خبریں/تبصرے

ٹرمپ کی مداخلت پر احتجاج: وائس آف امریکہ کی ڈائریکٹر مستعفی

قیصر عباس

لاہور (جدوجہد رپورٹ) واشنگٹن ڈی سی میں ایک سرکاری ادارے میں چار بیرونی نشریات کے ڈائریکٹرز کو ملازمت سے فارغ کردیا گیا ہے جس کے احتجاج میں وائس آف امریکہ کی ڈائریکٹرنے بھی اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا ہے۔

اطلاعات کے مطابق فیڈریل ادارے یو ایس ایجنسی فار گلوبل میڈیا (USAGM) کے نئے سربراہ مائیکل پیک نے اپنا عہدہ سنبھالتے ہی ان چار محکموں کے ڈائریکٹرز کی ملازمت ختم کرنے کا اعلان کردیا جو یورپ، لاطینی امریکہ، ایشیا اور مشرقِ وسطیٰ کی نشریات کے ذمہ دار تھے۔ مائیکل کو صدر ٹرمپ نے حال ہی میں ادارے کا سربراہ مقرر کیاتھا۔

جن نشریاتی اداروں کے سربراہوں کی ملازمتیں ختم کی گئی ہیں ان میں کیوبا براڈکاسٹنگ جس کے تحت ریڈیو اور ٹی وی مارٹی کام کرتے ہیں، ریڈیو فری یورپ، ریڈیو لبرٹی، ریڈیو فری ایشیا اور مڈل ایسٹ براڈکاسٹنگ نیٹ ورک شامل ہیں۔ ان اقدامات کے فوراً بعد ہی وائس آف امریکہ کی ڈائریکٹر امینڈا بینٹ اور ڈپٹی ڈائریکٹر سینڈی سگاوارہ نے بھی اپنے عہدوں سے استعفیٰ دے دیا جنہیں صدر ابامہ کے دور میں تعینات کیا گیا تھا۔

گزشتہ دنوں ہی صدر ٹرمپ نے وائس آف امریکہ پر ملک کے خلاف پروگرام نشر کرنے کا الزام لگاتے ہوئے کہا تھا کہ ادارہ چین اور ایران کے حق میں ”پروپیگنڈہ“ کررہا ہے اور اس کی کرونا وائریس کی کوریج سے مطمئن نہیں ہیں۔

دارالحکومت میں ان اقدامات کو صدر ٹرمپ کی ان کوششوں کا حصہ قرار دیا جارہاہے جن کے ذریعے وہ اپنی گرفت بیرونی نشریات کے سرکاری اداروں پر سخت کرنا چاہتے ہیں اگرچہ ادارے کے چارٹر کے تحت انتظامیہ نشریاتی ایجنسیوں کی صحافتی سرگرمیوں میں دخل دینے کی مجاز نہیں ہے۔

ادھر واشنگٹن میں نیشنل پریس کلب کی جانب سے جاری کی گئی ایک پریس ریلیز میں ان اقدام کی مذمت کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ ”یہ ادارہ امریکی پروپیگنڈے کے لئے قائم نہیں کیا گیا تھا مگر اب اسے اس مقصد کے لئے استعمال کئے جانے کے امکانات بڑھ گئے ہیں اور ان اقدامات کے بعد آزادی اظہار، اس کے صحافیوں کے تحفظ اور دنیا میں اس کی ساکھ کو شدید خطرات لاحق ہو گئے ہیں“۔

کانگریس میں ڈیموکریٹک پارٹی کے کئی ارکان اوربین الاقوامی کمیٹیوں کے سربراہوں نے بھی ان نئی تبدیلیوں پر اپنے تحفظات کا اظہار کیاہے اور ادارے پرسخت تنقید کی ہے۔

’USAGM‘ ایک آزاد سرکاری ادارے کی حیثیت سے کام کرتاہے جس کے چارٹر کے مطابق اس کی بین لاقوامی صحافیانہ سرگرمیوں پرکسی قسم کی مداخلت کسی بھی جانب سے نہیں کی جاسکتی۔ ادارے کے تحت پانچ نشریاتی محکمے دنیا کی مختلف زبانوں میں ریڈیو، ٹی وی اور انٹرنیٹ کے ذریعے حالات حاضرہ پر امریکی نقطہ نظر پیش کرتے ہیں جن میں سب سے نمایاں وائس آف امریکہ ہے۔

Qaisar Abbas

ڈاکٹر قیصرعباس روزنامہ جدوجہد کی مجلس ادارت کے رکن ہیں۔ وہ پنجاب یونیورسٹی  سے ایم اے صحافت کے بعد  پاکستان میں پی ٹی وی کے نیوزپروڈیوسر رہے۔ جنرل ضیا کے دور میں امریکہ آ ئے اور پی ایچ ڈی کی۔ کئی یونیورسٹیوں میں پروفیسر، اسسٹنٹ ڈین اور ڈائریکٹر کی حیثیت سے کام کرچکے ہیں۔ آج کل سدرن میتھوڈسٹ یونیورسٹی میں ایمبری ہیومن رائٹس پروگرام کے ایڈوائزر ہیں۔