تاریخ

جب طوفان جھوم کے اٹھے!

آج بالشویک انقلاب کے 103 سال بعد سوال یہ ہے کہ کیا سرمایہ داری انسانیت کے مسائل حل کر رہی ہے یا انہیں زیادہ گھمبیراور پیچیدہ بنا رہی ہے؟

بالشویک انقلاب آج بھی واحد راہِ نجات!

صرف بالشوازم کے نظریات، طریقہ کار اور حکمتِ عملی پر مبنی انقلاب ہی اس اذیت اور محرومی کے خاتمے میں فتح یاب ہو سکتا ہے۔ سرمایہ داری عالمی سطح پر اپنی تاریخ کے بدترین بحران سے دوچار ہے۔ آنے والے تاریخی عہد میں حکمران طبقات لرز اٹھیں گے کیونکہ عوام اپنی تقدیر بدلنے کے لئے تاریخ کے میدان میں اترنے کو ہیں۔

7 اکتوبر 1958ء…

صدر اسکندر مرزا نے مرکزی اور صوبائی حکومتوں کو توڑ دیا، سیاسی جماعتوں پر پابندی لگادی، آئین منسوخ کرکے مارشل لا لگا دیا اور جنرل ایوب خاں کو مارشل لا ایڈمنسٹریٹر مقرر کر دیا۔

فیض اور فن برائے انقلاب

فیض احمد فیض پر یہ الزام کہ انہوں نے اپنی شاعری کو محنت کشوں کی آواز بنا کر اسے کمزور کردیا، نیا نہیں ہے۔ دراصل یہ الزام طویل عرصے سے رائج اس نظرئیے کا عکاس ہے جسے بعض حلقوں میں بہت فوقیت دی جاتی ہے کہ آرٹ (اور اسے ہونا بھی چاہیے) ’مہذب‘ لوگوں کی میراث ہے (دولت مندوں کی خوش طبعی کی لئے)۔

ایک یاد بہار سمے کی

پانچ ماہ جاری رہنے والی جدوجہد کے بعد مزدوروں اور طالب علموں نے واشنگٹن کی حمایت یافتہ فوجی آمریت کا تختہ الٹ دیا ہے۔

معلم صاحب صبوری الوداع!

یہ لمبی جدوجہد اس لئے بھی ممکن ہو سکی کہ ان میں زبردست انفرادی خوبیاں تھیں۔ بے شمار حوصلہ، بہادری، ایثار اور سب سے بڑھ کر یہ کہ ہر وقت دوسروں کی مدد کے لئے تیار رہتے۔ ان کی وفات پر ان کے قریبی دوست ڈاکٹر رسولی نے معلم صبوری کو ”انسان مبارز و با افتخار کشور“ (فائٹر اور ملک کا افتخار) قرار دیا۔ شائد اس سے بہتر اور مختصر تعارف ممکن نہیں۔