پاکستان

5 اداروں کی نجکاری کا منصوبہ، جناح کنونشن سنٹر دسمبر تک فروخت کر دیا جائے گا

نجکاری عوام دشمن قدم ہے۔ یہ طبقاتی تفریق بڑھاتی ہے، عدم مساوات کو بڑھاوا دیتی ہے، مصنوعات مہنگی کرتی ہے اور معیار کو کم کیا جاتا ہے۔ نجکاری مزدور دشمن قدم ہے۔ سرکاری نوکری کی بجائے نجی نوکری میں جو مزدور کا استحصال ہوتا ہے اس سے سب واقف ہیں۔ نجکاری نیو لبرل ایجنڈے کا اہم عنصر ہے۔ اداروں کی نجکاری ہو جاتی ہے، عوام اورریاست کو کچھ نہیں ملتا۔

یہ حکومت تعلیم پر جو حملہ کرنے لگی ہے، ضیا بھی نہ کر سکا

پاکستان! خبردار! عمران خان کی حکومت پاکستان کے تعلیمی نظام پر ایسا مہلک وار کرنے جا رہی ہے جس کی مثال ماضی میں نہیں ملتی۔ سنگل نیشنل کریکلم (ایس این سی) یعنی یکساں نصابِ تعلیم کے نام پر جو تبدیلیاں متعارف کروانے کا منصوبہ ہے وہ تو ضیا الحق کی مذہبی جنونی آمریت نے بھی نہ سوچی تھیں۔ ان تبدیلیوں پر اگلے سال سے عمل درآمد شروع ہو گا۔

جو کہتے رہے، آج اس سے الٹ پر گامزن: عمران خان غیر مقبولیت کی انتہا پر

وہ کہتے تھے کہ مہنگائی ہو تو سمجھو وزیر اعظم چور ہے، مہنگائی آج روز ہر گھر کے دروازے پردستک دے رہی ہے۔ ان کا فرمان تھا کہ اوپر ایماندار وزیر اعظم ہو تو کسی کی جرات نہیں کہ بدعنوانی کرے، آج روز ایسے ایسے کیس سامنے آرہے ہیں کہ ماضی کے اسکینڈل بھول جاتے ہیں۔ جیو کی تعریفیں کرتے نہیں تھکتے تھے آج اس کے مالک کو بند کیا ہوا ہے۔ گویا ایک لمبی فہرست ہے۔

کرونا کم نہیں ہوا، ٹیسٹ کم ہوئے ہیں

پرائیویٹ لیبارٹریز میں بھی ٹیسٹوں کا رش کم ہے کیونکہ وہ بہت مہنگے ہیں۔ ان کی فیس کم ازکم سات ہزار روپے ہے اور یہ کہ جن کو کرونا ہوتا ہے انہیں اب ٹیسٹوں کے بغیر ہی کرونا علامتوں کا پتہ چل جاتا ہے۔ اس لئے یہ اپنے آپ کو دھوکہ دینے کے مترادف ہے کہ کرونا کم ہو گیا ہے۔ اعداد و شمار کم ٹیسٹوں کی وجہ سے کم ہیں لیکن پھر بھی کم نہیں ہیں۔

ہارون رشید کا پروفیسر ہود بھائی اور عمار علی جان پر ’سچ کش‘ حملہ

پروفیسر ہود بھائی اور ڈاکٹر عمار علی جان ملک کی دو مقبول شخصیات ہیں۔ وہ اس معاشرے کا ضمیر ہیں۔ ہارون رشید جیسے لوگ بھلے ہی طاقتور ترین لوگوں کے پروردہ ہوں، سچ سب سے زیادہ طاقتور ہوتا ہے۔ طاقت، سرمایہ، ظالمانہ قانون، جبر…کچھ بھی سچ کو شکست نہیں دے سکتا۔

بولتے کیوں نہیں میرے حق میں، آبلے پڑ گئے زباں میں کیا

کتنا مشکل ہوگا وہ عرصہ اُس ماں کے لیے جس کا لختِ جگر پچھلے 9 سالوں سے پابندِسلاسل ہے۔ کامریڈ بابا جان کی والدہ پچھلے 9 سالوں سے حکومت، ریاست اور عدلیہ کے اعلیٰ عہدیداروں سے اپنے بے قصور بیٹے کے لیے انصاف کی امید لگا کے بیٹھی ہیں۔