Yasmeen Afghan

’یاسمین افغان‘ صحافی ہیں۔ وہ ماضی میں مختلف افغان نیوز چینلوں کے علاوہ بی بی سی کے لئے بھی کام کر چکی ہیں۔ سکیورٹی صورتحال کی وجہ سے ان کا قلمی نام استعمال کیا جا رہا ہے۔


’طالبان کے ماتحت زندگی قبرستان جیسی ہے، افغان گھروں میں صرف موت آتی ہے‘

اگست 2021ء میں طالبان کے اقتدار میں آنے کے بعد سے کابل اور ملک کے دیگر حصوں میں تشدد میں اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔ یہ تصور ہوا میں اڑ گیا ہے کہ طالبان نام نہاد امن اور سلامتی لائے ہیں۔ کابل اور ملک کے باقی حصوں میں کسی سے بھی بات کریں تو ہر کوئی یہ محسوس کر رہا ہے کہ نام نہاد امن معاہدہ دراصل افغان مصائب کو طول دینے اور ایک جنونی اور دہشت گرد گروہ کے اقتدار میں آنے کی راہ ہموار کرنے کے سوا کچھ نہیں تھا تاکہ قتل و غارت گری کا سلسلہ جاری رہے۔

طالبان قبضے کے 3 ماہ: لامحدود بربریت

افغانستان کے لوگ طالبان کے خلاف مزاحمت کا مظاہرہ کر رہے ہیں۔ چاہے وہ کابل، ہرات یا مزار کی سڑکیں ہوں یا کرکٹ کے بین الاقوامی پلیٹ فارم، لوگ ہر سطح پر مزاحمت کر رہے ہیں۔ افغانستان کی خواتین سب سے زیادہ بہادر ہیں کیونکہ انہوں نے وقتاً فوقتاً احتجاجی مظاہرے کیے ہیں، حالانکہ طالبان نے مظاہروں پر پابندی عائد کر رکھی ہے اور مظاہروں کی کوریج کرنے والے صحافیوں کو بھی گرفتار کیا ہے۔

افغان کرکٹرز کا طالبان کے سامنے انکار

افغان الیون بالخصوص کپتان محمد نبی اپنے آنسو نہ روک سکے کیونکہ میچ سے قبل قومی ترانہ گایا گیا، انکی ایک تصویر وائرل ہو گئی۔ سٹیڈیم میں موجود افغان تماشائی سب افغان پرچم لہرا رہے تھے۔ کچھ نے سہ رنگے پرچم کی ٹی شرٹس پہن رکھی تھیں، کچھ نے اپنے چہرے تین رنگوں میں پینٹ کرتے ہوئے افغان پرچم کی تصویر کشی کر رکھی تھی۔ اب یہ محض کرکٹ میچ نہیں تھا بلکہ یہ کھیل بطور مزاحمت تھا۔

افغان خواتین بربریت کی بند گلی میں

اب پلک جھپکتے ہی افغان خواتین وہ تمام حقوق کھو چکی ہیں۔نہ صرف وہ حقوق جن کیلئے وہ انتھک اور تندہی سے لڑی تھیں بلکہ خواتین کارکنوں کو اب طالبان تلاش کر رہے ہیں۔

یونیورسٹی پروفیسر کا خاندان سمیت کفن پوش احتجاجی جلوس

دنیا کے لیے یہ ایک چھوٹا سا احتجاج لگتا ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ طالبان کی جانب سے افغانستان میں ہر قسم کے احتجاج پر پابندی عائد کئے جانے کے باوجود اس بہادر خاندان نے باہر آ کر دنیا کو دکھانے کے لیے احتجاج کیا کہ ان کی خاموشی نے افغانستان کو ایک زندہ خواب میں بدل دیا ہے، لیکن دھمکیوں کے باوجود افغان سڑکوں پر آئیں گے، چاہے وہ تعداد میں کم ہی کیوں نہ ہوں، اپنی آواز بلند کریں گے۔ ان چھوٹے مظاہروں کے بعد مستقبل قریب میں بڑے احتجاج ہوں گے۔

فحاشی کی روک تھام کیلئے طالبان افغان نان اور کباب پر بھی پابندی لگا رہے ہیں

طالبان کا بنیادی مقصد افغان خواتین کو نشانہ بنانا ہے، وہ خواتین کیخلاف سخت قوانین متعارف کروا رہے ہیں، وہ انہیں معاشرے سے پوشیدہ کرنا چاہتے ہیں، انہیں بے رنگ کرنا چاہتے ہیں، وہ خواتین کو سماجی، تعلیمی اور معاشی طور پر سزا دے رہے ہیں لیکن افغان خواتین ان قرون وسطیٰ کی طاقتوں کے خلاف سخت طریقے سے لڑ رہی ہیں اور ان کے غیر انسانی حالات کے سامنے نہیں جھکیں گی۔

طالبان کیخلاف پورا افغانستان غیر اعلانیہ ہڑتال پر ہے

”یہ آسان نہیں ہے، کیونکہ ہمیں مالی مسائل بھی ہیں لیکن ہمیں ان وحشیوں کو خاموشی سے ہی نہ کہنے کی ضرورت ہے۔ وہ ہمارے بغیر کچھ نہیں کر سکتے اور ہم بھی ان کے حکم کے تحت کام نہیں کر سکتے اس لیے ہم دور رہتے ہیں۔“

عورتوں اور خوشیوں سے خوفزدہ طالبان

”افغان لوگوں کا کسی چیز پر کوئی اختیار باقی نہیں رہا۔ ہماری ہر چیز حتیٰ کہ ہماری نجی زندگی اور بیڈ روم بھی طالبان سے محفوظ نہیں۔شادیوں پر طالبان کے حملوں بارے اور بھی رپورٹس سننے کو ملی ہیں۔ بعض خواتین اب بھی جینز پہن کر نکلتی ہیں۔۔۔کہ یہ بھی مزاحمت کی ایک علامت ہے،مگر اکثریت نے برقعہ اوڑھ لیا ہے۔“