اداریہ

عزیز ہم وطنو! پاکستان میں اکیڈیمک مارشل لا نافذ کیا جا رہا ہے

اداریہ جدوجہد

ایف سی کالج یونیورسٹی لاہور ایک ہفتے کے دوران دوسری مرتبہ، غلط وجوہات کی بنا پر، خبروں میں ہے۔ گذشتہ ہفتے یہ خبر سامنے آئی کہ پروفیسر پرویز ہود بھائی کو نوکری سے برطرف کردیا گیا ہے (گو تکنیکی طور پر انہیں ایک سال کا کنٹریکٹ دیاگیا ہے جو 2021ء میں ختم ہو گا لیکن پاکستانی یونیورسٹیوں میں جو رجحان ہے اس کے مطابق اس طرح کے کنٹریکٹ کا مطلب یہی ہوتا ہے کہ متعلقہ اکیڈیمک کو نوکری سے بر طرف کیا جا رہا ہے)۔

دو دن قبل ڈاکٹر عمار علی جان نے ایف سی کالج سے اپنی علیحدگی کا اعلان کیا۔ جس طریقے سے پروفیسر پرویز ہود بھائی کو نوکری سے برطرف کردیا گیا ہے لگ بھگ اسی طریقے سے عمار علی جان کو بھی برطرف کر دیا گیا ہے۔

17 جون کو پروفیسر پرویز ہود بھائی کی برطرفی پر ادارہ جدوجہد نے جو اداریہ شائع کیا تھا اسے ہو بہو نام کی تبدیلی کے ساتھ ڈاکٹر عمار علی جان کے لئے بھی شائع کیا جا سکتا ہے مگر مندجہ ذیل اضافوں کے ساتھ:

اول: یہ بات طے ہے کہ پروفیسر پرویز ہود بھائی اورڈاکٹر عمار علی جان کی ایف سی کالج سے تکنیکی برطرفی ایک خاص پیٹرن کی جانب اشارہ ہے۔ اس سے قبل، عین اس انداز میں گورنمنٹ کالج یونیورسٹی سے ضیغم عباس کو برطرف کیا گیا تھا۔ اس پیٹرن کا مطلب ہے کہ پاکستان میں اکیڈیمک مارشل لا نافذ کیا جا رہا ہے۔

دوم: پروفیسر پرویز ہود بھائی اور ڈاکٹر عمار علی جان کو ایک بار نہیں مسلسل اس صورتحال کا سامنا ہے۔ 2012ء میں پروفیسر پرویز ہود بھائی کو لاہور یونیورسٹی آف مینجمنٹ سائنسز (لمز) نے لگ بھگ اسی انداز میں بر طرف کیا تھا۔ ڈاکٹر عمار علی جان پچھلے تقریباً چار سال میں تیسری دفعہ برطرف کئے گئے ہیں۔ اس سے قبل انہیں گورنمنٹ کالج یونیورسٹی لاہور اور پنجاب یونیورسٹی سے برطرف کیا گیا۔ گویا تنقیدی نقطہ نظر کی اجازت کسی یونیورسٹی میں نہیں۔

سوم: یہ بات بھی کوئی زیادہ پرانی نہیں کہ گورنمنٹ کالج یونیورسٹی لاہور کے ہی عامر اقبال کو اپنی ہی یونیورسٹی میں بدترین مالی بد عنوانیاں سامنے لانے پر ملک ہی چھوڑنا پڑ گیا۔ اسی طرح خیر پور یونیورسٹی کے پروفیسر ساجد بھی چند دن قبل توہین مذہب کے الزام میں گرفتار ہوئے جبکہ ڈاکٹر عرفانہ ملاح کے خلاف توہین مذہب کی باقاعدہ مہم چلائی گئی۔ گویا صرف ریاست نہیں، یونیورسٹیوں میں بیٹھے بد عنوان بیوروکریٹ، ملاں حضرات اور اسٹیبلشمنٹ اس نقطے پر ایک ہی پیج پر ہیں۔

