پاکستان

پی ڈی ایم کے لانگ مارچ سے نہیں، تحریک نا انصاف کی حکومت کا خاتمہ ٹرالی مارچ سے ہو گا

ہماری پاکستان کے شہریوں سے اپیل ہے کہ وہ کسی لانگ مارچ کے جھمیلے میں پڑے بغیر، مزدوروں کسانوں، طالب علموں اور خواتین کی تنظیموں کے ساتھ مل کر ٹرالی مارچ کا اہتمام کریں۔ پاکستان تحریک انصاف کی جگہ کسی اور سرمایہ دار سیاسی جماعت کی حکومت عام شہریوں کے مسئلے کا حل نہیں۔ عام شہریوں کو عام شہریوں کی حکومت بنا کر لوٹ کے اس نظام کو دفن کرنا ہو گا۔ یہی جمہوریت ہے، یہی مستقبل کی واحد ضمانت ہے۔

’غیر قانونی‘ کشمیری مہاجرین کی سندھ میں آباد کاری کے مضمرات

حکمرانوں سے مطالبہ کرنے کے بجائے اس سرمایہ دارانہ نظام کو ڈھانا ہو گا جو یہاں کی تمام قومیتوں کے محنت کشوں اور کسانوں کے زوال کا سبب ہے اور یہ کام تمام قوموں کے محنت کشوں اور مظلوموں کو اکٹھا کر کے ہی کیا جا سکتا ہے۔

پشاور یونیورسٹی پی ٹی آئی کی تباہ کاریوں کا شکار: شہر کی باقی یونیورسٹیاں بھی لپیٹ میں آئیں گی

’گزشتہ عرصہ میں درجہ چہارم کے 450 سے زائد کنٹریکٹ ملازمین کو ملازمتوں سے فارغ کیا گیا لیکن اطلاعات ہیں کہ مستقل آسامیاں تخلیق کر کے درجہ چہارم کے ملازمین کی تعیناتی کی منصوبہ بندی بھی کی گئی ہے۔

اسلام آباد: ملازمین پر ریاستی تشدد اور شیلنگ، سینکڑوں زخمی، 150 گرفتار، ملک گیر ہڑتال کی کال

پارلیمنٹ ہاؤس اسلام آباد کے سامنے تنخواہوں میں اضافے اور دیگر مطالبات کیلئے احتجاج کرنے والے ہزاروں سرکاری ملازمین کو منتشر کرنے کیلئے وفاقی پولیس نے آنسو گیس کی شیلنگ اور لاٹھی چارج کیا جس کی وجہ سے سینکڑوں ملازمین زخمی ہو گئے ہیں جبکہ 150 سے زائد کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔

17 فروری: پارلیمنٹ ہاؤس کے سامنے مزدور دھرنا ہو گا

آل پاکستان ایمپلائز، پنشنرز و لیبر تحریک کی قیادت نے اعلان کیا ہے کہ 17 فروری ملک بھر کے ملازمین پنشنروں اور مزدوروں کے حقوق کے حصول کا دن ہو گا۔ حکومت نے اگر پرامن احتجاج روکنے کی کوشش کی تو پورے ملک کی بجلی بند کرنے کے ساتھ تمام ایئرپورٹس اور پی آئی اے کا آپریشن روک دیا جائے گا، ریلوے کا پہیہ بھی جام ہو گا اور تمام محکمہ جات میں تالہ بند ہڑتال ہو گی۔

جی بی سے متعلق اتفاق رائے ایک ’میس‘ میں ہوا، اب ایل او سی کو مستقل سرحد بنایا جائیگا: حامد میر

”پی ڈی ایم کی ایک اہم جماعت کے بیک ڈور مذاکرات ناکام ہوئے ہیں۔ اس لئے یہ جھگڑا شدید ہو گیا ہے۔ پانچ فروری کو جلسے میں پی ڈی ایم کی قیادت یہ بتا دے کہ ان سے کس نے یہ کہا کہ لائن آف کنٹرول کو مستقل بارڈر بنانے پر اتفاق رائے کیا جائے۔“