فن و ثقافت

انڈیا میں ترقی پسند تھیٹر اور سماجی شعور: ڈرامہ نگار دیوندر دمن سے گفتگو

قیصر عباس

اگر آپ نے خشونت سنگھ کی فلم ”ٹرین ٹو پاکستان“، انگریزی فلم ”جنوری“یا ہندی فلم”جگنی“ دیکھی ہے تو آپ دیوندر دمن سے ضرور واقف ہوں گے جنہوں نے ان فلموں میں اداکاری کے جوہر دکھائے ہیں لیکن یہ ان کی اصل پہچان ہرگز نہیں۔

ان کا نام ہندوستانی تھیٹر کے معروف اداکار، ہدایت کار اور ڈرامہ نویس کے طورپرپہچانا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ جب بھی انڈیا میں پنجابی تھیٹرکی بات ہوتی ہے تو وہ دیوندر دمن کے ذکر کے بغیر نامکمل سمجھی جاتی ہے۔

ایک ترقی پسند ڈرامہ نویس کی حیثیت سے دیوندر کی گہری نظر ہمیشہ معاشرے کے چبھتے ہوئے مسائل پر ہوتی ہے اور ان کے عنوانات کا دائرہ سیاست اور سماجی مسائل سے لے کر تاریخ اور طبقاتی تفریق کے تجزئے تک پھیلا ہواہے۔ وہ ہمیشہ اپنے ڈراموں میں جاگیردارانہ ظلم، طبقاتی استحصال اور جنسی تضادات کو اپنی تخلیقی صلاحیتوں کے ساتھ بڑی خوبصورتی سے بیان کرتے ہیں۔ ویسے تو ان کے ڈراموں کے موضوعا ت یونیورسل ہوتے ہیں لیکن ایک پنجابی سکھ ہونے کے ناطے وہ اپنی ثقافت اور تاریخ کو اپنی انفرادی لیکن معتبر نگاہوں سے دیکھتے ہیں۔

ان کی زندگی پر ایک ڈاکومنٹری ”ہالے وی تتر بولدا“ (تیتر اب بھی بولتا ہے ) بھی بنی ہے۔

دیوندر کا قیام چندی گڑھ کے قریب ایک شہر ماہولی میں ہے جہاں وہ ایک ڈرامہ پروڈکشن کمپنی ” نورا رچرڈز رنگ منچ“ بھی چلارہے ہیں، لیکن وہ پنجابی ٹی وی چینلوں کی ڈرامہ نگاری کے لئے اکثرامریکہ بھی آتے رہتے ہیں۔ میری ملاقات ان سے 2013ءمیں ٹیکساس کی ایک یونیورسٹی میں ہوئی جہاں میں اس زمانے میں یونیورسٹی کی انتظامیہ کا حصہ تھا۔ پھر ڈیلس میں انہوں نے میری دعوت پر ساوتھ ایشیا ڈیموکریسی واچ کے ایک سیمینا ر میں تھیٹر اور جمہوریت کے عنوان پر ایک یادگار مقالہ بھی پڑھا۔

اسٹیج، اسٹریٹ تھیٹر اور ٹی وی کے لئے انہوں نے گزشہ پچاس سالوں کے دوران تقریباً پچاس سے زیادہ ڈرامے دیہی، شہری اور بین الاقوامی ناظرین کے لئے لکھے ہیں جنہیں انڈیا، امریکہ، کینیڈا اور تھائی لینڈ میں اسٹیج کیا گیا ہے۔ حال ہی میں ان کے ڈراموں پر مشتمل ایک کتاب شائع ہو چکی ہے اور پنجابی اکیڈمی، نیو دہلی کی شائع کردہ ہندوستان کے نامور ڈرامہ نگاروں کی نگارشات میں ان کے ڈرامے ”قطرہ قطرہ زندگی“ کا انگریزی ترجمہ بھی شامل کیا گیا ہے۔ ان کی ادارت میں بھگت سنگھ کی زندگی پر مبنی ڈراموں کایک مجموعہ بھی شائع ہو چکا ہے۔ ان کے مشہور ڈراموں میں’قطرہ قطرہ زندگی‘، ’سورج کا قتل‘، ’تپش‘ اور’کالا لہو‘ شامل ہیں جن میں سے کچھ حکومتِ وقت کے ہاتھوں پابندیوں کا نشانہ بھی بن چکے ہیں۔

