تاریخ

آئی اے رحمن نصف صدی تک ہمارے اجتماعی ضمیر کے نگہبان بنے رہے

ہر چیز چاہے کتنی ہی سنگین ہو یا ممکنہ طور پر ان کیلئے خطرناک ہی کیوں نہ ہو، ان کے لئے چھوٹی سی بات تھی جس کا کبھی انہوں نے صلہ بھی طلب نہ کیا۔ ”وئیو پوائنٹ“ کے مدیر مظہر صاحب بھی ایک حیرت انگیز شخصیت کے مالک تھے۔ جب میں اسکاٹ لینڈ میں تھا، اچھے خاصے ڈاک خرچ کے باوجود ”وئیو پوائنٹ“ میرے پتے پر بدستور موصول ہوتا رہا حالانکہ اس وقت یہ ہفت روزہ دیوالیہ ہو چکا تھا اور ہم اس کے لئے مفت لکھا کرتے تھے۔ ”وئیو پوائنٹ“ سے وابستہ لوگوں کا یہی تو اعلیٰ اخلاقی معیار تھا۔

منٹو: ایک نفسیاتی مطالعہ

منٹو بھی انہیں فنکاروں کی صف میں کھڑے ہیں جن کا ذکر فرائڈ کر رہے ہیں۔ منٹو کی کہانیاں پڑھ کر کوئی شک نہیں رہتا کہ وہ ایک ماہر نفسیات دان ہیں۔ افسانہ چاہے کتنا ہی مختصر کیوں نہ ہوں، منٹو کے کر دار کتا ب کے صفحوں سے اچھل کر قاری کے دل میں پیو ست ہو جاتے ہیں اور کہا نی ختم ہونے کے کئی گھنٹوں اور دنوں بعد تک پڑھنے والا سوچتا رہتا ہے کیا کر پال کور(موذیل) فسادیوں سے جان چھڑا کر بھاگنے میں کامیاب ہو گئی؟ اور تر لو چن سنگھ کا کیا بنا؟ جب نیستی (لائسنس) کو کمیٹی نے اپنا جسم فروش کرنے پر مجبور کر دیا تو اس کے بعد اس پر کیا گزری؟ سو گند ھی (ہتک) اور اس بے نام ویشیا (سو کینڈل پاور کابلب) کا کیا بنا جنہوں نے اپنی حالت سے تنگ آ کر ایسا قدم اٹھایا جس کا انجام عبرت ناک ہو سکتا تھا؟

بابائے سوشلزم کا طویل سفر

شیخ محمد رشیداپنی پوری زندگی نہ صرف کسانوں اور مزدوروں کے لئے سرگرم رہے بلکہ اصلاح پسند سوشلسٹ پالیسیوں پر قائم بھی رہے۔ ان کا خیال تھا کہ معاشرتی اداروں کی ترقی سوشلزم کی منزل کی طرف لے جائے گی بشرطیکہ اس کے لئے کام کیا گیا ہو لہذا انہوں نے انقلاب کی بجائے اصلاحات کے ذریعہ سوشلسٹ جمہوریت کے لئے تگ و دو کی۔ اسی لئے وہ مختلف کسان تنظیموں، سیاسی جماعتوں، اور حکومتوں کا حصہ رہے۔

کافرِ عشقم

1947ءکے ان ہولناک دنوں میں، انُ ہندوﺅں اور مسلمانوں میں، جنہوں نے اپنی جان کی بازیاں لگا کر دوسرے مذہب کے لوگوں کی جانیں بچائیں، کئی ایسے ضرور ہونگے جن کی سانسوں میں اقبال کی شاعری رچی بسی تھی۔

بے اعتنا مصلح

دولتانہ اور دوسرے زمیندار، ممدوٹ اور نون، صرف اپنی ذاتی اہمیت اور اقتدار کے لئے ایک دوسرے کے حریف تھے اور ان کے مابین کسی بھی طرح کا پالیسی اختلاف نہیں تھا۔

بھگت سنگھ: جس کے افکار آج بھی حکمرانوں کے لئے ڈراونا خواب ہیں!

آج ہندوستان اور پاکستان کو ایک خونی سامراجی لکیر ایک دوسرے سے الگ کرتی ہے۔ لیکن دونوں طرف محنت کشوں اور نوجوانوں کے مسائل مشترک ہیں۔ یہی سبب ہے کہ اُن مسائل کا حل بھی مشترک ہے۔ یہ حل یقینا بھگت سنگھ کے سوشلسٹ انقلاب کے خواب پر ہی مبنی ہو سکتا ہے جس سے آج بھی دنیا بھر کے حکمران خوفزدہ ہیں۔