دنیا

احمقوں کی سامراج مخالفت

مذہبی جنونیوں نے مسلمان ملکوں میں مردوں اور عورتوں کو مذہب کے نام پر گونگا، بہرا اور لولا لنگڑا بنا کر مسلم دنیا کو سامراجی ملٹی نیشنل کمپنیوں کے لئے جنت بنا دیا ہے۔ مذہبی جنونی سعودی عرب کے ہوں یا ایران کے، دونوں نے سامراج کے گماشتے کا کردار ادا کیا ہے۔ اس لئے اگر کبھی بظاہر یہ’سامراج مخالفت‘ کرتے نظر بھی آتے ہیں تو ان کی سامراج دشمنی در حقیقت احمقوں کی سامراج مخالفت ہے۔

ایک تذویراتی سبق: جو آگ کابل میں لگائی جاتی ہے اسکا دھواں پاکستان سے اٹھتا ہے

افسوس اس بات کا ہے کہ پاکستانی حکمران طبقے کی سفارت کاری سے اس شرمناک لا علمی کی بھاری قیمت عوام کو ادا کرنا پڑتی ہے۔ اس لئے جب کابل کے کسی زچہ بچہ وارڈ پر یا جلال آباد میں کسی جنازے پر حملہ ہو تو افغان شہریوں اور سول سوسائٹی سے زیادہ پاکستان کے شہریوں اور سول سوسائٹی کو احتجاج کرنا چاہئے۔ کابل اور جلال آباد میں لگنے والی آگ کے دھوئیں کو پشاور اور لاہور پہنچنے میں دیر نہیں لگتی۔

خون ِ خاک نشیناں تھا رزق خاک ہوا؟

عالمی اور مقامی میڈیا کی سرفنگ کرنے کے بعد مجھے وہ نسل پرست برطانوی صحافی یاد آیا جس نے کہا تھا کہ اخبار کے لئے ہزار مینڈکوں (مراد افریقی) کے مرنے کی اتنی اہمیت ہوتی ہے جتنی پچاس بھوروں (مراد ایشین) کی اور پچاس بھوروں کے مرنے کو اتنی کوریج ملتی ہے جتنی ایک انگریز کی موت کو۔

بھارت کی ظالمانہ پالیسیوں نے جنت نظیر کو جیل بنا دیا ہے: کشمیر گلوبل کونسل

”اگرچہ کشمیری اخبارات کو اشاعت کی اجازت دے دی گئی ہے لیکن حکومت پر ہلکی سی تنقید بھی برداشت نہیں کی جاتی اور صحافیوں پر غیرقانونی اورغیرآئینی پابندیاں عائد کی جاتی ہیں۔ انہیں عدالتی کاروائیوں، پولیس کے ناجائز ہتھکنڈوں اور ان لافل ا یکٹوٹیز پریونشن ایکٹ (Unlawful Activities Prevention Act (UAPA))کے تحت غداری کے الزامات لگاکرخاموش کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔“

سعودی عرب دیوالیہ ہو سکتا ہے: 233 ارب ڈالر نقصان کے بعد تیل اور کرونا بحران

خام تیل کی قیمت 20 ڈالر سے بھی گر چکی ہے۔ محمد بن سلمان کو اب پتہ چلے گا کہ اس کے ساتھ کیا ہوگا جب دنیا کو اس کے تیل کی ضرورت نہیں رہے گی۔ اس سے پہلے، جب کبھی بھی اس مفروضے کی طرف اشارہ کیا جاتا تھا تو اس کا جواب صرف آنکھیں دکھا کر دیا جاتا تھا۔

کرونا بحران: ہم پبلک سروسز کو ریاستی ملکیت میں لاکر بہتر دنیا بنا سکتے ہیں

سیاسی منظرنامہ بالکل بدل چکا ہے۔ کرونا بحران کے بعد کی دنیا کے خدوخال کے لیے سیاسی، اخلاقی اور فلسفیانہ جدوجہد کا آغاز ہوچکا ہے۔ اب نیولبرل معمول یا پھر امریکی غلبے کی طرف آٹومیٹک واپسی نہیں ہوگی کیونکہ اس وائرس نے عالمی سیاست کو تبدیل کرکے رکھ دیا ہے۔