نقطہ نظر

27 نومبر کو طلبہ ملک بھر میں نکلیں: آمنہ وحید

گزشتہ سال مارچ کی وجہ سے وزیراعظم نے بھی ٹویٹ کیا، سندھ اسمبلی میں بل پیش ہوا، ایک نئی بحث کھلی۔ اگر کوئی طلبہ مارچ میں نہیں بھی آسکتا تو کم از کم مطالبات پر ضرور غور کرے۔ ساٹھ فیصد طلبہ کے پاس یونیورسٹی کیمپس اور تعلیم کی سہولت موجود نہیں ہے۔ انٹرنیٹ کی سہولت نہیں ہے۔ ہمارا یہ ماننا ہے کہ جب تک سب لوگ آزاد نہیں ہو

’بلوچستان کے صوبہ بننے سے مسئلے حل نہیں ہوئے تو گلگت بلتستان صوبہ بھی کسی مسئلے کا حل نہیں‘

نہ تو ہمارے قدم لڑکھڑائے ہیں، نہ ہمارے حوصلے کمزور ہوئے ہیں اور نہ ہی ہم جدوجہد کے سفرمیں تھکن محسوس کر رہے ہیں بلکہ ہم پہلے سے زیادہ مضبوط بنیادوں پر اپنی پارٹی کو مضبوط کرتے ہوئے، پارٹی کیڈرز کو نظریاتی اور سیاسی بنیادوں پر تیار کرتے ہوئے فیصلہ کن لڑائی کے لئے آگے بڑھیں گے اور حتمی فتح تک جدوجہد کا سفر جاری رکھیں گے۔

دیر کی طالبہ کا طالبان کے نام خط: ’بھائیو برقعہ بھی تو کفن ہی ہے‘

یقین کیجئے ہم نے صبح کالج جاتے ہوئے برقع پہنا ہو نہ پہنا ہو، دِیر سے لے کر کراچی تک ہم نے سر پر کفن ضرور پہنا ہوتا ہے۔ معلوم نہیں کب کسی بھائی، کزن، طالب یا مجاہد کی غیرت جاگ جائے اور نا مناسب لباس یا خاندان کو بد نام کرنے کے الزام میں ہم پر تیزاب پھینک دے، بندوق کی لبلبی دبا دے یا کسی خنجر کی پیاس ہمارے خون سے بجھا دے۔

کیوبا میں سوشلسٹ انقلاب کیوں بچا ہوا ہے؟

ایک چھوٹا سا کیربئین جزیرہ، صدیوں سے کلونیل ازم اور سامراجیت کی وجہ سے پس ماندگی کا شکار، ساٹھ سال سے امریکی پابندیوں اور بائیکاٹ کا نشانہ، ان تمام مشکلات کے باوجود پوری دنیا کو کیا کچھ فراہم کر رہا ہے؟ میری کتاب ایسے ہی سوالوں کا جواب دیتی ہے۔

لیبر پارٹی سے کوربن کی معطلی اسرائیل کے ناقدین کو خاموش رہنے کا پیغام ہے

برطانوی حالات کا تقاضا ہے کہ سوشلسٹ پارٹی آف انگلینڈ بنانے بارے سوچا جائے۔ سوچنے کا مطلب یہ نہیں کہ کل اس کا اعلان کر دیا جائے۔ ہاں مگر یہ سمجھنا کہ سب ٹھیک ہو جائے گا محض ایک مذاق ہی ہو سکتا ہے۔ نئی جماعت بنانے کے لئے ترقی پسند ٹریڈ یونینز کو بھی بات چیت میں شامل کرنا ہو گا۔ اس کے لئے بہت زیادہ مکالمے کی ضرورت ہے…

’پی ڈی ایم کا ایجنڈا صرف سیاسی ہے، سماجی اور معاشی ایجنڈا غائب ہے‘

ہم 8 نومبر کو پیپلز چارٹر آف ڈیمانڈ لے کر آ رہے ہیں جو کہ سماجی اور معاشی ایجنڈا ہے یعنی پی ڈی ایم سے مختلف ہے۔ ہمیں چاہیے کہ اس طرح ہی پسے ہوئے طبقات کے ساتھ کام کر کے خود کو منظم کریں تا کہ وقت آنے پر ان پارٹیوں کو بھی چیلنج کر سکیں۔

ہمیں کیسی جمہوریت چاہئے؟

جہاں کی جمہوریت اور حکومت حقیقی بنیادوں پر عام لوگوں اور محنت کشوں کی ہو گی اور وہاں انسان حقیقی بنیادو ں پر اک انسان ہو گا۔

وزیر خانم: پدر سری معاشرے کا صنفی استعارہ

میرے نقطہ نظر کے مطابق شمس الرحمن کی یہ تصنیف ایک پدر سری معاشرے کا صنفی استعارہ ہے جس میں سماجی نا انصافیوں کو نظر انداز کرتے ہوئے ایک عورت کے انفرادی رویے کو غلط ثابت کیا گیا ہے جو بذات خود ان سماجی ناانصافیوں کا شکار ہے۔