نقطہ نظر

سری لنکا سماجی تصادم کے دہانے پر: کچھ سوالات، کچھ جوابات

عالمی تجزیوں کے مطابق جنوبی ایشیا انسانی حقوق کے پیمانوں پر دنیا میں بہت پیچھے ہے اور سری لنکا جیسے ملک میں بھی حالات کچھ مختلف نہیں ہیں۔ مبصرین کا خیال تو یہی تھا کہ اکثریتی بدھ مت اور اقلیتی تامل ہندو ؤں کے درمیان ایک لمبی خانہ جنگی سے، ملک سبق سیکھے گا اور تمام اقلیتوں سے بہتر سلوک کے لئے اقدامات کئے جائیں گے لیکن ابھی تک ایسا نہیں ہو سکا۔

”میرا گھر دا سفر: لہندے پنجاب واپسی“: ایک تعارف

اسی کی دہائی میں ڈیرہ بابا نانک کی طرف شکار کھیلنے کے واقعات، پاکستان ٹیلی ویژن کی نشریات، دادا جی کے بھائی مہشندر سنگھ بوتالیہ کا 1970ء میں پاکستان آنا اور اپنے خاندان کے بارے میں مصنف کو تفصیلی معلومات سے آگاہ کرنا، لاہور کے مختلف علاقوں کا حال، گردوارہ ڈیرہ صاحب، لاہور ریلوے سٹیشن، لاہور کا عجائب گھر، ایچی سن کالج، سکھ دور کی شاندار حویلیاں اورانار کلی وغیرہ کا بیان، اس کتاب میں دلچسپ اور من کو موہ لینے والے انداز میں بیان ہوا ہے۔

’پاکستان میں طنز و مزاح پر بھی قانوناً پابندی ہے‘

یہی سب سے بڑا المیہ ہے کہ اس کے بعد یہ سیٹائر ہی نہیں بچتا، سیٹائر کا مقصد ہی یہی ہے کہ قاری جب تک پوری تحریر نہیں پڑھتا تب تک اس کے پلاٹ یا تھیم تک نہ پہنچ سکے۔ جب مرکزی بینر پر یہ واضح کر دیا جائے گا کہ جو کہانی، مضمون یا تحریر آپ پڑھنے جا رہے ہیں یہ سیٹائر ہے، حقیقت نہیں ہے، تو پھر اس کی ساری اہمیت ہی ختم ہو جاتی ہے۔

انتباہ: ’ڈسٹوپیا‘ میں ’یوٹوپیا‘ کی اُمید

آرٹ نہ صرف سماج کے مجموعی شعور کی عکاسی کرتا ہے بلکہ اسکو بدلنے، وسیع کرنے اور نکھارنے کا ٹول ہے۔’انتباہ‘نے ان تمام پہلوؤں کو اپنے اندر شامل کرنے کی کوشش کی ہے۔ماضی میں جب انسان غاروں میں رہتا تھا تو آرٹ کے ذریعے سے آنے والے خطرات سے آگاہی کا کام لیا جاتا تھا اور آج اس فلم میں بھی ایک ’ڈسٹوپیا‘ کی پیش گوئی کی جارہی ہے، فرق صرف یہ ہے کہ اس فلم میں اس ’ڈسٹوپیا‘کے اندر ایک ’یوٹوپیا‘ کی اُمیدبھی شامل ہے۔

ریور راوی پراجیکٹ: لاکھوں انسانوں کی زندگیاں چھینی جائینگی، عوامی مزاحمت ہی راہ نجات ہے

ہم سمجھتے ہیں کہ یہ حکومت ’گرین انقلاب‘ اور اس طرح کے دیگر دعوے کرنے کے علاوہ سمارٹ سٹی بنانے کے بھی محض دعوے ہی کر رہی ہے، نہ ہی اس نظام میں اس طرح کے بڑے منصوبے بنانے کی اہلیت موجود ہے، نہ ہی یہ ریاست اور حکومت ایسی اہلیت و صلاحیت رکھتی ہے۔ اس منصوبے سے ماحولیاتی آلودگی مزید بڑھے گی، زرعی اراضی کو ختم کیا جائے گا، خوراک کی قلت پیدا کی جائے گی۔

روشنی بانٹتا گیا کوئی: فاروق طارق سے انٹرویو

ایک اشتراکی انقلاب کے ذریعے ہی ہم قومی ا ور عالمی نظام میں مزدوروں کی نظریاتی اور شعوری شرکت کویقینی بنا سکتے ہیں کہ یہی وہ واحد طبقہ ہے جو سرمایہ دارانہ اور جاگیردارانہ نظام کو جڑسے اکھاڑ پھینکنے کی طاقت رکھتا ہے۔

محبت اور ویلنٹائن ڈے

محبت کوئی مستحکم رجحان نہیں، یہ شروع ہوتی ہے اور عمر بڑھنے کے ساتھ ساتھ بدلتی رہتی ہے۔ نوجوان مرد اور خواتین کے مابین جو محبت ہمارے مذہبی اسکالرز اور سیاستدانوں کو ہر سال فروری میں بہت پریشان کرتی ہے وہ ایک گہرے احساس کا سطحی عکس ہے۔ اسے دبا یا ختم نہیں کیا جا سکتا۔ تاہم بلا شبہ یہ کسی معاشرے کے ہر شہری کی ذمہ داری ہے کہ معاشرتی مفادات میں وہ اس محبت کو اس کے ضابطے کے اندر رکھے۔