دیوندر اسٹیج اداکاری کے علا وہ پنجابی اور بالی وڈ کی کئی فلموں میں بھی اداکاری کے جوہر دکھاچکے ہیں جن میں جوش جوانی دا، باغی، میلہ، جی آیاں نوں، ہیر رانجھا اور دیگربہت سی فلمیں شامل ہیں۔ وہ امیریکن سکرین رائٹر ز ایسوسی ایشن کے پہلے ایشیائی ممبر ہیں اور  پردیسن، ونڈڈ پیشن (Wounded Passion) ہوز کنٹری از دس (Whose Country is This?) او ر جنوری جیسی پنجابی اور انگریزی فلموں کے اسکرپٹ رائٹر یا معاون بھی رہ چکے ہیں۔

روزنامہ جدوجہد کے لئے اس خصوصی انٹرویو میں دیوندر دمن نے پاپولر ڈرامہ، اسٹریٹ تھیٹر اور اس کے سماجی و نظریاتی پہلووں پر دانشورانہ گفتگوکی ہے۔

آپ کی پرورش انڈین پنجاب کے خالص دیہاتی ما حول میں ہوئی جہاں اسٹیج ڈرامہ اور ادب زندگی کا حصہ نہیں ہوتے۔ اس ماحول میں آپ کس طرح ڈرامہ نویسی اور اداکاری کی طرف راغب ہوئے؟

مجھے بچپن ہی سے اداکاری کا شوق تھا۔ میں گاوں میں آنے والے نو ٹنکی کے کھیل دیکھنے ضرور جاتا تھا جن میں رام، لکشمن اور ہنومان میرے پسندیدہ کردار تھے۔ اس دور میں شادی بیاہ کے موقع پربراتی اپنے ساتھ بھانڈ، نقلئے اور مراسیوں کو ضرور لاتے تھے جو ہیر رانجھا، سوہنی مہینوال، راجہ رسالو اور دوسرے ڈرامے کھیلتے تھے۔ تیسرا یہ کہ میرے ہائی اسکول کے ہاسٹل میں میری ملاقات چودھری جیکشن سے ہوئی جو ہرسال بمبئی سے ناٹک کی ٹولیاں اسکول منگواتے تھے۔ یہ کمپنیاں پارسی تھیں اور ان کے ڈرامے خاصے معیاری ہوتے تھے کیوںکہ ان کے پروڈیوسراور ہدایت کار ولائت سے ٹریننگ لے کر آتے تھے۔ ان ہی ڈراموں نے مجھے تھیٹر کی راہ دکھائی اور میں نے اسکول میں چھوٹے چھوٹے ناٹکوں میں حصہ لینا شروع کردیا۔ اس کے علاہ ہمارے گاوں میں کمیونسٹ ڈرامہ گروپس بھی آتے اور میں اکثر ان کے ڈراموں میں ہاری کے بیٹے کا کردار اداکرتا تھا۔ ان ہی ناٹکوں نے مجھے ترقی پسند نظریات کا دلدادہ بنا دیا۔ اس دور میں سماجی مسائل سے آگاہی تو ان ڈراموں میں دی جاتی تھی لیکن انقلابی سوچ بہت کم تھی۔ اس لئے میں نے سوچا کہ اپنا الگ تھیٹر بنایا جائے جہاں ترقی پسند نظریات پر مبنی کہانیاں پیش کی جائیں۔ یہی وہ پس منظر تھا جس نے مجھے ڈرامہ نویسی اور اداکاری کی جانب راغب کیا۔

آپ اسٹریٹ تھیٹر اور پاپولر تھیٹر میں ان کے ناظرین اور عنوانات کے لحاظ سے کیا فرق محسوس کرتے ہیں؟