مندرجہ بالا تمام اکیڈیمکس کا جرم صرف یہ ہے کہ یہ لوگ اپنی اکیڈیمک ذمہ داریوں کے ساتھ ساتھ بطور شہری، اپنی سماجی ذمہ داری بھی ادا کر رہے تھے۔ اکیڈیمکس جو کل وقتی دانشور کے طور پر کام کرتے ہیں اور عموماً معاشرے کی مراعات یافتہ پرت سے تعلق رکھتے ہیں، عموماً سماجی ذمہ داریوں سے کتراتے ہیں۔ ان کی اکثریت بہ زبانِ انگریزی کیرئیر اسٹ افراد پر مشتمل ہوتی ہے۔ اکیڈیمکس حکمران طبقے کی کاسہ لیسی کرتے تو نظر آتے ہیں مگر حکمران طبقے سے کم ہی ٹکر لیتے ہیں۔ پاکستان جیسے ملک میں اگر اکیڈیمکس بطور پبلک دانشور ترقی پسندانہ کردار ادا کرتے نظر آئیں تو یہ اور بھی مشکل کام تصور کیا جاتا ہے۔ ایسے میں مندرجہ بالا اکیڈیمکس ہماری عزت و احترام کا اور بھی زیادہ تقاضا کرتے ہیں کیونکہ یہ ہمیشہ محکوم طبقوں کے ساتھ کھڑے نظر آتے ہیں۔

ایسے اکیڈیمکس کی اکیڈیمک آزادیوں کا تحفظ متعلقہ یونیورسٹی، سول سوسائٹی اور ریاست کا فرض ہوتا ہے۔ ہم ان سے اختلاف تو کر سکتے ہیں مگر ان کو خاموش نہیں کر سکتے کیونکہ عمومی طور پر یہ متعلقہ یونیورسٹی، معاشرے اور ریاست کا اپنا ہی نقصان ہے۔

بد قسمتی سے یہ نقصان زیادہ تر محکوم طبقوں کا ہوتا ہے۔ پرویز ہود بھائی ہوں یا عمار علی جان…وہ ایسی یونیورسٹیوں میں پڑھاتے رہے جہاں محنت کش یا متوسط طبقے کے طالب علم آتے ہیں۔ امیر گھروں سے تعلق رکھنے والے تو یہاں پرائیویٹ جامعات میں بعد ازاں بیرون ملک جا کر پڑھتے ہیں۔

یوں یہ برطرفیاں صرف اکیڈیمک آزادیوں پر حملہ نہیں۔ یہ پورے معاشرے کو پیچھے دھکیلنے کے مترادف ہے۔ عمران خان حکومت میں اکیڈیمکس کے ساتھ جو ہو رہا ہے، ایسا اس سے قبل ضیا آمریت کے دور میں ہوا تھا جب پنجاب یونیورسٹی اور قائد اعظم یونیورسٹی سے اساتذہ کو سیاسی بنیادوں پربر طرف کیا گیا تھا (قائد اعظم یونیورسٹی کے جمیل عمر تو زبردست تشدد کا شکار بھی بنائے گئے)۔ بد قسمتی سے دو سال قبل ہم اس ملک میں پروفیسر حسن ظفر عارف کا سیاسی بنیادوں پر قتل بھی دیکھ چکے ہیں۔

اگر ملکی یونیورسٹیوں میں ضیا آمریت کی طرز پر مارشل لا لگایا جائے گا تو ان دانش گاہوں سے محقق، دانشور، شاعر، فنکار، سائنس دان اور اکیڈیمکس پیدا نہیں ہوں گے۔ جامعات مدرسے بن جائیں گی۔ جہاں سے خود کش بمبار تو نکلیں گے…ڈاکٹر عبدالسلام نہیں۔