی ہیں۔ بلاشبہ یہ پریس کانفرنس فوج کے نروس ہونے کی بھی علامت تھی لیکن یہ اس بات کا برملا اظہار تھا کہ اب یہ لڑائی براۂ راست تحریک انصاف اور فوج میں ہے۔

عاصمہ جہانگیر کانفرنس میں بلاول بھٹو کے یوتھیاپے

سچ تو یہ ہے کہ موجودہ سیٹ اپ اُس ہائبرڈ نظام کا تسلسل ہے جسے عمران خان سے منسوب کیا جاتا تھا۔ اگر کوئی فرق ہے تو شائد یہ ہو سکتا ہے کہ عمران خان اپنے ذاتی مفادات کے لئے کچھ چوں چرا کرتے تھے، شہباز شریف اور بلاول بھٹو کے منہ سے تو اُف اللہ بھی نہیں نکل رہا۔

ایران میں عورت انقلاب: پاکستانی سوشلسٹ، فیمن اسٹ کھل کر حمایت کریں

خطے میں ہونے والی اس اہم ترین پیش رفت بارے پاکستان کا بایاں بازو اور فیمن اسٹ تحریک عمومی طور پر خاموش نظر آ رہی ہے۔ ہونا اس کے الٹ چاہئے۔ ایک کی جیت سب کی جیت اگر سوشلسٹ اصول ہے تو اس اصول کے تحت بائیں بازو اور فیمن اسٹ تحریک کو کھل کر ایران میں جاری انقلاب کی حمایت کرنی چاہئے۔

منافقت، موقع پرستی کا انجام نا اہلی

عمران خان کو 2018ء میں دھاندلی کے ذریعے لایا گیا۔ یہ نوے کی دہائی نہیں تھی۔ تحریک انصاف پر مبنی ہائبرڈ رجیم نے ہائبرڈ رجیم کی اپنی چیخیں نکلوا دیں۔ یہ منصوبہ رول بیک کرنے کا فیصلہ ہوا۔ نواز شریف اور بھٹوخاندان تو موروثی سیاست کرتے ہیں۔ ایک کے ہاتھ سے کرسی جاتی ہے تو وہ اپنی اولاد کے لئے راہ ہموار کرنے کے لئے چپ چاپ گھر چلا جاتا ہے۔
عمران خان موروثی سیاست کی بجائے شخصیت پرستی کا نمونہ تھا۔ عمر بھی ستر سال۔ اولاد نے سیاست میں آنا نہیں۔ انتظار کے لئے زیادہ سال بچے نہیں۔ بوکھلاہٹ میں ہر ممکن طریقے سے اقتدار بچانے کی کوشش ہوئی۔ اس کا یہ فائدہ تو ضرور ہوا کہ کھوئی ہوئی مقبولیت کافی حد تک بحال ہو گئی مگر فوج ایسی بد ظن ہوئی کہ اب عمران خان کو اگلی باری بھی شائد کبھی نہ ملے۔

عمران خان کی فوج مخالفت سے سویلین سپریمیسی کی جدوجہد آگے نہیں بڑھے گی

پی ٹی آئی ٹریڈ یونین، طلبہ یونین، آزاد میڈیا اور برادشت پر یقین نہیں رکھتی۔ مرکز میں اس کا تین سالہ دور حکومت ہو یا پنجاب اور خیبر پختونخوا میں اس کا ریکارڈ دیکھ لیا جائے…صاف پتہ چل جائے گا کہ یہ گروہ جمہوریت دشمن ہے۔ طلبہ، اساتذہ، صحافی، مزدور…جو ان کے ہاتھ چڑھا، اس پر انہوں نے لاٹھیاں برسائیں اور تشدد کیا۔ نہ طلبہ یونین پر پابندیاں ختم کیں، نہ بلدیاتی ادارے بننے دئیے، نہ ٹریڈ یونین کو کوئی سہولت فراہم کی۔ گراس روٹس جمہوریت کے بغیر لبرل طرز کی جمہوریت بھی پروان نہیں چڑھ سکتی۔ اس محاذ پر تحریک انصاف کی کارکردگی ثابت کرتی ہے کہ ان کا جمہوریت سے کوئی تعلق نہیں۔

ضمنی انتخابات میں عمران خان کی کامیابی کی وجہ: قوم یوتھ کا وینا ملک ڈس آرڈر

یاد رہے ماہرین نفسیات نے ابھی تک سٹاک ہولم سنڈروم کو ایک بیماری نہیں مانا۔ اس لئے اس کا کوئی علاج بھی تجویز نہیں کیا گیا۔ وینا ملک ڈس آرڈر البتہ ایک خطرناک بیماری ہے۔
ہاں مگر یہ کوئی نفسیاتی بیماری نہیں ہے۔ یہ سماجی و سیاسی و نظریاتی بیماری ہے۔ اس کی تشخیص ماہرین نفسیات نہیں، ترقی پسند سیاسی کارکن کر سکتے ہیں۔ خوش قسمتی سے اس کا علاج بھی ممکن ہے۔ اس بیماری کا علاج ہے سوشلزم۔
اس علاج کے نتیجے میں ان مراعات کا خاتمہ کرنا درکارہوتا ہے جن کے نتیجے میں قوم یوتھ وجود میں آتی ہے۔