پاکستان

جموں کشمیر: 25 جولائی کو الیکشن کے نام پر سلیکشن ہو گی

اس نظام کے اندر رہتے ہوئے انتخابات محض سرمائے کی آمریت کے سوا کچھ نہیں ہیں، کروڑوں روپے اخراجات کرنے کی اہلیت کے بغیر انتخابات میں حصہ لینا ہی ممکن نہیں ہے۔ نہ ہی انتخابات کے ذریعے سے منتخب ہونے والے کسی بھی طور کی فیصلہ سازی کرتے ہوئے محنت کش طبقے کے دکھوں کا مداوا کرنے کا اختیار رکھتے ہیں، تعلیم، صحت، روزگار اور انفراسٹرکچر جیسے مسائل کا شکار اس خطے کے محنت کشوں کے دکھوں کا مداوا کرنے کیلئے اس نظام میں اب گنجائش ہی موجود نہیں رہی۔ یہی وجہ ہے کہ عوام کی اکثریت ان انتخابات اور حکمرانوں سے بیگانہ اور مایوس نظر آتی ہے۔

’باپ کا پیسہ‘: پروفیسروں کو تنخواہ نہیں مل رہی، بشری بی بی روحانی یونیورسٹیاں بنوا رہی ہیں

29 مئی کو روزنامہ جنگ میں شائع ہونے والی ایک خبرکے مطابق اسلامیہ کالج پشاور کی 110 سالہ تاریخ میں پہلی بار ایسا ہوا ہے کہ نہ صرف سٹاف کو پوری تنخو اہ نہیں مل رہی بلکہ سابق ملازمین کی نصف پنشن بھی ادا نہیں کی جائے گی۔

گلگت بلتستان کے عوام نے فرقہ واریت کو مسترد کر دیا، علما مباہلہ سے دستبردار

گلگت بلتستان میں دو مسالک کے علمانے آگ میں کود کر حقانیت ثابت کرنے کے چیلنج سے دستبرداری اختیار کرتے ہوئے ہردو مسالک کو مسلم تسلیم کر کے پیروکاروں سے دل آزادی کی معافی مانگ لی ہے۔ قبل ازیں عوامی ایکشن کمیٹی گلگت بلتستان کے اجلاس میں تمام سیاسی جماعتوں اور مسالک کی نمائندہ تنظیموں نے فرقہ وارانہ ہم آہنگی ختم کرنے کے اقدامات کو مسترد کیا گیا۔ اجلاس میں مسالک کے درمیان مناظرے، مباہلے اور توہین آمیز گفتگو کی سختی سے مذمت کرتے ہوئے ملوث افراد کے خلاف تادیبی کارروائی کا مطالبہ بھی کیا گیا۔

مفاہمت کی واپسی

دیکھنا یہ ہے کہ مستقبل میں ترقی پسند نظریات کی حامل ایک نئی سیاسی جماعت وجود میں آتی ہے یا کسی ترقی پسند نظریات کی حامل سیاسی جماعت کا احیا ہوتا ہے۔

بلوچستان میں گزشتہ سال 450 گمشدہ افراد بازیاب ہوئے، 1800 مزید لاپتہ: ایچ آر سی پی

گزشتہ سال کے دوران 116 سے زائد حادثات کوئلے کی کانوں میں رونما ہوئے، رپورٹ کے مطابق کانوں میں حادثات کی ایک بڑی تعداد رپورٹ ہی نہیں ہوتی۔ گزشتہ ایک سال کے دوران 116 حادثات میں سے صرف 5 حادثات قومی میڈیا میں رپورٹ ہوئے۔ گزشتہ ایک سال کے دوران کانوں میں حادثات کے نتیجے میں 58 مزدوروں کی ہلاکت ہوئی، جبکہ کم از کم 15 مزدور زخمی ہوئے۔

پاکستانی زیر انتظام جموں کشمیر: اعلیٰ عدالتیں غیر فعال، حکومت ججوں کی تقرری کیلئے آئینی ترمیم لانے میں ناکام

پاکستان کے زیر انتظام جموں کشمیر میں اعلیٰ عدالتیں مکمل طور پر غیر فعال ہو چکی ہیں اور مقامی حکومت اعلیٰ عدالتوں میں ججوں کی تقرری کیلئے دوسری آئینی ترمیم لانے میں ناکام ہو چکی ہے۔

ایچ آر سی پی نے 2021ء کی رپورٹ جاری کر دی: انسانی حقوق کی صورتحال مزید بدتر

کورونا وبا کے باعث لگنے والے لاک ڈاؤن کی وجہ سے پاکستا ن میں ہزاروں افراد کا روزگار ختم ہو گیا، سیاسی و جمہوری آزادیوں پر پابندیاں لگائی گئیں، صحافتی آزادیوں کو سلب کیا گیا، صحت اور انصاف کے بحران میں بھی اضافہ ہوا۔