Farooq Tariq

فارق طارق روزنامہ جدوجہد کی مجلس ادارت کے رکن ہیں۔ وہ پاکستان کسان رابطہ کمیٹی کے جنرل سیکرٹری ہیں اور طویل عرصے سے بائیں بازو کی سیاست میں سرگرمِ عمل ہیں۔


تحریک انصاف کو صوبائی اسمبلیوں کی تحلیل سے عام انتخابات کی توقع

اس ساری حکمت عملی کا واحد مقصد یہی نظر آرہا ہے کہ عمران خان چاہتے ہیں کہ ایک عدم استحکام کا سلسلہ قائم رہے۔ ن لیگ اور اتحادیوں کے اقتدار کیلئے ایک غیر یقینی کی صورتحال برقرار رہے۔ بیرونی امداد، قرضے اور فنڈز دینے والے بھی پاکستان کے حالات سے گھبرا ئیں کہ یہاں بہت زیادہ عدم استحکام ہے۔ اس سب سے پی ڈی ایم اتحاد اور بالخصوص نواز لیگ کو دوبارہ مقبولیت حاصل کرنے کے امکانات محدود ہوتے جائیں گے۔ فی الحال اس حکمت عملی میں عمران خان اور تحریک انصاف کسی حد تک کامیاب بھی ہیں۔

عمران خان اتنے ہی اینٹی اسٹیبلشمنٹ ہیں، جتنے ماضی میں نواز شریف تھے

عمران خان کے حملے کے ایشو پر ریاستی تقسیم عروج پر ہے۔ عمران خان کا سارا فوکس اب چیف جسٹس آف پاکستان پر ہے۔ وہ بھی اب عمران خان کی زد میں ہیں کہ سپریم کورٹ اسکا نو ٹس کیو ں نہیں لے رہا۔ ایف آئی آر اگر تینوں کے خلاف کٹ بھی جائے،تو سزا کے لحاظ سے عمران خان کو کوئی خاص فائدہ نہیں پہنچے گا۔ یہ ایف آئی آر اب ضد کی جنگ میں بن گئی ہے۔ ایک مغرور، گھمنڈی، زخمی عمران خان اور دوسری جانب فوجی اسٹیبلشمنٹ ایک دوسرے کو پنجا دکھانے پر تلے ہوئے ہیں۔

شہباز شریف کا کسان پیکیج کسانوں سے دھوکا ہے

ضرورت تھی حقیقی زرعی اصلاحات کے اعلان کی۔ بے زمین کسانوں اور ہاریوں کے لئے زمین، جاگیرداروں کی زمین ضبط کر کے مزارعوں اور بے زمین کسانوں میں تقسیم۔ پائیدار قدرتی نظام کاشتکاری کے اصولوں کو ریاستی سطح پر اختیار کرتے ہوئے نئی زرعی ترقی کے لئے بنیادیں ہموار کرنا۔ ہم اس کسان پیکیج کے زیادہ تر حصے کو رد کرتے ہیں اور روایتی کاشتکاری سے علیحدہ ہونے کے اقدامات اٹھانے کا مطالبہ کرتے ہیں۔

یہ لانگ مارچ جلد یا بدیر ناکامی کا سامنا کرے گا

ڈائر یکٹر جنرل آئی ایس آئی کی پریس کانفرنس میں غیر معمولی شرکت سے ایک بات بالکل واضح ہو گئی کہ عمران خان کی صورت میں تیسری طا قت کو ملکی سطح پر مصنوعی طور تیار کرنے کی حکمت عملی مکمل طور پر ناکام رہی۔ یہ پریس کانفرنس اس تجربہ سے ناکامی کا اظہار کرنے کے لیے تھی اور خاص طور پر لانگ مارچ سے ایک روز پہلے اس پریس کانفرنس کے ذریعے اپنے تمام قریبی رابطوں اور سیاست دانوں پر وا ضح کرنا تھا کہ عمران خان کے ساتھ نہ چلیں اور ا نکا ساتھ نہ دیں۔ لانگ مارچ کا سیاسی انداز میں جواب پریس کانفرنس کر کے دیا گیا، دیگر ریاستی حربے اس کے بعد استعمال کئے جائیں گے۔ یہ وارننگ بھی تھی کہ ابھی سیاسی بات کر رہے ہیں پھر دوسرے طریقے سے بھی نپٹیں گے۔

شہباز گل کے بیان پر گرفتاری نہیں، عدالتی فیصلہ ہونا چاہئے

آمریت کی کوئی شکل بھی سیاسی مضبوطی کی نہیں، کمزوری کی نشانی ہوتی ہے۔ اشتعال انگیز بیانات کو جن کی کوئی مادی بنیاد بھی نہ ہو کو نظر انداز کرنا ہی بہتر ہوتا ہے۔ کتنی کمزور حکومت ہے کہ وہ شہباز گل جیسے وارداتئے کے اشتعال انگیز بیانات سے بھڑک اٹھی ہے۔ فوجی اسٹیبلشمنٹ بھی ایسا ہی کرتے ہوئے نظر آ رہی ہے۔

