پاکستان

پاکستان: 62 فیصد نوجوان طلبہ یونین کے حق میں ہیں!

یہ ایک نجی ادارے کا چند گھنٹوں کا سوشل میڈیا کا سروے ہے جس کا نتیجہ ہمارا سامنے واضح ہے اور یہی حقیقت ہے کہ پاکستان میں طلبہ کی اکثریت یونین سازی کے نہ صرف حق میں ہے بلکہ اب وہ یہ حق چھیننے کے لیے بھی تیار ہے جس کا اظہار 29 نومبر کو درجنوں شہروں میں ہونیوالے طلبہ یکجہتی مارچ میں ہوگا۔

یہ نعرے تو کب سے لگ رہے تھے!

یہ مارچ لاہور سمیت ملک کے بڑے شہروں میں تعلیمی نجکاری، ہوش ربا تعلیمی اخراجات اور سرکاری تعلیمی کٹوٹیوں کے خلاف نکالے جا رہے ہیں۔ لاہور میں بھٹہ اور دیگر مزدور بھی اس مارچ میں اپنے مطالبات کے ساتھ جو کم از کم تنخواہ کی ادائیگی کے ارد گرد ہیں، اس مارچ میں شریک ہو رہے ہیں۔

دھرنا ختم ہوا ہے تحریک انصاف کی مشکلات نہیں!

مولانا کے دھرنے کے یک طرفہ خاتمے سے یہ حکومت کوئی مضبوط نہیں ہو گی کیونکہ اس کی کمزوری کی وجوہات اپنی جگہ موجود ہیں۔ معاشی بحران بڑھ رہاہے اور مہنگائی تو نئے ریکارڈ توڑ رہی ہے۔ نیو لبرل ایجنڈے پر تیزی سے عمل درآمد کرانے کی تیاریاں ان کے لئے مزید مشکلات پیدا کریں گی۔

کرتار پور راہداری: کسانوں کو زمین کے عوض ابھی تک رقم ادا نہیں کی گئی!

کسانوں کی کھڑی فصلیں اجاڑ دی گئیں اور اپریل 2019ء تک 1500 ایکڑ زمین کسانوں سے زبردستی سرکار نے حاصل کر لی اوران کو کچھ نہیں بتایا گیا کہ زمین کی کتنی قیمت ادا کی جائے گی؟ اس کے علاوہ کوئی فوری معاوضہ بھی نہ دیا گیا۔ یہ ایک قسم کاگن پوائنٹ پر زمین حاصل کرنے کا طریقہ کار تھا۔

آزادی مارچ پر طفلانہ طبقاتی تجزیے!

محنت کش طبقے میں پدر سری، توہم پرستی یا غیر سائنسی رجحانات اکثر غالب رہتے ہیں۔ اسی کا نتیجہ ہوتا ہے کہ بعض اوقات وہ بنیاد پرست قوتوں اور کچھ موقعوں پر سرمایہ دار رجعت پرست جماعتوں کے پیچھے لگ جاتے ہیں۔ ایسے حالات اور ادوار میں ایک سوشلسٹ کی ذمہ داری ہوتی ہے کہ وہ اپنی کم طاقت کے باوجود درست سمت میں گامزن رہے، صحیح تجزیہ کرے اور سوشلسٹ شعور کی بنیاد پر طبقاتی تحریک کی تعمیر جاری رکھے۔