Farooq Sulehria

فاروق سلہریا روزنامہ جدوجہد کے شریک مدیر ہیں۔ گذشتہ پچیس سال سے شعبہ صحافت سے وابستہ ہیں۔ ماضی میں روزنامہ دی نیوز، دی نیشن، دی فرنٹئیر پوسٹ اور روزنامہ پاکستان میں کام کرنے کے علاوہ ہفت روزہ مزدور جدوجہد اور ویو پوائنٹ (آن لائن) کے مدیر بھی رہ چکے ہیں۔ اس وقت وہ بیکن ہاوس نیشنل یونیورسٹی میں اسسٹنٹ پروفیسر کے طور پر درس و تدریس سے وابستہ ہیں۔


المیہ مشرقی پاکستان: شاعر بمقابلہ جرنیل اور سیاستدان

پاکستان کی سیاسی تاریخ دیکھیں تو اندازہ ہو گا کہ عام طور پر پاکستان کے ترقی پسند شاعر اور لکھاری سیاستدانوں، جرنیلوں اور نظریہ دانوں سے زیادہ بڑے وژنری ثابت ہوئے۔ جالب نے جو بات مشرقی پاکستان بابت کہی، اب لوگ بلوچستان کے حوالے سے دہرا رہے ہیں۔ تاریخ سے سبق نہ سیکھو تو تاریخ لوٹ کر واپس آتی ہے۔

’یہ تحریک شاہ ایران کے خلاف بغاوت سے بھی بڑی: 82 دن میں 160 شہروں میں 544 مظاہرے‘

ایران میں لازمی حجاب ایک قانون ہے اور جیسا کہ میرے اپنے خاندان کے افراد سمیت بہت سے لوگوں کے تجربات سے پتہ چلتا ہے کہ بہت سی تنظیموں، مثلاً پاسداران انقلاب (آئی آر جی سی)، بیسج اور باقاعدہ پولیس فورس اور یہاں تک کہ حکومت کے عام پر جوش حامیوں، کے ذریعے سے حجاب نافذ کیا جاتا ہے۔ اس لئے ایک مخصوص تنظیم سے جان چھڑانا بے معنی ہے۔ اگر ایرانی حکومت مستقبل قریب میں اس اخلاقی پولیس کو ختم کر بھی دیتی ہے تو عین ممکن ہے کہ مناسب وقت آنے پر اس کی جگہ اسی طرح کی کوئی اورفورس لے لے۔ ایرانی حکومت کے لئے ایڈہاک تنظیموں کو اس طرح کھڑا کرنا ایک عام سی بات ہے۔

فٹ بال کو بھی عمران خان سے بہتر کوئی نہیں جانتا

معلوم نہیں ان کے دوست سلطان رجب طیب اردگان نے انہیں فون کیا یا نہیں البتہ امید ہے قوم یوتھ کا کوئی فرد انہیں یاد دلا دے گاکہ ترکی فٹ بال ورلڈ کپ کا سیمی فائنل 2002ء میں کھیل چکا ہے۔ گو ترکی فائنل میں نہیں پہنچا تھا مگر کانسی کا تمغہ جیتنے میں کامیاب رہا تھا۔

شکریہ مراکش الیون مگر: قطر میں فلسطین کا جھنڈا لہرانا بہادری ہے نہ مزاحمت

کیا ہی اچھا ہوتا اگر فلسطین کے ساتھ مراکش الیون فلسطین کے علاوہ مراکشی ریاست کے جبر کا شکار بربر قوم کا جھنڈا بھی لہراتے۔ ترک سلطان رجب طیب اردگان کی بربریت کا شکار کردستان کا جھنڈا بھی لہراتے۔ مراکش میں جمہوریت کے لئے قید ضمیر کے قیدیوں سے بھی اظہار یکجہتی کرتے۔ ہم یہ توقع تو نہیں رکھتے کہ وہ ہم جنس پرستوں کا پرچم بھی لہراتے لیکن کم از کم ہم جنس پرستوں کے اس جمہوری حق کو تو تسلیم کرتے کہ وہ قطر میں اپنا جھنڈا لہرا سکتے ہیں۔

