تاریخ

اسامہ کی موت نہیں سیاسی انجام سے سبق سیکھنے کی ضرورت ہے

فاروق سلہریا

اسامہ بن لادن کا نام عالمی سطح پر تو گیارہ ستمبر کے بعد جانا پہچانا گیا مگر بطور مدیر ہفت روزہ ’مزدور جدوجہد‘ مجھے اور میرے ساتھیوں کو اسامہ بن لادن سے بلا واسطہ پالا 1998ء میں پڑا۔

ہوا یوں کہ امریکہ نے افغانستان میں قائم اسامہ بن لادن کے ٹرینگ کیمپس پر میزائل فائر کئے۔ ہم نے ’مزدور جدوجہد‘کے سر ورق پر طالبان اور القاعدہ کے بارے میں ایک کارٹون شائع کیا اور اندرونی صفحات میں ایک تفصیلی رپورٹ اور تجزیہ۔ ہمارا تجزیہ یہ تھا (جو گیارہ ستمبر کی صورت درست ثابت ہوا) کہ طالبان اور القاعدہ پورے خطے کے امن کو تباہ کر دیں گے۔

چند دن بعد ایک نام نہاد اسامہ گروپ نے ٹیلی فون پر ہمیں خوفناک دھمکیاں دیں۔ ہم کچھ دن تک ڈرتے سہمے ’مزدور جدوجہد‘ کے دفتر جاتے، مگر جاتے ضرور رہے۔ کچھ دن کے بعد ہم سب کچھ بھول بھال گئے۔

پھر گیارہ ستمبر کا واقعہ ہو گیا۔ کچھ دن باقی مسلم دنیا کی طرح پاکستان میں بھی اسامہ بن لادن ایک ہیرو تھا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ ایک طرف اکثریت (آج تک) گیارہ ستمبر کو ایک سازش قرار دے رہی تھی (کوئی کہتا یہ حملہ امریکہ نے خود کرایا ہے، کوئی کہتا اسرئیل نے یہ حملہ کرایا) مگر ساتھ ہی ساتھ اسامہ بن لادن کو ہیرو بھی قرار دیا جا رہا تھا۔

پاکستان کا مختصر سا بایاں بازو انتہائی تنہائی کا شکار تھا۔ بطور بایاں بازوہم ایک طرف افغانستان پر امریکی قبضے کے بھی خلاف تھے اور دوسری طرف القاعدہ اور طالبان کے بھی۔ ہمارا موقف تھا کہ دہشت گردی سے امریکہ کو شکست نہیں دی جا سکتی۔ ہم یہ بھی کہہ رہے تھے کہ اسامہ بن لادن اور القاعدہ کے ساتھ سامراج جلد ہی نپٹ لے گا اور اصل نقصان مسلمان اکثریتی ملکوں میں محنت کش عوام کا ہو گا، یہی ہوا۔

سب سے پہلے تو القاعدہ کی سیاست کا اثر مغرب میں رہنے والی مسلمان کمیونیٹیز پر پڑا۔ پھر افغانستان اور عراق پر قبضہ ہوا۔ افغانستان پر قبضے کا خمیازہ پاکستان کے عوام نے بھی بھگتا۔ اب تک بھگت رہے ہیں۔

مغرب میں بھی شہری آزادیوں پر’وار آن ٹیرر‘ کے نام پر حملے کئے گئے۔ دراصل ہمیشہ یہ ہوتا ہے کہ دہشت گردی کے کامیاب واقعات حکمران طبقے کو وقتی طور پر پریشان کرتے ہیں اور پھر حکمران طبقہ، سنبھل جاتا ہے اور سنبھلتے ہی جوابی وار کرتا ہے۔

