تاریخ

ایک یاد بہار سمے کی

پانچ ماہ جاری رہنے والی جدوجہد کے بعد مزدوروں اور طالب علموں نے واشنگٹن کی حمایت یافتہ فوجی آمریت کا تختہ الٹ دیا ہے۔

معلم صاحب صبوری الوداع!

یہ لمبی جدوجہد اس لئے بھی ممکن ہو سکی کہ ان میں زبردست انفرادی خوبیاں تھیں۔ بے شمار حوصلہ، بہادری، ایثار اور سب سے بڑھ کر یہ کہ ہر وقت دوسروں کی مدد کے لئے تیار رہتے۔ ان کی وفات پر ان کے قریبی دوست ڈاکٹر رسولی نے معلم صبوری کو ”انسان مبارز و با افتخار کشور“ (فائٹر اور ملک کا افتخار) قرار دیا۔ شائد اس سے بہتر اور مختصر تعارف ممکن نہیں۔

جب ویسٹ انڈیز نے کرکٹ کو کلونیل ازم کے خلاف محاذ جنگ بنا دیا

لگ بھگ پندرہ سال تک ہولڈنگ اور ان کی ٹیم ناقابل شکست رہے۔ اس شاندار کارکردگی کے پیچھے یہ جذبہ بھی تھا کہ ہم نے اپنے سابق آقاؤں سے بدلہ لینا ہے۔ اس میں شک نہیں کہ وہ تاریخ کا گہرا شعور رکھتے تھے جس کی وجہ سے وہ پوری دنیا کو شکست دینے میں کامیاب ہوئے۔ مائیکل ہولڈنگ اس ٹیم کے تاج کا ہیرا تھے۔

امریکہ میں انسانی حقوق اور مساوات کے دو رہنما ایک ہی دن انتقال کر گئے

سابق صدر اوبامہ نے جان لو ئیس کی طرح سی ٹی ویوین کوبھی وائٹ ہاؤس میں آزادی کے صدارتی میڈل سے نوازا۔ کہا جاسکتا ہے کہ یہ ان دونوں رہنماؤں کی ان تھک جدوجہد اور قربانیوں کا ہی نتیجہ تھاجس نے صدر اوبامہ جیسے افریقی النسل رہنما کو امریکہ کے ایوانِ اقتدار میں پہنچایا اور اقلیتوں کو ان کے حقوق کا احساس دلایا۔

سندھ: قوم پرست سیاست اور طبقاتی جدوجہد کا المیہ

اسی شہری سندھ میں عوامی سیاست، جماعتیں اور تحریکیں بھی جنم لیتی رہیں ہیں۔ ایوب آمریت سے لے کر ضیا تک کے خلاف سندھ کے شہر تحاریک کے مرکز رہے، فاطمہ جناح کو یہاں سے حمایت ملی۔ انہی شہروں نے نیشنل سٹوڈنٹس فیڈریشن کو جنم دیا، عوامی نیشنل پارٹی یہاں مقبول رہی۔ ان شہروں نے ہر آمر کے خلاف سینہ سپر کیا۔ یہاں سے پیپلز پارٹی کو کارکن ملے۔ سندھی قوم پرستوں سے بڑی غلطی یہ ہوئی کہ وہ سندھ کے عوام کو طبقاتی بنیادوں پر منظم نہیں کر سکے۔

بھارتی کشمیر: تاریخ میں پہلی مرتبہ 13 جولائی کی تقریبات پر پابندی

کشمیر کے سب ہی خطوں میں رہنے والے چاہے ان کا تعلق کسی بھی پارٹی، یا مذہبی فرقہ سے ہو خود کو 13 جولائی 1931ء کے شہدا کا وارث قرار دیتے ہیں اور اس دن کو استحصال، جبر و استبداد اور غلامی کے خلاف ایک قومی دن کے طور پر مناتے ہیں۔