پاکستان

گلگت بلتستان کو عبوری صوبہ بنانا لداخ کو یونین ٹیریٹری بنانے کے مترادف ہے

ایسے حالات میں آزادی پسند اور انقلابی کارکنان کی جدوجہد کا سفر اور طویل ہوگیا ہے۔ آج بھی حالات اور وقت یہ تقاضا کر رہے ہیں کہ ان سہولت کاروں کی طرف دیکھنے یا ان کو اپنے ساتھ ملانے اور ان کے ساتھ مل کر کسی طرح کی کوئی جدوجہد کا سوچ کر مزید وقت اور توانائیاں ضائع کرنے کے بجائے واضح موقف اختیار کرتے ہوئے اپنی سمت درست کر کے نئے عزم اور نئے انداز سے جدوجہد کو آگے بڑھایا جائے۔

سٹاک ایکسچینج اوپر جانے سے عوام کو کوئی معاشی فائدہ نہیں ہوتا

اس کی دو وجوہات ہیں۔ ایک یہ کہ قیمتیں آسمان سے باتیں کر رہی ہیں چنانچہ پیدا وار میں اضافہ نہ بھی ہو کمپنیوں کی آمدن میں خوب اضافہ ہو رہا ہے۔ مثال کے طور پر آٹے کے ایک 20 کلو تھیلے کی قیمت میں ستمبر میں 0.96 فیصد کا اضافہ ہوا۔ صرف اس وجہ سے 1200 آٹا بنانے والی ملوں کو 12 کروڑ روپے کا فائدہ ہوا۔

پی ٹی آئی حکومت کی معاشی نالائقیاں: صرف اسد عمر نے 743 ارب کا نقصان پہنچایا

اس میں شک نہیں کہ حکومتی فیصلوں کی وجہ سے غربت اور بھوک میں اضافہ ہوا۔ حکومت یہ فیصلہ بھی لے سکتی تھی کہ بہادری کا مظاہرہ کرتے ہوئے دولت کی تقسیم پر توجہ دیتی، بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کا بجٹ بڑھاتی، فلاح و بہبود کے منصوبوں پر خرچ کرتی اور ٹریڈ یونین کو مضبوط کرتی تا کہ مالکان تنخواہوں میں کمی نہ کر سکتے۔ پی ٹی آئی حکومت نے اس کے بالکل الٹ کیا کیونکہ غربت کا خاتمہ، شرح خواندگی میں اضافہ یا بچوں میں کم خوراکی کا مسئلہ حل کرنا پی ٹی آئی حکومت کی ترجیح تھی ہی نہیں۔

مارشل لا لگے گا نہ ہائبرڈ جمہوریت چلے گی

ترقی پسند قوتوں کے لئے یقینا ہائبرڈ جمہوریت کا خاتمہ ایک بہتر بات ہو گی لیکن اہم بات ان امکانات کو بڑھاوا دینا ہے کہ ممکنہ عوامی تحریک ایک نئی عوامی اور سیاسی قیادت کو جنم دے جس میں ٹریڈ یونین، طلبہ تحریک، خواتین اور سماجی تنظیمیں ہراؤل کا کردار ادا کر رہی ہوں۔ اسلام آباد کے دھرنے نے ایک امید دلائی ہے۔

پاکستان سرمایہ دارانہ ناکامیوں کا عجائب گھر ہے

موجودہ عالمی نظام میں اب مزید صلاحیت کی گنجائش موجود نہیں ہے کہ جو جزوی اصلاحات اور پیوند لگانے سے کوئی بہتری آئے گی۔ تاریخی ارتقا اس فیصلہ کن مرحلے پر پہنچ چکا ہے کہ صرف عوام کی براہ راست مداخلت ہی رجعتی رکاوٹوں کو توڑ کر ایک نئے نظام کی بنیاد ڈال سکتی ہے۔

پولیس کی بغاوت: نئی صف بندیوں کا پیش خیمہ

اس ساری صورتحال میں بائیں بازو کو تماشا دیکھنے کی بجائے اس میں مداخلت کرنے کی ضرورت ہے۔ اپنے انڈیپنڈنٹ ایکشن لینے کی فوری ضرورت ہے۔ اسی کے پیش نظر حقوق خلق موومنٹ نے 8 نومبر کو لاہور میں ایک بڑی ریلی نکالنے کا اعلان کر دیا ہے اور طلبہ نے 27 نومبر کو لال لال لہرانے کا عمل دہرانے کے لئے ایک بڑی ریلی نکالنے کا فیصلہ کیا ہے۔

مائی بختاور: جاگیرداری کے خلاف مزاحمت کا استعارہ

انہیں سندھ کے زمینی اشرافیہ کے خلاف مزاحمت کی علامت ہونے کی وجہ سے یاد رکھنا چاہئے کیونکہ ان کا کردار امریکہ کی خواتین ٹیکسٹائل ورکرز سے کم اہم نہیں ہے جنہوں نے 1857ء میں سرمایہ داروں کے ذریعے ان کے استحصال کے خلاف بغاوت کی تھی۔

پی ڈی ایم جلسے عمران حکومت سے نفرت کا اظہار ہیں مگر کیا اپوزیشن ڈٹی رہے گی؟

دس سال پہلے تیونس میں بھی انقلاب سیدی بو سید نامی چھوٹے سے قصبے میں شروع ہوا تھا اور چند دن بعد دارلحکومت کو اپنی لپیٹ میں لے چکا تھا۔ علی آباد، وزیرستان اور کوئٹہ بھی اسلام آباد پہنچ سکتے ہیں۔ ایک مثال ابھی ہماری آنکھوں کے سامنے ہے!