اداریہ

عمران خان نے پاکستان کو بحرانستان بنا دیا ہے

اداریہ جدوجہد

کہا جا رہا ہے کہ تیل کی عالمی صنعت کو 25 ٹریلین ڈالر کا گھاٹا پڑا ہے۔ اس صنعت کا مستقبل ہی مخدوش نظر آ رہا ہے۔ یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ تیل کی صنعت کا بحران اتنا بڑا ہے کہ تیل پیدا کرنے والے ملکوں کے پاس تیل کو ذخیرہ کرنے کی جگہ نہیں بچی۔ اور یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ تیل کی قیمتیں تاریخ کی کم ترین سطح پر گر گئی ہیں۔

ایسے میں اگر عمران خان کی حکومت نے ملک میں تیل کا بحران پیدا کر دیا ہے تو یہ ایسی ہی بات ہے کہ صحرا کے رہنے والے لوگ ریت کو ترسیں۔ مِس گورنس کا کوئی نوبل انعام ہوتا تو اس ’کارنامے‘ پر عمران خان کی حکومت کو یہ انعام دو دفعہ مل جانا تھا۔

یہ بحران تو خیر ٹل جائے گا اور چند دنوں تک ہمیں کسی حد تک یہ اندازہ بھی ہو جائے گا کہ جس طرح چینی کے مصنوعی بحران سے کسی تحریک انصاف والے ٹائگر نے اربوں کما لئے، اُسی طرح تیل کے بحران سے بھی کسی نے راتوں رات اربوں روپے عام شہریوں کی جیبوں سے چوری کر لئے۔

تیل کی نسبت کرونا کا جو بحران اس حکومت نے پیدا کیا ہے وہ نہ تو جلد گزرنے والا ہے اور نہ ہی چینی اور تیل کے بحران کی طرح ’بے ضرر‘۔ ’بے ضرر‘ اس لئے کہ کم از کم اُن بحرانوں میں انسانی جان تو محفوظ تھی۔

کرونا پہلے ہی ایک نیا اور منفرد چیلنج تھا۔ اس چتاؤنی کو ایک انسانی بحران میں بدل دینا جس کے نتیجے میں ان گنت انسانی جانیں داؤ پر لگا دی گئیں، صرف او ر صرف عمران خان کی حکومت کا کارنامہ ہے۔ ہم بار بار ان صفحات پر نہ صرف وضاحت کرتے چلے آ رہے ہیں کہ کس طرح حکومت کرونا بحران کو گہرا کر رہی ہے بلکہ انسانی جانوں سے کھیل رہی ہے۔ حد تو یہ ہے کہ سندھ حکومت جو تھوڑا اچھا کام کر رہی تھی، اس کے کام کو بھی وفاقی حکومت نے زِک پہنچائی۔ نتیجہ یہ نکلا کہ اب پاکستان ایشیا میں کرونا کا دوسرا سب سے بڑ ا شکار ہے۔

کرونا بحران کو جس طرح سے مِس ہینڈل کیا گیا اس کے نتیجے میں معاشی بحران تاریخ کے بد ترین نقطے پر پہنچ گیا ہے۔ 68 سال بعد ایسا ہوا ہے کہ ملکی معیشت میں نمو کی بجائے سکڑنے کا رجحان ابھرا ہے۔ اسی معاشی بحران سے جڑا ہے بیرونی قرضوں کا بحران۔ بجائے اس کے کہ بیرونی قرضے دینے سے انکار کیا جائے، مزید قرضے لے کر قسطیں ادا کی جا رہی ہیں۔

یوں محسوس ہوتا ہے کہ پاکستان ایک ہجوم کا نام ہے۔ نہ کوئی گورنس ہے نہ قیادت۔ ہجوم لٹیروں کے رحم و کرم پر ہے۔ یہ احساس اس لئے بھی گہرا ہو جاتا ہے کہ حزب اختلاف (پیپلز پارٹی، مسلم لیگ اور قوم پرست جماعتیں) مندرجہ بالا بحرانوں پر کسی قسم کی مزاحمت منظم کرنے کی کوشش نہیں کر رہیں۔

امید کی چند کرنیں جدوجہد کی وہ مثالیں ہیں جو لاہور اور کراچی کے گارمنٹ سیکٹر کے مزدوروں نے قائم کی ہیں۔ چین ون کے مزدوروں نے بھی تین ماہ کی جدوجہد کے بعد مالکان کو تنخواہوں کی ادائیگی پر مجبور کیا۔ پاکستان سٹیل مل کے مزدور بھی امید کی کرن بن کر سامنے آ رہے ہیں۔ چار سالہ برمش پاکستان کی جارج فلوئڈ بھلے ثابت نہ ہوئی ہو مگروہ بلوچستان کی جارج فلوئڈ بن کر ضرور ابھری ہے۔ بلوچستان سڑکوں پر نکلا ہوا ہے۔ کیا پیریفری (مضافات) میٹرو پولیٹن (مرکز) کو اپنی لپیٹ میں لے گا؟

یہ چنگاریاں کب آگ بن کر پورے جنگل کو آگ کی لپیٹ میں لیں گی، کچھ کہنا مشکل ہے مگر اِسے نوشتہ دیوار بھی سمجھا جائے اور جن بحرانوں میں یہ ملک گھر چکا ہے، ان کا حل بھی ایک عوامی تحریک ہے جو نہ صرف عمران خان کی نا اہل حکومت کا خاتمہ کر دے بلکہ اس حکمران طبقے کی بنیادیں بھی ہلا دے۔