Qaisar Abbas

ڈاکٹر قیصرعباس روزنامہ جدوجہد کی مجلس ادارت کے رکن ہیں۔ وہ پنجاب یونیورسٹی  سے ایم اے صحافت کے بعد  پاکستان میں پی ٹی وی کے نیوزپروڈیوسر رہے۔ جنرل ضیا کے دور میں امریکہ آ ئے اور پی ایچ ڈی کی۔ کئی یونیورسٹیوں میں پروفیسر، اسسٹنٹ ڈین اور ڈائریکٹر کی حیثیت سے کام کرچکے ہیں۔ آج کل سدرن میتھوڈسٹ یونیورسٹی میں ایمبری ہیومن رائٹس پروگرام کے ایڈوائزر ہیں۔


امریکی محکمہ انصاف اسرائیل میں شیریں ابو عاقلہ کے قتل کی تحقیقات کرائے: نیشنل پریس کلب واشنگٹن ڈی سی کا مطالبہ

مقتولہ ایک نامور رپورٹر کی حیثیت سے گزشتہ دو دہا ئیوں سے مشرق وسطیٰ میں کام کررہی تھیں اور قتل کے دن وہ جنین میں فلسطینی شہریوں پر اسرائیلی فوج کے حملے کی رپورٹنگ میں مصروف تھیں۔ مئی میں ان کی ہلاکت سے اب تک تین ماہ کے دوران کسی ملزم کی شناخت نہیں کی گئی ہے۔

داخلی جلا وطنی!

کیا آپ بھی کسی ایسی ہی جگہ جلا وطنی کے دن تو پورے نہیں کر رہے؟

چلئے چھپا کے غم بھی زر و مال کی طرح: شکیب جلالی

”اردو غزل کی روایت میں شکیب کا مقام منفرد ہے۔ اس کے دور میں فیض اور ناصر کاظمی خوبصورت غزلیں کہہ رہے تھے مگر وہ شکیب ہی تھا جس نے غزل کو موضوع و اظہار کے حوالے سے ایک متوازن جدت کا موڑ دیا۔ یوں وہ جدید غزل نگاروں کا سالار ہے۔“

یاسین ملک کو فوری طور پر رہا کیا جائے: ساؤتھ ایشیا ڈیموکریسی واچ

”کشمیر کے اس نڈر رہنما کو، جو اپنے لوگوں کی حق خود ارادیت کے لئے عرصے سے پرامن تحریک کی قیادت کر رہا ہے، کسی ثبوت کے بغیر سیاسی انتقام کا نشانہ بنا یا جارہے ہے جو ناقابل قبول ہے۔ بھارت کی ایک نام نہاد عدالت کی جانب سے جھوٹ پر مبنی شہادتوں پر عمر قید کی سزا انصاف کے تقاضوں کی کھلی خلاف ورزی ہے۔“

برصغیر کا سیاسی نظام جاگیر دارانہ ذہنیت کی گرفت میں ہے: بھارتی سماجی کارکن سندیپ پانڈے

”بد قسمتی سے بر صغیر کا سیاسی نظام جاگیردارانہ ذہنیت کی گرفت میں ہے۔ مسئلہ یہ ہے کہ ہمارے رہنما طاقت کے حصول کا کھیل کھیلنے میں مصروف ہیں اور عوام کی بہبود ان کی ترجیحات میں شامل نہیں ہے۔ انڈیا اور دیگر جنوبی ایشیا ئی ملکوں کے سیاسی لیڈروں کی اولادیں ان کی سیاسی میراث سنبھالتی ہیں جن پر کوئی سوال نہیں اٹھا سکتا۔ کرپشن ہمارے نظام کا حصہ ہے جس کے ذریعے لیڈر اپنی سیاست کی فنڈنگ کرتے ہیں اور اپنی دولت میں اضافہ کرتے ہیں۔“

پاکستان میں صحافیوں کے خلاف مقدمات ختم کئے جائیں: سی پی جے

تاریخی نقطہ نظرسے کم وبیش ہر دور میں ہماری صحافت پابندیوں میں جکڑی رہی ہے۔ فرق صرف اتنا ہے کہ اقتدار سے باہررہنے والی ہر سیاسی جماعت آزادی صحافت کے ترانے گاتی ہے اور اقتدار میں آنے کے بعد اس کی یادداشت سے یہ ترانے حرف غلط کی طرح مٹ جاتے ہیں!

مجید امجد: ایک نظم، ایک غزل

انہوں نے اردو نظم کو جدید موضوعات کا اسلوب دیا اور سادہ مگر عمیق تخیلات کے ساتھ اسے عالمی ادب کے قریب تر کرنے میں اہم کردار اداکیا۔