دنیا

کرونا وبا کا اہم سبق: سرمایہ داری بربریت، سوشلزم انسانیت

پاکستان میں بھی بڑے بڑے نجی ہسپتالوں کی لوٹ مار عروج پر ہے۔ صحت کو تحفظ دینے والے سازو سامان بنانے کی بجائے یہ نجی ہسپتال پیسے بناتے رہے۔ تحریکِ انصاف حکومت تو سرکاری ہسپتالوں کو پرائیویٹ افراد کے ٹولوں کے حوالے کرنے کے قوانین بناتی رہی۔ نہ وینٹی لیٹر، نہ ماسک اور نہ حفاظتی لباس۔

کرونا وبا کے دوران سیاست کیوں ضروری ہے؟

اس ساری تاریخ بیان کرنے کا مقصد کرونا وائرس یا دوسری آفات کی وجہ سے پیدا ہونے والی صورتحال کو نظر انداز کرنا نہیں بلکہ اس خطرے کو رد کرنا تو انتہائی احمقانہ قدم ہو گا جس کے نتائج ہم سب کو بھگتنے پڑسکتے ہیں لیکن یہ بھی ضروری ہے کہ اس صورتحال میں سوال اٹھانا بند نہ کیا جائے، مسائل پر سوچنا بند نہ کیا جائے اور ان لوگوں کے بارے میں سوچنا بند نہ کیا جائے جن کو نظر انداز کیا جا رہا ہے۔

کرونا سے انسانی زندگیاں بچائیں، منافع نہیں: فورتھ انٹرنیشنل

مین سٹریم میڈیا اور حکومتیں عمر کے فرق کی بات تو کر رہی ہیں مگر وہ طبقاتی فرق کی بات کرنے سے گریزاں ہیں۔ یہ بات بھی نہیں کی جا رہی کہ کرونا وائرس کس طرح لوگوں کی آمدن اور دولت کے حساب سے حملہ آور ہو گا۔ قرنطینہ اور انتہائی نگہداشت کی سہولتیں ستر سال کی عمر اور غربت میں اس طرح میسر نہیں ہوتیں جس طرح جیب میں پیسے کی صورت میسر ہوتی ہیں۔

کرونا وائرس وبا: سرمایہ داری کی تباہ کاریوں کے خلاف کیسے لڑا جائے؟

٭ تمام نجی ہسپتالوں، ٹیسٹ لیبارٹریزاور فارما سوٹیکل کمپنیوں کو فوری طور پر نیشنلائز کرتے ہوئے معیاری علاج فراہم کیا جائے۔
٭ کرونا وائرس کے ٹیسٹس اور اس کی روک تھام کے لئے تمام اشیا کی عوام تک مفت رسائی کو یقینی بنایا جائے۔
٭ صحت کے شعبے سے وابستہ افراد یعنی ڈاکٹرز، نرسزاور پیرامیڈیکل سٹاف کو حفاظتی کٹس فراہم کی جائیں نیز ان کے اوقات کار کو کم کر کے روزانہ 6 گھنٹے کیا جائے اور سٹاف کی کمی کے لئے فوری طور پر تمام میڈیکل ڈگری ہولڈز کو روزگار دیا جائے اور ان کی صلاحیتوں سے فائدہ اٹھایا جائے۔
٭ آئی ایم ایف اور دیگر عالمی مالیاتی اداروں کے قرضوں کی ادائیگی کو فوری طور پر روکتے ہوئے قرضوں کی ضبطگی کے لئے فوری طور پر اقدامات کئے جائیں۔

نظام کا جبر

بقول کامریڈ لال خان ”سچے جذبوں کی قسم جیت ہماری ہوگی“۔

کرونا وائرس کوئی مذاق یا سازش نہیں!

ہمیں ایک ذمہ دار شہری ہونے کے ناطے اس وائرس بارے تمام مصدقہ معلومات کو سمجھنے اور ان کے مطابق زندگی بسر کرنے کی ضرورت ہے۔ پاکستان میں ہر بیماری کا علاج اکثر اوقات مذہبی دعاؤں سے کرنے کی عادت سی ہو گئی ہے اوراسے کلچر بنا لیا گیا ہے، کرونا وائرس بارے بھی ایسا ہی کیا جا رہا ہے۔ ضروری ہے کہ اس بارے عالمی ادارہ صحت کی تجویز کردہ باتوں پر عمل کیا جائے۔