رئیل اسٹیٹ کا کاروبار ملکی معیشت پر خود کش حملہ ہے

ریاستی وسائل صنعت اور صنعت کے لئے ضروری انفراسٹرکچر (مثلاً تعلیم، صحت، خوراک، توانائی، سڑکیں، ریل، پل) بنانے کی بجائے یہ وسائل ایسے رنگ روڈ، موٹروے، ائر پورٹ بنانے پر خرچ ہو رہے ہیں جن سے نام نہاد پراپرٹی ڈیولپرز فائدہ اٹھا سکیں۔ تیسری دنیا کے ممالک میں تو یہ انتہائی ضروری ہے کہ ریاست ترقیاتی منصوبہ بندی میں کردار ادا کرے۔ ہمارے ہاں یہ نام نہاد پراپرٹی ڈیلرز یا تو سیاسی قیادت کو خرید لیتے ہیں یا براۂ راست حکومت کا حصہ ہیں۔ اگر ملک ریاض نے بھٹو خاندان کو بلاول ہاؤس کا تحفہ دیا تو عمران خان اور نواز شریف کے لئے بھی ان کی بے شمار خدمات ہیں۔ پھر علیم خان جیسے کردار بھی ہیں۔ کوئی بڑا چھوٹا سیاستدان نہیں جو رئیل اسٹیٹ کے کاروبار میں نہ ہو۔ ریاستی وسائل کی تقسیم کا فیصلہ چونکہ انہی لوگوں نے کرنا ہوتا ہے اس لئے رنگ روڈ کا منصوبہ ابھی اخبار کی سرخی بھی نہیں بنتا مگر مجوزہ رنگ روڈ کے ارد گرد زمین بک چکی ہوتی ہے۔ اس عمل کے نتائج اگلے نقطے میں بیان کئے جا رہے ہیں۔

مارشل لا لگے گا نہ اگلی حکومت عمران خان بنا سکیں گے

اگر عمران خان کی حکومت ہابرڈ رجیم تھی تو موجودہ سیٹ اپ ہائبرڈ رجیم پلس ہے۔ اگر عمران خان محنت کش طبقے کے دشمن اور نیو لبرل معیشت لاگو کرنے والے سیاستدان تھے تو موجودہ حکومت بھی اسی ڈگر پر گامزن ہے۔ اگر عمران خان نے بیرونی قرضوں سے عوام کی کمر توڑ دی تو شہباز شریف بھی کچھ کم نہیں۔ علی وزیر تب بھی جیل میں تھے، اب بھی رہائی ممکن نہیں ہو رہی۔ لاپتہ افراد کا مسئلہ تب بھی حل نہیں ہو رہا تھا، اب بھی وہیں ہے۔ مہنگائی تب بھی کمر توڑ رہی تھی،اب بھی۔ اب تو برداشت سے باہر ہو گئی ہے۔

کرکٹ کو تبلیغ سے علیحدہ کیا جائے

تبلیغی جماعت یا کسی بھی ایک سیاسی و مذہبی گروہ کی کرکٹ پر اجارہ داری کا واضح مطلب ہے کہ اقربا پروری سے کام لیا جائے گا۔ میرٹ پر تعیناتی نہیں ہو گی۔ اب حالت یہ ہے کہ کرکٹ ٹیم کا مینیجر، کوچ یا سلیکشن کمیٹی کا رکن اپنی تعیناتی کے لئے طارق جمیل کے اشارہ ابرو کا محتاج ہو چکا ہے۔ اسی طرح، اگر کوئی کرکٹر طارق جمیل کا چیلا نہ بنے، اس کی ٹیم میں جگہ نہیں بنتی۔ ماضی میں بعض کرکٹرز اس کا دبے لفظوں میں اظہار کر چکے ہیں۔

عمران خان پر حملہ: عمران کا جوابی حملہ

عمران خان کی ترجمانی کرتے ہوئے اسد عمر نے اس حملے کا الزام شہباز شریف، رانا ثنا اللہ اور ’میجرجنرل فیصل نصیر‘ پر لگایا۔ بہ الفاظ دیگر عمران خان نے کھل پر فوج پر الزام لگایا ہے۔ اگر ڈی جی آئی ایس آئی جنرل ندیم انجم اور ڈی جی آئی ایس پی آر جنرل بابر افتخار کی پریس کانفرنس پاکستان تحریک انصاف کو چتاؤنی تھی تو عمران خان کا ایک میجر جنرل پر قاتلانہ حملے کا الزام لگانا جوابی حملہ ہے۔ گویا عمران خان نے بھی کھل کر جنگ کا ا علان کر دیا ہے۔

یہ مارچ ہے نہ لانگ ہے

عمران خان کا سارا ریڈیکل ازم بھی اگلے چند دنوں میں جھاگ کی طرح بیٹھ جائے گا۔ فوج کھل کر ان کی مخالفت میں سامنے آ گئی ہے۔ اگر فوج منقسم تھی اور اس کے بعض دھڑے عمران کی پشت پناہی کر رہے تھے تو یہ زیادہ دیر نہیں چلے گا۔ ڈی جی آئی ایس آئی کی پریس کانفرنس اس بات کا اظہار تھی کہ فوج نے اپنی صفیں از سر نو درست کی ہیں۔ بلاشبہ یہ پریس کانفرنس فوج کے نروس ہونے کی بھی علامت تھی لیکن یہ اس بات کا برملا اظہار تھا کہ اب یہ لڑائی براۂ راست تحریک انصاف اور فوج میں ہے۔