تاریخ

’میں نے بھٹو سے کہا تھا مذہب کو اپنے منشور میں شامل مت کرو‘

لاہور (جدوجہد رپورٹ) طارق علی کسی تعارف کے محتاج نہیں۔ بطور مارکس وادی مفکر، ادیب، فلم میکر، مقرر اور طالب علم رہنما وہ پچاس سال سے عالمی سطح پر ایک جانی پہچانی شخصیت ہیں۔

گذشتہ دنوں انگریزی جریدے ’پاکستان لیفٹ ریویو‘نے ان کے ساتھ ایک طویل انٹرویو شائع کیا۔ اس انٹرویو کو قارئین جدوجہد کے لئے سلسلہ وار پیش کیا جا رہا ہے۔

اس انٹرویو کا پہلا حصہ اس لنک پر موجود ہے۔ آج اس انٹرویو کا دوسرا حصہ پیش خدمت ہے۔

س: پاکستان میں 1968ء کی طلبہ تحریک بارے آج کل بہت کچھ لکھا جا رہا ہے، اس موضوع پر تحقیق ہو رہی ہے۔ اس طلبہ تحریک نے ایوب آمریت کے خاتمے کے لئے بنیادی محرک کا کردار ادا کیا۔ اس دور کی مزدور تحریک بارے آپ کیا کہیں گے اور اس تحریک سے ہم کیا سیکھ سکتے ہیں؟

طارق علی: ساٹھ اور ستر کی دہائی ایک منفرد عہد تھا۔ یورپ میں ہی نہیں، پاکستان میں بھی۔ میں نے اس بارے بہت زیادہ لکھا اور اس پر بات کی کیونکہ عالمی [سطح پر] جب لوگ 1968ء کی بات کرتے ہیں تو پاکستان کا ذکر سننے میں نہیں آتا۔ اگر دیکھا جائے تو 1968ء میں اگر کہیں کامیابی ملی تو وہ پاکستان میں ہی ملی۔ میکسیکو میں کامیابی نہیں ملی، فرانس میں کامیابی کے قریب پہنچے مگر کامیابی ملی نہیں۔

[پاکستان میں] بہت دلچسپ وقت تھا۔ ایوب آمریت کا دس سالہ جشن منایا جا رہا تھا۔ ہم شوق سے حبیب جالب کی شاعری پڑھتے تھے کیونکہ جالب اس دس سالہ جشن پر تنقید کر رہے تھے۔ اس پس منظر میں کہ چین نے بھارت دشمنی میں ایوب آمریت کی حمایت شروع کر دی تھی، جالب کی شاعری عوامی موڈ کی ترجمانی کر رہی تھی:

چین اپنا یار ہے
اس پہ جاں نثار ہے
پر وہاں ہے جو نظام
اس طرف نہ جائیو
اس کو دور سے سلام۔

گویا اس تحریک کا موڈ خاصا مختلف تھا۔ لوگ ایوب سے نجات چاہتے تھے۔ ایوب آمریت کے دس سالوں سے وہ اکتا چکے تھے۔ یاد رہے کہ ایوب آمریت گو ضیا آمریت جتنی بے رحم نہ تھی مگر ملک میں بہت زیادہ جبر تھا۔ اگرچہ لبرل حضرات کو یہ بات پسند نہیں آتی مگر یہ بہر حال حقیقت ہے کہ وہ ایک سیکولر آمر تھا۔ مذہب سے ایوب کو کوئی لینا دینا نہیں تھا۔ جب جماعت اسلامی کوئی دھمکی دیتی تو ایوب کا رد عمل انتہائی سخت ہوتا تھا۔ ایوب نے جو عائلی قوانین بنائے وہ بہت ترقی پسندانہ تھے، بھارت سے بھی زیادہ ترقی پسندانہ، عورتوں کو طلاق کا حق وغیرہ ملا۔

اس کے ساتھ ساتھ بائیں بازو، ٹریڈ یونین تحریک اور طلبہ یونینوں کے خلاف زبردست جبر کا ماحول تھا۔ اتنی جانیں تو نہیں گئیں لیکن گرفتاریاں اور مختلف قسم کا جبر بہت زیادہ تھا۔ یہ جبر چونکہ مسلسل بنیادوں پر جاری تھا اس لئے جب دس سالہ جشن کا اعلان ہوا تھا لوگوں میں زبردست غصہ پیدا ہوا، بالخصوص طلبہ بھڑک اٹھے۔

دس سالہ جشن کے حوالے سے روزنامہ ڈان نے ایک خصوصی ایڈیشن شائع کیا۔ اس ایڈیشن میں ایوب خان کی چالیس تصاویر تھیں۔ طلبہ کو اس پر شدید غصہ آیا۔

