Haris Qadeer

حارث قدیر کا تعلق پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے علاقے راولا کوٹ سے ہے۔  وہ لمبے عرصے سے صحافت سے وابستہ ہیں اور مسئلہ کشمیر سے جڑے حالات و واقعات پر گہری نظر رکھتے ہیں۔


جموں کشمیر: بلدیاتی انتخابات ری شیڈول، سازشیں پھر بھی جاری

جس نئی سیاسی پرت کو سامنے آنے سے روکنے کیلئے بلدیاتی انتخابات کی راہ میں رکاوٹیں کھڑی کی جا رہی ہیں، وہ انتخابی مہم کے دوران نہ صرف سامنے آچکی ہے، بلکہ اپنے سیاسی حق کے حصول کیلئے کمر بستہ بھی نظر آتی ہے۔ بلدیاتی انتخابات کے ملتوی ہونے کی صورت میں اس خطہ میں احتجاج کی ایک نئی لہر کا ابھار ہو سکتا ہے۔ یہ احتجاج محض بلدیاتی انتخابات کے انعقاد کے مطالبے تک محدود نہیں رہے گا۔

علی وزیر کو جیل میں رکھنے کیلئے سب ’ایک پیج‘ پر: زر ضمانت 29 لاکھ ہو گیا

علی وزیر اس وقت ایک ایسا انقلابی استعارہ بن چکے ہیں کہ جس کے خلاف حکمران طبقات کے سارے نمائندگان تمام تر آپسی اختلافات کو ایک طرف رکھتے ہوئے ’ایک پیج‘ پر نظر آ رہے ہیں۔ بظاہر پیپلز پارٹی اور پاکستان تحریک انصاف ایک دوسرے پر تنقید کے تیر برسانے میں پیش پیش ہیں۔ دونوں جماعتوں کی قیادتوں کی سیاست ہی ایک دوسرے کے خلاف نظر آتی ہے مگر علی وزیر کے معاملے پر دونوں جماعتوں کی حکومتیں باہمی تعاون اور ہم آہنگی کا بے مثال مظاہرہ کر رہی ہیں۔

’ماہواری جسٹس‘: سیلاب زدہ علاقوں میں 8 ملین خواتین پیریڈز سپلائیز سے محروم

ماہواری جسٹس مہم‘کے دوران بے شمار مشکلات پیش آئیں اور تنقید کاسامنا کرنا پڑا، تاہم کچھ حوصلہ افزا باتیں بھی تھیں۔ ہم محض 70 ہزار خواتین کو پیریڈ سپلائیز مہیا کر سکے ہیں۔ سیلاب کے آفٹر افیکٹس لاکھوں خواتین کو متاثر کر رہے ہیں۔ ریاستی سطح پر اقدامات کی ضرورت ہے۔ اس ایشو پر بات ہونی چاہیے۔ اس قدرتی عمل کو شرمندگی اور گندگی سے جوڑنابند کیا جانا چاہیے، نصاب کو تبدیل کرنے کی ضرورت ہے۔ سب سے بڑھ کر خواتین کے بارے میں پالیسی بنانے میں خواتین کی شرکت کو لازمی کیا جانا ضروری ہے۔

’COP27‘: موسمیاتی تبدیلیوں سے نمٹنے کیلئے عالمی اہداف مصنوعی، جعلی اور بھونڈے

ماحولیاتی تباہی کے تدارک کے نام پر عالمی ماحولیاتی کانفرنس ’COP27‘ رواں ماہ 06 نومبر کو شروع ہو چکی ہے۔ مصر کے شہر شرم الشیخ میں منعقدہ یہ کانفرنس 18 نومبر تک جاری رہے گی۔ ایک مرتبہ پھر دنیا بھر کے حکمران بیٹھ کر ماحولیاتی آلودگیوں پر ایک بے معنی بحث و تکرار کے بعد کچھ اہداف مقرر کریں گے اور پھر آئندہ کانفرنس کے انعقاد تک چند ایک مستثنیات کے علاوہ صورتحال جوں کی توں رہے گی۔ جو اقدامات ماضی میں کیے جانے تھے یا جو آئندہ اہداف لئے جاتے ہیں، وہ محض نمائش سے کچھ زیادہ نہیں ہیں۔ اس کانفرنس میں زیادہ تر بحث و تکرار ماحولیاتی آلودگی کے ذمہ داران کے تعین کے گرد ہی رہتی ہے۔

جموں کشمیر: بلدیاتی انتخابات کے راستے میں رکاوٹیں کیوں؟

پاکستان کے زیر انتظام جموں کشمیر میں بلدیاتی انتخابات کا انعقاد ایک مرتبہ پھر مشکوک ہو گیا ہے۔ تاہم صورتحال آہستہ آہستہ دونوں فریقین کو بند گلی میں دھکیلتی جا رہی ہے۔ گزشتہ ایک سال سے بلدیاتی انتخابات کے انعقاد کیلئے سپریم کورٹ کے احکامات کے بعد تیاریوں اور رکاوٹوں کا سلسلہ جاری ہے۔

سوات: فضل اللہ کو تین سال منظم ہونے کا موقع ملا، اب ایسا ممکن نہیں

ڈاکٹر سید عرفان اشرف کہتے ہیں کہ طالبان مالاکنڈ ڈویژن سے کبھی گئے ہی نہیں تھے، انکی محفوظ پناہ گاہیں آج بھی موجود ہیں۔ سرحداور باڑ بھی عام لوگوں کیلئے رکاوٹ ہیں، دہشتگرد جب چاہیں آ اور جا سکتے ہیں۔ افغانستان میں طالبان کے اقتدار کے بعد انہیں لایا بھی گیا ہے لیکن اہم چیز انہیں سرگرمیوں کی اجازت دی گئی ہے۔ ریاست کی پشت پناہی نہ ہو تو طالبان کو مقامی عوام چند لمحوں میں ختم بھی کر سکتے ہیں اور ان کی دہشت کا بھی خاتمہ کیا جا سکتاہے۔ اب لوگ تنگ آ چکے ہیں، اب اس قتل عام کو دوبارہ پنپنے نہیں دیا جائے گا۔

