نقطہ نظر

ٹرمپ اور نیتن یاہو ایران کے خلاف انتہائی قدم اٹھا سکتے ہیں: خلیل جھشان

اولاً یہ کہ گزشتہ دو دہائیوں کے دوران امن کی راہ میں کوئی پیش قدمی نہیں ہوئی ہے اور اسرائیل کی رجعت پسند حکومت کو آج بین الاقوامی اور علاقائی سطح پر کوئی فوائدحاصل ہونے کی امید بھی نہیں ہیں جن کی بنیاد پر وہ امن کے لئے سنجیدہ ہو۔ خود نیتن یاہو بھی کئی بار کہہ چکے ہیں کہ ان کے لئے یہ معاہدے کرنازیادہ ضروری ہیں خصوصاً اس وقت جب عرب ملکوں نے اسرائیل سے فلسطینی علاقوں سے دستبردار ہونے کا کوئی مطالبہ بھی نہیں کیا۔

مشنری سکولوں کو قومیا کر بھٹو نے مسیحی برادری کی کمر توڑ دی

زبردست تحقیق پر مبنی اس رپورٹ میں دلائل کے ساتھ کہا گیا ہے کہ 1972ء میں چرچ کے زیر انتظام اسکولوں کو قومی ملکیت میں لینے سے پہلے سے پسمانگی کا شکار عیسائی برادری، سیاسی اور ثقافتی طور پر مزید تنہائی کا شکار ہو گئی جبکہ معاشی طور پر مزید غریب۔

بالی وڈ میں ’یونین لیڈر‘

ادھر، کیمیکل پلانٹ میں مالکان کی طرف سے مزدوروں کی حفاظت کا کوئی انتظام نہیں لیکن یہ بھی دیکھا جا سکتا ہے مزدوروں میں بھی ایک ’اشرافیہ‘ صرف اس بنا پر جنم لیتی ہے کہ وہ مالکان کی کاسہ لیس ہے۔

نیو لبرل عہد میں ریپ بھی پرائیویٹائز کر دیا گیا ہے

جنسی جرائم کا شکار افراد ایک ایسے بے رحم نیو لبرل عہد کا شکار ہیں جس میں انہیں ایک طرف تو بے یقینی کا سامنا رہتا ہے تو دوسری طرف صدیوں پرانے تعصبات کا جو اُن کے لئے کلنک کا ٹیکہ بن جاتے ہیں۔ ہر دو صورت ِحالات کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ ریپ کو بھی پرائیویٹائز کرنے کا مطالبہ کیا جاتا ہے جس کی ایک صورت یہ ہے کہ وِکٹم کو ہی موردِ الزام ٹہرا دیا جائے یا سر عام پھانسیوں کے ذریعے اسے تماشہ بنا دیا جائے۔

بھولپن کا تجارتی قتل

ملک میں ثقافتی پیمانے اور ذوق اس قدر گر چکا ہے کہ لذت اور حظ کے پیمانے سوشل میڈیا پر ہونے والی حماقتیں بن چکی ہیں۔ لوگوں کا مذاق اس حد تک گر چکا کہ انہیں ایسی انٹرٹینمنٹ چاہئے جس پر دماغ نہ کھپانا پڑے یا جسے سمجھنے، لطف اٹھانے اور حظ اٹھانے کے لئے کسی تہذیبی تربیت کی ضرورت نہ ہو۔

بورژوا میڈیا ورکرز کو ٹیک اوور کرنا چاہئے: ٹوبی ملر

ضروری ہے کہ نفرت انگیز مواد، جھوٹ، سائنس کے بارے میں جھوٹ اور پبلک ہیلتھ بارے جھوٹ جیسی باتوں پر پابندی کا قانون بنایا جائے۔ انسان کو اپنی رائے دینے کا حق ہونا چاہئے مگر حقائق اور رائے میں فرق ہوتا ہے۔ کرونا کی مثال لیجئے۔ بہت سے لوگوں کا کہنا ہے کہ کرونا بل گیٹس، نرسوں اور ڈاکٹروں، یہودیوں یا فائیو جی والی کمپنیوں کی سازش ہے۔ یہ وہ سفید جھوٹ ہیں جن کو ہر بار روکنا ہو گا۔

ہالی وڈ ہو یا ٹیلی کمیونیکیشن کی صنعت، یہ ڈرٹی انڈسٹریز ہیں: ٹوبی ملر

اسی طرح یہ بھی دیکھنا ہو گا کہ جب ان الیکٹرونک پراڈکٹس کی عمر ختم ہو جاتی ہے تو ری سائیکلنگ کے لئے انہیں انڈیا، پاکستان، برازیل، میکسیکو یا ملائشیا بھیج دیا جاتا ہے جہاں یہ ماحولیات کے لئے ایک مسئلہ ہیں اور جہاں کم عمر بچیاں اس شعبے میں کام کرتی دکھائی دیتی ہیں۔