تحریک کا آغاز ایک چھوٹے سے واقعہ سے ہوا۔ راولپنڈی سے کچھ طالب علم لنڈی کوتل گئے جہاں بلیک مارکیٹ سے وہ کچھ ممنوعہ چیزیں خرید کر لائے۔ واپسی پر انہیں پولیس نے روکا، ان کی تلاشی لی اور تھانے میں ان پر تشدد کیا۔ اس سے اگلے روز گورڈن کالج میں راجہ انور نے ایک اجلاس بلایا اور پورا کالج پولیس تشدد کا شکار ہونے والے طالب علموں کے حق میں سڑک پر نکل آیا۔

جب ان طلبہ پر پولیس نے تشدد کیا تو دیگر کالجوں کے طلبہ بھی سڑک پر نکل آئے۔ احتجاج کی آگ بھڑک اٹھی۔ کسے معلوم تھا سمگلنگ کے الزام سے شروع ہونے والا واقعہ اتنی بڑی تحریک کو جنم دے گا۔ حکومت بھی حالات کا صحیح ادراک نہیں کر سکی۔ راولپنڈی، جسے ہم اتنا سیاسی شہر نہیں مانتے تھے، وہاں سے یہ تحریک کراچی، لائلپور (فیصل آباد)، پشاور، ساہیوال، شیخوپورہ اور لاہور پہنچ گئی۔ تین ہفتوں کے اندر اندر یہ تحریک پورے ملک کو اپنی لپیٹ میں لے چکی تھی۔ مغربی پاکستان سے یہ تحریک ڈھاکہ، چٹاگانگ سے ہوتی ہوئی پورے مشرقی پاکستان کو بھی اپنی لپیٹ میں لے چکی تھی۔

عوامی سطح پر اٹھنے والی اس تحریک نے مشرقی اور مغربی پاکستان کو ہزار میل کے فاصلے کے باوجود پہلی بار متحد کر دیا تھا۔ اگر کوئی طالب علم لاہور یا کراچی میں مارا جاتا یا تشدد کا نشانہ بنتا تو ڈھاکہ میں عورتیں ننگے پاؤں اور سفید ساڑیوں میں مارچ کرتیں۔

پھر دھیرے دھیرے مزدور بھی تحریک کا حصہ بننے لگے۔ بہر حال یہ بات یاد رکھنے کی ہے کہ کسان بڑی تعداد میں سڑکوں پر نہیں آئے۔ کسانوں میں تنظیم سازی اس تحریک کے بعد تیز ہوئی نہ کہ اس تحریک کے دوران۔ عمومی طور پر یہ ایک شہری تحریک تھی۔ مزدور بالخصوص ریلوے مزدور تحریک میں شامل ہوئے۔ ریل مزدوروں کی قیادت مرزا ابراہیم کر رہے تھے اور ریلوے مزدوروں میں تقسیم سے پہلے بھی زبردست سیاسی ہلچل رہی تھی، اس کی ایک تاریخ تھی۔

خواتین، سیکس ورکرز، وکیل، نچلے درجے کے سرکاری ملازم…سب ہی تحریک میں شامل ہو گئے۔ فوج کے اندر بھی بے چینی تھی اور بعض جگہ سپاہیوں نے گولی چلانے سے انکار کر دیا۔ ناقابلِ بیان اتحاد دیکھنے میں آ رہا تھا۔ اس اتحاد کی بنیاد صرف طبقہ نہیں تھا۔ بلاشبہ طبقاتی یک جہتی بھی بہت تھی، بالخصوص جب مزدور تحریک میں شامل ہوئے، مگر یہ تحریک طلبہ نے شروع کی تھی اور اس نے پورے معاشرے کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔

یہ بات ہمیشہ یاد رہنی چاہئے کہ انقلابی تحریکوں میں انقلابی ادارے ابھرتے ہیں جن کے پاس طاقت تو نہیں ہوتی مگر وہ طاقت کے مرکز کو چیلنج کرتے ہیں…اس کی ایک مثال وہ صورتِ حال ہے جو انقلاب روس کے بعد بالشویک پارٹی اور سوویت کے مابین تعلق کی شکل میں دیکھی جا سکتی ہے۔ یہ بات ہم اکثر بھول جاتے ہیں۔ جب ماسکو اور پیٹروگراڈ سوویتوں میں بالشویکوں کو اکثریت مل گئی تب ہی انہوں نے سرکشی کا فیصلہ کیا۔

پاکستان میں کوئی سوویت یا ان سے ملتا جلتا ادارہ وجود میں نہیں آیا، نہ ہی ایسی کوئی کوشش ہوئی۔ سوویت سے ملتی جلتی کوئی چیز تھی تو وہ جلسے تھے مگر ان کی اپنی حدود و قیود تھیں۔ ہم طاقت کے متبادل ادارے قائم نہ کر سکے۔

