Farooq Tariq

فارق طارق روزنامہ جدوجہد کی مجلس ادارت کے رکن ہیں۔ وہ پاکستان کسان رابطہ کمیٹی کے جنرل سیکرٹری ہیں اور طویل عرصے سے بائیں بازو کی سیاست میں سرگرمِ عمل ہیں۔


ابسولوٹلی ناٹ: سپریم کورٹ کا فیصلہ

اب اپوزیشن کی تحریک عدم اعتماد کامیاب ہو سکتی ہے شہباز شریف اور حمزہ شہباز دونوں وزیر اعظم اور وزیر اعلیٰ بن سکتے ہیں۔ ان سے بہتری کی امید رکھنا مشکل ہے۔ شہباز شریف تو ہر صورت نجکاری کو فروغ دے گا۔ تیزی سے سرکاری ادارے بیچنے کی کوشش کرے گا۔ مزید قرضے حاصل کرے گا مگر یہ سب کچھ محنت کش طبقات کے لئے نہیں اپنے سرمایہ دار طبقہ کے لئے۔ ضرورت ہے ایک آزادانہ انقلابی آواز اور تنظیم تعمیر کرنے کی جو ان سرمایہ دار طبقات پر خوش فہمیاں رکھنے کی بجائے بائیں بازو کے نظریات کی تعمیر کرے۔ ایک سے جان چھوٹے گی تو دیکھیں گے کہ نئے حکمرانوں کی کیا چال ڈھال ہے۔ اگر عمرانی وطیرہ رہا جس کی زیادہ امید کی جا سکتی ہے تو پھر محنت کش طبقات کو منظم کرنے کی مہم پہلے سے بھی زیادہ تیز کریں گے۔

حکمرانوں کی سیاسی قلابازیاں: عام عوام کیلئے کسی کے پاس کچھ نہیں!

عمران خان کا جانا ٹھہر گیا ہے، اس کی وجہ اس کی معاشی پالیسیوں کی شدید عدم مقبولیت اور اس کی انتہائی بری گورننس ہے۔ یہ ایک انتہائی نالائق حکومت ثابت ہوئی ہے۔ جس نے بلا چوں چرا ں آئی ایم ایف کے آگے گھٹنے ٹیکے، ان کی تمام شرائط مان لیں۔ مہنگائی کے باعث عوامی ردعمل پر واپسی کا سفر انہیں مزید مہنگا پڑ رہا ہے۔ ابھی بھی آئی ایم ایف ان پر ناراض ہے کہ عمران خان نے وعدہ کے باوجود عوام کے لئے کچھ ریلیف کا اعلان کیوں کیا ہے؟

تحریک انصاف اب ووٹ وننگ عنصر نہیں رہی!

ہمیں اپوزیشن سے بھی کوئی بہتری کی امید نہیں۔ ان کی معاشی پالیسیاں بھی عمران خان طرز کی ہیں۔ ایک سے جان چھوٹے گی تو دوسرے میں پھنس جائے گی۔ اس صورتحال میں ہمیں اپنا متبادل بیانیہ تعمیر کرنا ہے۔
لاہور میں 27 مارچ کو بائیں بازو کی ایک نئی سیاسی طاقت کے ظہور کا دن ہے۔ آئیے! آپ بھی مہنگائی، بے روزگاری، تعلیمی بحران اور ماحولیاتی تباہی کے خلاف آواز بلند کرنے میں ہمارا ساتھ دیں۔ اتوار 27 مارچ ناصر باغ لاہور کے عظیم اجتماع میں شرکت کریں۔

بے نظیر سے ہوئی ملاقاتیں اور یادیں

جب 1992ء میں وہ لاہور میں خالد جاوید جان کی کتاب ’میں باغی ہوں‘ کی رونمائی کے لئے آئیں تو ہال کے باھر ہمارا جدوجہد کاسٹال لگا ہوا تھا۔ میں ابھی پہنچا نہ تھا کہ وہ سٹال پر تشریف لائیں میرا پوچھا اور پھر لیون ٹراٹسکی کی ایک کتاب ”فاشزم کیا ہے، اس سے کیسے لڑا جائے“ جس کا ترجمہ خالد جاوید جان نے ہی کیا تھا، کی تما م پچاس کاپیاں اور درجنوں دیگر کتابیں خریدیں۔

عاصمہ جہانگیر کانفرنس: ان تمام کی شرکت جنہیں مین سٹریم میڈیا نظر انداز کرتا ہے (پہلی قسط)

وہ تمام سیاسی و سماجی رہنما جنہیں کوئی اور مین سٹریم پلیٹ فارم نہیں ملتا اس کانفرنس میں خصوصی طور پر مدعو کئے گئے تھے۔ ان میں منظور پشتین اور میاں نواز شریف سر فہرست تھے۔ ان دونوں کے نام شائع شدہ پروگرام میں شامل نہ تھے تا کہ حکومت ان سے گھبرا کر اس اہم کانفرنس کے انعقاد میں کوئی رخنہ نہ ڈالے، مگر پھر بھی میاں نواز شریف کی تقریر کے آغاز میں ہی انٹرنیٹ تار کاٹ دئیے گئے۔ پورے علاقہ کو دو گھنٹے انٹرنیٹ سے محروم رکھا گیا۔ ہمیں بھی اس کا کچھ اندازہ تھا۔ اسی لئے متبادل انتظامات بھی کئے گئے تھے۔ متبادل کے طور پر میاں نواز شریف نے ایک سیٹلائیٹ فون کے ذریعے خطاب کیا۔

تاریخ بدلنے والا ایک شرمناک معاہدہ

ایک معاہدہ ابھی تحریک انصاف نے تحریک ِلبیک پاکستان (ٹی ایل پی) سے کیا جس کی تفصیل سامنے نہیں آئی۔ ایک معاہدہ مسلم لیگ حکومت نے نومبر 2017ء میں کیا تھا اسی تحریک لبیک سے۔ اس وقت جو راقم نے لکھا وہ تقریباً آج کے معاہدے سے مماثلت رکھتا ہے۔

’تھرڈ ورلڈ میں جمہوریت فوج کی مرضی سے چلتی ہے‘

آج کل ایم کیو ایم کے دونوں دھڑے ایک دوسرے کو اسٹیبلشمنٹ کے ایجنٹ قرار دے رہے ہیں۔ تین دن قبل ہی حامد میر نے جنگ اخبار میں اسی سوال پر ’جیسا کرو گے ویسا بھرو گے‘ کے عنوان سے اپنے کالم ’قلم کمان‘ میں لکھا ہے کہ ’اسٹیبلشمنٹ کی سیاست میں مداخلت برا عمل ہے۔ اسکے برے نتائج پیدا ہوتے ہیں ہم سب کو جو بھی کرنا ہے آئین کے اندر رہ کر کرناہے‘۔ حامد میر نے یہ درست نتیجہ اخذ کیا ہے۔

پہلے پالتے ہیں پھر مارتے ہیں

ریاستی تشدد اس کا حل نہیں اور نہ ہی ریاست کے پاس اتنی نظریاتی بنیاد مضبوط ہے کہ وہ لبیک لبیک کہنے والوں پر گولیاں چلاتی رہے۔ ریاست ایسے گروہوں سے اپنے تمام رشتے ناطے توڑے بغیر ان کی طاقت کو بڑھنے سے نہیں روک سکتی۔