جموں کشمیر: بلدیاتی انتخابات کی تیاریاں، خدشات اور امکانات

سیاسی جماعتیں البتہ اس صورتحال میں تقسیم نظر آتی ہیں۔ مرکزی دھارے کی سیاسی قیادتیں بلدیاتی انتخابات کا انعقاد رکوانے کیلئے سردھڑ کی بازی لگائے ہوئے ہیں۔ تاہم قوم پرست اور ترقی پسند جماعتیں ایک مرتبہ پھر انتخابات کے حوالے سے شش و پنج کا شکار ہیں۔
جموں کشمیر لبریشن فرنٹ کے تمام دھڑوں کی جانب سے ایک مرتبہ پھر انتخابات کے بائیکاٹ کا فیصلے کیا ہے، تاہم کچھ دھڑوں کے مرکزی عہدیداران اور کارکنان انتخابات میں حصہ لینے کیلئے کمربستہ ضرور ہیں۔ دوسری طرف ترقی پسند کہلانے والی قوم پرست جماعتوں کی جانب سے انتخابات میں حصہ لینے کیلئے اپنے امیدوار آزاد حیثیت میں میدان میں اتارنے کا فیصلہ کیا ہے۔

موجودہ حکومت بھی ہابرڈ رجیم ہے، اگلا سیٹ اپ بھی ہابرڈ ہی ہو گا: عائشہ صدیقہ

یہ ایک کھچڑی ہے، بلکہ وہ تو فوری پک جاتی ہے، یہ فوری نہ پک پانے والی کھچڑی ہے۔ تین چیزیں اکٹھی چل رہی ہیں، معاشی کرپشن، سیاسی کرپشن اور دانشورانہ کرپشن حد سے زیادہ بڑھ گئی ہے۔ یہاں اب خواب لینے والے اور بات کرنے والے بھی نہیں رہ گئے ہیں۔ دو انتہائیں ہیں، یا تو مذہب کی طرف دھکیلا جاتا ہے، ہر مسئلے کو مذہب کی آنکھ سے دیکھا جاتا ہے، یا پھر مذہب سے پرے کی بات ہوتی ہے۔ ہر چیز ایک جگہ پر جا کر پھنس چکی ہے۔ سرمایہ داری کا گوڑھا رابطہ نیشنل ازم سے ہے۔ نیشنل ازم سرمایہ داری کا ایک حصہ ہے، جو عقل کو بالکل ماؤف کر دیتا ہے۔ انسانیت، اصول پرستی اور خوابوں کی بات کہیں پیچھے دور چلی جاتی ہے۔ جب خواب لینے والے ہی نہیں رہ گئے، تو پھر ہم آگے کیا بڑھیں گے۔

ضمنی انتخابات میں عمران خان کی کامیابی کی وجہ: قوم یوتھ کا وینا ملک ڈس آرڈر

یاد رہے ماہرین نفسیات نے ابھی تک سٹاک ہولم سنڈروم کو ایک بیماری نہیں مانا۔ اس لئے اس کا کوئی علاج بھی تجویز نہیں کیا گیا۔ وینا ملک ڈس آرڈر البتہ ایک خطرناک بیماری ہے۔
ہاں مگر یہ کوئی نفسیاتی بیماری نہیں ہے۔ یہ سماجی و سیاسی و نظریاتی بیماری ہے۔ اس کی تشخیص ماہرین نفسیات نہیں، ترقی پسند سیاسی کارکن کر سکتے ہیں۔ خوش قسمتی سے اس کا علاج بھی ممکن ہے۔ اس بیماری کا علاج ہے سوشلزم۔
اس علاج کے نتیجے میں ان مراعات کا خاتمہ کرنا درکارہوتا ہے جن کے نتیجے میں قوم یوتھ وجود میں آتی ہے۔

اسلام آباد: سینٹورس میں آتشزدگی کی تحقیقات کیخلاف کشمیریت پر مبنی احتجاج

پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد میں واقع پاکستان کے زیر انتظام جموں کشمیر کے وزیر اعظم تنویر الیاس کے ملکیتی شاپنگ و رہائشی مال ’سینٹورس‘ میں آتشزدگی کے واقعہ کے بعد اسلام آباد انتظامیہ کے خلاف تنویر الیاس اور ان کے وزرا تحریک انصاف حکومت کے خلاف سازش قرار دے کر احتجاج کر رہے ہیں۔ اس کے علاوہ کچھ صحافی اورقوم پرست کہلانے والے سیاسی کارکنان کے ذریعے بھی اس اقدام کو کشمیریوں کے خلاف انتقامی کارروائی قرار دیکر نہ صرف سوشل میڈیا پر احتجاج کیا جا رہا ہے، بلکہ نیشنل پریس کلب کے سامنے احتجاج کی بھی کال دی گئی تھی۔ اس تمام سرگرمی کا مقصد اسلام آباد انتظامیہ پر دباؤ ڈال کر تحقیقات پر اثر انداز ہونے سے زیادہ کچھ بھی نہیں لگ رہا ہے۔ اس کی کچھ وجوہات بھی ہیں، جنہیں آگے چل کر زیر بحث لایا جائے گا۔