Haris Qadeer

حارث قدیر کا تعلق پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے علاقے راولا کوٹ سے ہے۔  وہ لمبے عرصے سے صحافت سے وابستہ ہیں اور مسئلہ کشمیر سے جڑے حالات و واقعات پر گہری نظر رکھتے ہیں۔


’پی ٹی آئی نے سیاسی کلچر کو گالم گلوچ بنا دیا، یوں طنز سمجھنا بھی مشکل ہو گیا‘

زیادہ تر میرا مواد عمران خان اور ان کے فالوورز کے حوالے سے ہوتا ہے۔ تاہم مجھے جو بھی چیز غلط نظر آئے گی، بلاتفریق سب کو تنقید کا نشانہ بنایا جائے گا۔ کسی کی تضحیک کئے بغیر اس کو اپنی نیچرل کمنٹری کی شکل میں منافقت کو سامنے لایا جائے۔ آہستہ آہستہ سب پر تنقید ہو گی۔

ناکام نظام کا بوسیدہ انفراسٹرکچر: سیلاب نے 419 زندگیاں نگل لیں

سرمایہ دارانہ نظام کی موجودگی میں سیلابی کیفیت پر قابو پانے اور ہر سال برباد ہونے والی زندگیوں کو محفوظ رکھنے سمیت اس خطے کے کسی بھی ایک سنجیدہ مسئلے کا حل ممکن نہیں ہے۔ نسل در نسل سے سرمائے کے جبر کا شکار محنت کشوں کی بغاوت اور اپنے مقدر کو اپنے ہاتھوں میں لینے کاعمل ہی اس خطے سے ہر طرح کی بربادی کے خاتمے کی راہیں ہموار کر سکتا ہے۔

جموں کشمیر: ٹورازم ڈویلپمنٹ اتھارٹی میں فوج کے نمائندے بھی رکن ہونگے، بل ارسال

حکمران اشرافیہ کا مقصد سیاحت کے نام پر اپنی لوٹ مار کو بڑھانا، قیمتی اراضی پر قبضہ کرنا اور اس خطے کے وسائل لوٹنا ہے، سیاحت کے فروخت سے مقامی آبادیوں کی معیشت کو بہتر کرنے کے مقاصد کیلئے اس طرح کے خفیہ ہتھکنڈے نہیں کئے جاتے، بلکہ مقامی آبادیوں کی مشاورت اور ہم آہنگی سے منصوبہ جات کو ڈیزائن کیا جاتا ہے۔

تنویر الیاس قوم پرستوں کیلئے تہاڑ جیلیں، صحافیوں کو صحافت سکھائیں گے

جب تک مسائل موجود ہیں، تب تک ان کے خلاف جدوجہد بھی موجود رہے گی۔ کسی مخصوص خطے یا علاقہ میں موجود سیاسی تحرک کو مصنوعی قومی شاؤنزم، ریاستی جبر اور سکیورٹی سلوشن کے ذریعے دباتے ہوئے حب الوطنی پیدا کرنے کی کوششیں کامیاب ہونے کی بجائے الٹا پڑنے کے خدشات اور امکانات زیادہ موجود رہتے ہیں۔ اس خطے سے ابھرنے والی بغاوتیں اور تحریکیں اس ریاستی ڈھانچے کو چیلنج کرنے کے ساتھ ساتھ اس نظام کو چیلنج کرنے کی صلاحیت حاصل کرتے دیر نہیں لگائیں گی۔

طالبان، ڈرگس اور جموں کشمیر

’یہ خطہ سیاسی طور پر جتنا متحرک ہے، اس کے نوجوانوں کو آسانی سے ریاستی مقاصد کیلئے استعمال نہیں کیا جا سکتا۔ اس لئے ایک سازش کے تحت نوجوان نسل کو ہی مفلوج اور اپاہج کرنے کی منصوبہ بندی کی گئی ہے۔ سمگلنگ کے ان تمام ذرائع کا فوری خاتمہ کیا جانا چاہیے۔ ریاست اگر چاہے تو ایک سوئی یہاں نہیں پہنچ سکتی، چوری کی گاڑیوں سے لے کر نان کسٹم پیڈ گاڑیاں، اسلحہ اور منشیات یہاں کس طرح پہنچ رہے ہیں، یہ سب کو معلوم ہے۔ کوئی بولنا اور آواز اٹھانا نہیں چاہتا، کیونکہ بہت سے طاقتور حلقوں کا کاروبار اور مفادات اس سب انسانیت سوز دھندے سے جڑے ہوئے ہیں۔‘

آکسفورڈ یونیورسٹی میں یونین اچھی بات: پاکستان میں طلبہ یونین پر پابندی

’تمام سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں نے احمد نواز کو آکسفورڈ یونین کا صدر منتخب ہونے پر مبارکباد دی ہے۔ پاکستان کو نوجوان قیادت کی ضرورت ہے لیکن پاکستان میں طالب علم طلبہ یونین کے حق سے محروم ہیں۔ ہماری حکومتیں اس حق سے پاکستانی نوجوانوں کو محروم رکھنا چاہتی ہیں۔‘

سامراجی گدھوں کے جال میں ’الجھا‘ باغی

تاریخ کے تلخ تجربات ہی محنت کشوں اور نوجوانوں کی درسگاہ ہوتے ہیں۔ بار بار گھاؤ کھانے اور سامراجی مقاصد کی بھینٹ چڑھنے والے یہ جموں کشمیر کے نوجوان اور محنت کش اپنے تجربات اور سامراجی دھوکوں سے سیکھ بھی رہے ہیں اور نتائج بھی اخذ کر رہے ہیں۔ وہ وقت بھی آئے گا جب اس ہمالیائی خطے سے ابھرنے والے بغاوت کے طوفان غلامی اور جبر کی ہر شکل کو بہا لے جائیں گے۔

جموں کشمیر: وزیر اعظم کی ’سکیورٹی میں خلل‘، صحافی بھارتی ایجنٹ قرار دے دیئے گئے

سیاسی و سماجی رہنماؤں، وکلا، صحافیوں، طالبعلم رہنماؤں اور ٹریڈ یونین رہنماؤں نے صحافیوں اور سیاسی کارکنوں کے خلاف بے بنیاد مقدمات قائم کرنے اور ہراساں کرنے کیلئے دی گئی حکومتی درخواست پر سخت تشویش کا اظہار کیا ہے۔ سوشل میڈیا کے مختلف پلیٹ فارمز پر صحافیوں اور سیاسی کارکنوں کو ہراساں کرنے کی مذمت کی جا رہی ہے اور مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ ترجمان وزیر اعظم کے خلاف کارروائی کی جائے۔