گیارہ ستمبر کے بعد میڈرڈ اور لندن میں بم دھماکے ہوئے۔ ادھر آئے روز اسامہ کی تقریر الجزیرہ چینل سے نشر ہوتی۔ بلاشبہ پوری مسلم دنیا میں مذہبی رجحان رکھنے والے یا دائیں بازو کی سوچ رکھنے والے لوگوں کی اکثریت اسامہ کو ہیرو کے طور پر دیکھ رہی تھی۔ یہ سلسلہ کچھ سال چلتا رہا۔

2011ء میں جب عرب دنیا میں عرب بہار نے قدم رکھا تو القاعدہ غیر متعلق سی ہو گئی۔ دریں اثنا، مغربی ممالک نے بھی سکیورٹی اتنی سخت کر لی کہ گیارہ ستمبر جیسا واقعہ دوبارہ نہیں ہو سکا۔

پاکستان میں بھی جوں جوں دہشت گردی کے واقعات بڑھنے لگے، القاعدہ اور طالبان بارے لوگوں کی خوش فہمیاں ختم ہونے لگیں حالانکہ ایک وقت تھا کہ ٹیلی ویژن چینلوں پر یہ پراپیگنڈہ کر تے تھے کہ پاکستانی فوج کے ہاتھوں ہلاک ہونے والے طالبان کی قبروں سے خوشبو آتی ہے (حامد میر نے تو مولویوں والا بھیس بنا کر ایک لائیو شو بھی کیا تا کہ ثابت کیا جا سکے کہ طالبان کی قبریں معطر ہیں)۔

پھر یکم مئی 2011ء کی رات کو ایبٹ آباد آپریشن ہوا جس نے نہ صرف عالمی سطح پر پاکستان کو مذاق بنا کر رکھ دیا بلکہ ملک میں ایک بہت بڑا سیاسی طوفان برپا ہوا۔ ساتھ ہی ساتھ اسامہ بن لادن کا ہوّا بھی ختم ہوا گو میڈیا نے بے شمار سازشی تھیوریاں پیش کیں، لشکر ِطیبہ نے غائبانہ نماز جنازہ کرائے، جماعتِ اسلامی نے بھی بہت اٹھک بیٹھک کی تاکہ اسامہ کو ایک لیجنڈ بنا یا جا سکے مگر ایسا نہیں ہوا۔

دو دن قبل جب عمران خان نے اسامہ کو شہید قرار دیا تو احتجاج کا ایک سیلاب ابل پڑا۔ یہ اس بات کی دلیل ہے کہ سوچ بدل چکی ہے۔ ہم نے تب بھی کہا تھا، اب پھر کہتے ہیں: جب اکیسویں صدی کی تاریخ لکھی جائے گی، اسامہ بن لادن شائد ایک فُٹ نوٹ بھی نہ بن پائے کیونکہ نہ تو تاریخ کا خاتمہ ہوا ہے نہ ہی کوئی تہذیبوں کا تصادم ہو رہا تھا۔ اصل لڑائی طبقاتی اور انقلابی ہے۔ اس لڑائی میں القاعدہ اور سامراج ایک دوسرے کے اتحادی تھے اور جب مسلم دنیا میں طبقاتی لڑائی تیز ہو گی تو یقین کیجئے پوری مسلم دنیا کے اسامے اور القاعدے چچا سام کی گود میں بیٹھے ہوں گے۔

Farooq Sulehria

فاروق سلہریا روزنامہ جدوجہد کے شریک مدیر ہیں۔ گذشتہ پچیس سال سے شعبہ صحافت سے وابستہ ہیں۔ ماضی میں روزنامہ دی نیوز، دی نیشن، دی فرنٹئیر پوسٹ اور روزنامہ پاکستان میں کام کرنے کے علاوہ ہفت روزہ مزدور جدوجہد اور ویو پوائنٹ (آن لائن) کے مدیر بھی رہ چکے ہیں۔ اس وقت وہ بیکن ہاوس نیشنل یونیورسٹی میں اسسٹنٹ پروفیسر کے طور پر درس و تدریس سے وابستہ ہیں۔