تحریک انصاف پھنس گئی ہے: ’ہم خیال جج‘ بھی بچا نہ پائیں گے

تحریک انصاف پھنس گئی ہے۔ یہ ایک انتہائی سنجیدہ مقدمہ ہے جس سے نکلنا تحریک انصاف کے لئے مشکل ہو گا۔ ابھی تو ایک عمل شروع ہوا ہے۔ اس کی کئی شکلیں سامنے آئیں گی…لیکن اب ہر ایک جگہ یہ تو بات ہو گی کہ الیکشن کمیشن نے فیصلہ تحریک انصاف کے خلاف دیا ہے۔ اس کے سیاسی اثرات نظر آئیں گے۔

پرویز الٰہی وزیر اعلیٰ پنجاب: سرمایہ داری سیاست کے سارے مہرے اب اقتدار میں

اب یہ بڑا سیاسی دلچسپ میدان لگا ہے۔ یہ 2018ء والی صورتحال نہیں کہ جب اسٹیبلشمنٹ مکمل طور پر عمران خان کے ساتھ تھی اور اسے اقتدار میں لانے کے لئے ہر آمرانہ حربہ استعمال کیا گیا تھا۔ جہانگیر ترین حکومت بنانے کے لئے جہاز پر بھاگ بھاگ کر ووٹ خرید رہا تھا۔ آج اسٹیبلشمنٹ تقسیم بھی ہے اور کمزور بھی۔ اس کی مرضی صرف آمرانہ اقدامات سے ہی حاوی ہو سکتی ہے، سیاسی چال بازیوں سے نہیں۔

ڈرامائی سیاسی نتائج: عمران خان اپنا اینٹی اسٹیبلشمنٹ بیانیہ تبدیل کریں گے

مسلم لیگ کی انتخابی مہم میں مریم نواز کی جانب سے پنجابی شاونزم کو بنیاد بنا کر بھی نون لیگ کی انتخابی مہم کو شکست ہوئی۔ وہ چیزیں سستی ہونے کی نوید سناتی رہیں مگر پٹرول کو انتخابات سے تین دن پہلے صرف 18 روپے کم کر کے عوام کے زخموں پر نمک ہی چھڑکا گیا۔ ادہر، مفتاح اسمٰعیل بجلی گیس کی قیمتوں میں اضافے کی نوید عوام کو دیتے رہے۔ وہ لوگوں کو یقین دلاتے رہے کہ ابھی اور مہنگائی ہو گی۔

سری لنکن صدر فرار: تمام اہم سرکاری عمارتوں پر’عوامی جدوجہد‘ کا قبضہ

سری لنکا میں 1948ء میں اس کی آزادی کے بعد، یہ اب تک کا سب سے شدید معاشی بحران ہے، جو 2019ء میں شروع ہوا۔ اس کے نتیجہ میں غیر معمولی افراط زر ہوئی، غیر ملکی زرمبادلہ تقریباً ختم ہو چکا ہے۔ سری لنکن روپیہ، جو پچھلے سال اکتوبر میں ایک ڈالر میں دو سو روپے تک کئی ماہ چلتا رہا، اب 13 جولائی کو ایک ڈالر 347 روپے تک جا پہنچا ہے۔ میڈیکل سپلائیز کی شدید کمی ہے۔ سری لنکا کو اس سال تک تقریباً 6 ارب ڈالر کا غیر ملکی قرضہ اتارنا تھا، مگر اپریل 2022ء میں سری لنکا حکومت نے معاشی دیوالیہ ہونے کا اعلان کر دیا، کہ اس کے پاس اب یہ رقم ادا کرنے کی کوئی سکت نہیں ہے۔

لانگ مارچ عمران خان کی سیاسی پسپائی کا موجب بن سکتا ہے

ہم کسی بھی صورت ریاستی جبر کی حمایت نہیں کر سکتے، مگر اس کا یہ مطلب نہیں کہ ہم عمران خان کے حامی ہو گئے ہیں۔ ہماری سیاست انقلابی اصولوں سے وابسطہ ہے، جس میں جمہوری دفاع بنیادی حیثیت رکھتا ہے۔ ہمارا مطالبہ ہے کہ گرفتار سیاسی کارکنوں کو رہا کیا جائے، راستوں سے رکاوٹیں ہٹائی جائیں۔ پرامن جدوجہد کے راستہ میں رکاوٹیں نہ ڈالی جائیں۔ اگر عمران خان کے بیانیہ کو اکثریت ملتی ہے تو ملے، اسے بندوقوں سے نہ روکا جائے۔