دنیا

قیام امن کیلئے افغانستان کو 10 سال تک اقوام متحدہ کے حوالے کیا جائے

روس اور چین جو افغانستان سے امریکہ کا انخلا چاہتے تھے، ہرگز نہ چاہیں گے کہ کابل میں ایک ایسی حکومت قائم ہو جو چین میں ایغور اور چیچنیا میں علیحدگی پسند مسلمان قوتوں کے ساتھ ہمدردی رکھتی ہو (افغانستان کے وسط ایشیائی ہمسائے بھی اپنے بارڈر پر امن کے خواہاں ہیں مگر وہ روس اور چین کی مرضی کے خلاف کوئی کردار ادا نہیں کریں گے اور عقلمند ریاستوں کی طرح انہوں نے افغانستان میں مداخلت سے گریز ہی کیا ہے)۔

خدا حافظ بیبی: ”نیتن یاہو کی کامیابیاں اسرائیل کا خسارہ تھیں“

اگرچہ یہ سیاسی جماعتیں مختلف انداز فکر کی حامل ہیں، اسرائیل کوآمرانہ جمہوریت کی سیاست سے نکال کر ایک نئے دور میں داخل کرنا ان کے اتحاد کا مرکزی نکتہ ہے۔ ملک میں پہلی بار ایک عرب پارٹی کی اقتدا رمیں شمولیت بھی ایک اہم پیش رفت ہے لیکن دیکھنا یہ ہے کہ یہ اتحاد کہاں تک کامیاب رہتا ہے۔

فلسطین پر اسرائیل کا خوفناک قبضہ

فلسطینیوں کو طویل عرصے سے کہا جا رہا ہے کہ اگر امریکی حکومت کے حمایت یافتہ اسرائیلی زندگی کو ناقابل رہائش بنانے میں کامیاب ہو جائیں تو مزید کچھ دہائیوں میں فلسطین کی یاد اور فلسطین کی خواہش ختم ہو جائے گی، لیکن معاملہ ایسا نہیں ہے۔ مظاہروں میں نکلے ہوئے نوجوانوں اور خواتین کو دیکھ کر یہ بات واضح ہے کہ 1948ء کے ’نقبہ‘ کے بعد یہ چوتھی نسل سڑکوں پر آ گئی ہے۔ وہ جانتے ہیں کہ مزاحمت نہ کرنے کی وجہ سے ان کے وجود کو خطرہ ہے۔

اسرائیل کو اپنے دفاع کا حق ہے تو فلسطین کو کیوں نہیں؟

اگر امریکہ عالمی سطح پر انسانی حقوق کے بارے میں ایک قابل اعتماد آواز بننے جارہا ہے تو، ہمیں انسانی حقوق کے بین الاقوامی معیار کو مستقل طور پر برقرار رکھنا چاہئے، حتیٰ کہ جب یہ سیاسی طور پر مشکل ہی کیوں نہ ہو۔

کیا او آئی سی فرانس سے لڑائی مول لے گی؟

وزیر اعظم صاحب! ہم آپ سے متفق ہیں کہ فرنچ لوگ بہت برے، توہین مذاہب کا ارتکاب کرنے والے اور سیکولرازم کے مارے ہوئے ہیں۔ کتنے افسوس کی بات ہے کہ کتنے ہی مسلمان، بالخصوص پاکستان کے شہری، فرانسیسی ویزہ لینے قطاروں میں لگے ہوئے ہیں جبکہ لاکھوں مسلمان فرانس میں رہ رہے ہیں۔ کوئی فرانس یا یورپی یونین چھوڑنے پر تیار نہیں۔

اتحادی فوجوں کا انخلا اور افغانستان میں نئی صف بندیاں: ایک مکالمہ

گزشتہ 40 عشروں سے افغانستان دنیاکی دو بڑی طاقتوں کے درمیان سرد جنگ اور پھر خونی جنگ کا مرکز رہا ہے۔ اس کا آغاز 1979ء میں اس وقت ہوا جب سوویت یونین کی فوجیں افغانستان میں داخل ہوئیں۔ ایک عرصے تک خون خرابے کے بعد، جس میں افغانیوں کی ایک بڑی تعداد ہلاک ہوئی، ملک اقتصادی اور سماجی طور پر تباہی کے کنارے پہنچ گیا اور پھر سوویت یونین کوملک سے نکلنا پڑا۔

آکسیجن اور ویکسین کو ترستی ایٹمی طاقتیں بمقابلہ سوشلسٹ کیوبا

اپنے ایک اور انٹرویو میں فیدل کاسترو نے ایٹم بم بنانے کی بابت کہا تھا کہ سرد جنگ کے دوران کیوبا کے لئے ایٹم بم بنانا کوئی مسئلہ نہیں تھا کیونکہ سوویت روس کی مدد سے یہ کام با آسانی کیا جا سکتا تھا مگر بقول کاسترو ہم یہ بم ماریں گے کسے؟ امریکی مزدوروں کو جو ہمارے بھائی ہیں؟