دن: اپریل 6، 2020

صرف چینی نہیں گندم بحران کے پیچھے بھی جہانگیر ترین

ومبر میں جب یہ معلوم ہو گیا کہ مارکیٹ کی ضرورت کے مطابق تو گندم موجود نہیں۔ ”ایکسپورٹ“ہو چکی ہے جو دراصل بڑے ذخیرہ اندوزوں کے پاس پاکستان میں ہی موجود تھی تو مارکیٹ میں آٹا مہنگا بلکہ بہت مہنگا بکنا شروع ہوا۔ ذخیرہ اندوزوں نے گندم نکالی اور مہنگی بیچنی شروع کر دی اور دونوں ہاتھوں سے عوام کو لوٹا گیا۔ اس طرح ایک ماہ کے دوران آٹا کی اونچی قیمت سے وہ سب کچھ پورا کر لیا گیا جسے کچھ افراد نے تحریک انصاف کی انتخابی مہم پر خرچ کیا تھا۔