تاریخ

پانچ جولائی: پاکستان میں فوجی آمریت کے جمہوری ہیروز کی یاد میں کچھ بھی نہیں

فلپائن میں کیوزون سٹی میں 2000ء میں ایک میوزیم بنایا گیا۔ جس کا نام ہے ’ہیروز کی یادگار‘۔ یہ میوزیم بھی ہے اور ریسرچ سنٹر بھی۔ یہ میوزیم ان ہیروز کی یاد تازہ کرتا ہے جنہوں نے فرنینڈ مارکوس کی 21 سالہ آمریت کے خلاف جدوجہد اور قربانیاں دیں۔ فرنینڈ مارکوس نے 1965ء سے 1986ء تک فلپائن پر فوجی آمریت کے ذریعے حکومت کی تھی۔

5 جولائی کا شب خون: ”ضیا کو مار دو!“

’جدوجہد‘کا پہلا سر ورق، کامریڈ لال خان کی تحریریں اور ان کے آخری الفاظ ہمارے لئے مشعل راہ ہیں۔ 5 جولائی1977ء کا انتقام صرف سوشلسٹ انقلاب ہے جس سے ضیا الحق کی باقیات کو حتمی شکست دی جا سکتی ہے۔

اسامہ کی موت نہیں سیاسی انجام سے سبق سیکھنے کی ضرورت ہے

جب اکیسویں صدی کی تاریخ لکھی جائے گی، اسامہ بن لادن شائد ایک فُٹ نوٹ بھی نہ بن پائے کیونکہ نہ تو تاریخ کا خاتمہ ہوا ہے نہ ہی کوئی تہذیبوں کا تصادم ہو رہا تھا۔ اصل لڑائی طبقاتی اور انقلابی ہے۔ اس لڑائی میں القاعدہ اور سامراج ایک دوسرے کے اتحادی تھے اور جب مسلم دنیا میں طبقاتی لڑائی تیز ہو گی تو یقین کیجئے پوری مسلم دنیا کے اسامے اور القاعدے چچا سام کی گود میں بیٹھے ہوں گے۔

سوویت روس 3 کروڑ کی تعداد میں 2 ہزار کتابیں دنیا بھر کی زبانوں میں شائع کرتا تھا

”صرف سمولنی انسٹیٹیوٹ سے ہی شروع کے چھ ماہ روزانہ گاڑیاں اور ٹرینیں بھر بھر کر لٹریچر روانہ کیا جاتا تھا جو ملک کو سیراب کرتا تھا۔ روس اس لٹریچر کو ایسے جذب کرتا تھا جیسے گرم ریت پانی کو جذب کرتی ہے“۔

طارق عزیز کی تیسری موت

سچ پوچھیں تو طارق عزیز کی موت آج سے کئی برس قبل ہو گئی تھی۔ کل تو ان کی طبعی موت ہوئی جس کا کارن ان کی بیماری تھی۔ کمرشلائزیشن کے ہاتھوں ان کی فنی موت کئی سال پہلے ہی ہو گئی تھی جب ان کے پروگرام نیلام گھر کو بند کر دیا گیا تھا۔ حقیقت تو یہ ہے کہ یہ طارق عزیز کی تیسری موت تھی۔