نتیجہ یہ نکلا کہ ریاست نے ایوب سے استعفیٰ لیا اور انتخابات کا اعلان کر دیا۔ ان انتخابات میں دو بڑی جماعتیں سامنے آئیں۔ ایک تو تھی بھٹو کی پیپلز پارٹی۔ دوسری شیخ مجیب کی عوامی لیگ جو علاقائی خود مختاری کے لئے چھ نکات کی بات کر رہی تھی۔

ماؤ وادیوں نے مشرقی پاکستان میں تحریک کا ساتھ دیا نہ مغربی پاکستان میں۔ میں نے مولانا بھاشانی سے پوچھا کہ انہوں نے تحریک کا ساتھ کیوں نہیں دیا۔ وہ بنگال میں مجھے کسانوں کے جلسوں میں لے کر جاتے تھے۔ میں نے ان سے کہا کہ ان کی تحریک سے علیحدگی کی وجہ سے مشرقی پاکستان میں شیخ مجیب کو مشرقی پاکستان میں مکمل غلبہ حاصل ہو گیا ہے۔

مولانا بھاشانی کا کہنا تھا کہ دورہ چین کے دوران ان کی چو این لائی سے ملاقات ہوئی تھی اور چو این لائی نے یقین دلایا تھا کہ چین پاکستان کی مدد کرے گا کیونکہ پاکستان ایک سامراج مخالف ملک ہے اور یہ کہ چین کھل کر ایوب خان کی حمایت کرے گا۔

میں نے مولانا سے کہا یہ تو سراسر غلط دعویٰ ہے، کم از کم آپ تو جانتے ہیں کہ یہ ملک بالخصوص ایوب آمریت تو امریکہ کی جیب میں ہے۔ پاکستان اور چین کی دوستی بھارت کے حوالے سے اپنے اپنے مفادات پر مبنی دوستی ہے۔ میں نے مولانا بھاشانی سے کہا کہ انہیں چین کی بات نہیں ماننی چاہئے تھی۔

مغربی پاکستان میں بھی یہی صورت حال تھی۔ سی آر اسلم وغیرہ کی قیادت میں نیشنل عوامی پارٹی کا ماؤ نواز دھڑا اسی لائن پر چل رہا تھا۔ انہوں نے تحریک کی حمایت نہیں کی اس لئے بایاں بازو اس تحریک میں خال خال ہی نظر آیا۔ اسی وجہ سے پی پی پی مقبول ہو گئی۔ بائیں بازو کے طلبہ بڑی تعداد میں بھٹو کے ساتھ شامل ہو گئے۔ مجھے یاد ہے بھٹو جے اے رحیم کے ساتھ لندن آئے اور مجھے ملے۔ میں ان سے ملنے گیا تو انہوں نے جے اے رحیم کا لکھا ہوا پارٹی کا منشور مجھے پڑھنے کے لئے دیا۔ میں نے منشور پڑھ لیا تو انہوں نے مجھے پارٹی کا بنیادی رکن بننے کی دعوت دی۔

میں نے شستہ انداز میں یہ کہہ کر انکار کر دیا کہ یہ منشور میرا منشور نہیں کیونکہ میں ایک انقلابی سوشلسٹ ہوں۔ میں نے ان سے کہا کہ وہ پارٹی منشور میں مذہب کو شامل کر کے غلطی کر رہے ہیں جبکہ نیشنل عوامی پارٹی نے مذہب کو سیاست سے علیحدہ رکھ کر ثابت کیا ہے کہ نہ صرف ایسا ہونا چاہئے بلکہ ایسا ہو بھی سکتا ہے۔ میں نے بھٹو سے کہا کہ آپ ایک ایسی لڑائی شروع کر رہے ہیں جو ہم کبھی بھی نہیں جیت سکتے۔

بھٹو نے اس تحریک میں ایک کلیدی کردار ادا کیا تھا۔ وہ سڑکوں پر موجود تھے، تقریریں کر رہے تھے، جیل بھی گئے۔ ان کو معلوم تھا کہ جیل کے اندر ان کی گفتگو ریکارڈ کی جا رہی ہے۔ انہوں نے الٹا اس کا فائدہ اٹھایا۔ جب ان کے وکیل محمود قصوری ان سے ملنے جاتے تو بھٹو جان بوجھ کر نعرے بازی کرتے۔ انہیں پتہ تھا ان کی گفتگو ریکارڈ ہو رہی ہے۔

ایسی ہی ایک ملاقات میں انہوں نے جنرل موسیٰ کو مغربی پاکستان کا گورنر لگانے پر شدید تنقید کی۔ بھٹو نے کہا کہ جب میں حکومت میں آؤں گا میں جنرل موسیٰ کو غرارہ پہنا کر گلیوں میں ناچ کرواں گا۔ ایسی باتوں کی وجہ سے بھی بھٹو کی مقبولیت بڑھی۔ آغاز میں پی پی پی کی ساری بنیاد ترقی پسند طلبہ تھے۔