میرے خیال میں اسٹیج یا پاپولر تھیٹر کا مقصد انٹرٹینمنٹ ہے جب کہ اسٹریٹ تھیٹر سماج، تاریخ اور موجودہ مسائل سے لوگوں کی آگاہی اور شعور کوبیدار کرتاہے۔ میں یہ نہیں کہتا کہ اسٹیج تھیٹر سماجی مسائل کی بیداری کاکام نہیں کرسکتا لیکن اکثر اوقات اس کامقصد لوگوں کو تفریح فراہم کرنا ہی ہوتاہے۔

ایک اور فرق یہ ہے کہ اسٹیج تھیٹر میں لوگ ڈرامہ دیکھنے آتے ہیں لیکن اسٹریٹ تھیٹر خود لوگوں کی طرف جاتاہے۔ دوسری جانب گلیوں کا ڈرامہ بھی خوبصورت ہو سکتاہے لیکن وہ زندگی کے حقائق کی نمائندگی کرتا ہے تو پھر یہ تفریح نہیں پیغام کی ترسیل کا ایک ذریعہ بن جاتا ہے۔ اسٹیج یا پاپولر تھیٹر اگر سچ بولنے کی کوشش کرے اور پھر برسر اقتدار جماعت اس پر پابندیاں عائد کردے تو یہ وہیں ٹھس ہوکر بیٹھ جائے گا۔ تاریخ گواہ ہے کہ اسٹریٹ تھیٹر ہاتھ پیر چھوڑ کر بیٹھ نہیں جاتا کیونکہ وہ آرام دہ کرسیوں، جھل مل کرتی روشنیوں اور خوبصورت لباس کا محتاج نہیں ہوتا۔ یہ اسٹریٹ تھیٹر ہی ہے جو لوگوں کو گھسی پٹی سوچ سے باہر نکال کر زندگی سے قریب کرتاہے۔

ہندوستان میں اسٹریٹ تھیٹر کی روائت بہت پرانی ہے۔ ترقی پسند تحریک میں اس فن نے کس طرح غربت، مزدور اور طبقاتی تفریق جیسے عوامی مسائل کو اجاگر کیا؟ کیا آج کا عوامی تھیٹر اقلیتوں کے مسائل اور ان کے استحصال کی بات بھی کرتاہے؟

جی ہاں، ہندوستان میں 1941ءسے پہلے ہی اسٹریٹ تھیٹر جسے ” تھڑا تھیٹر“ بھی کہا جاتا ہے شروع ہو گیا تھا۔ ا سٹریٹ تھیٹرمیں آزادی اور حقوق کی بات شروع ہوچکی تھی۔ انگریزی سرکار نے کئی جگہ ان ڈراموں پر پابندی بھی لگائی اور گرفتاریاں بھی ہوئیں۔ لاہور کے نیشنل کالج آف آرٹس میں ناٹک گروپ پر پابندی لگائی گئی جس کا سرکردہ بھگت سنگھ تھا۔

1943ءمیں اسٹریٹ تھیٹر نے پوری طرح آزادی کی تحریک کا ساتھ دیا۔ 1946ءمیں حیدرآباد میں ا سٹریٹ تھیٹر نے کسانوں کی تحریک میں بہت بڑا کردار ادا کیا جس کے نتیجے میں انہوں نے چار ہزار دیہات میں بغاوت کردی اور تین ہزار جاگیرداروں کو بے دخل کردیا۔ آزادی کے بعد بھی ا سٹریٹ تھیٹر نے کسانوں اور مزدوروں میں شعور بیدار کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔

سن انیس سو ستاون اور اٹھاون میں کسانوں نے ٹیکس کی ادائیگی کے خلاف پنجاب میں جدوجہد کی جس میں اسٹریٹ تھیٹرکا ایک بڑا حصہ تھا۔ اداکاروں، لکھاریوں اور ہدایت کاروں کی بڑے پیمانے پر گرفتاریاں ہوئیں۔ ان تحریکوں میں لوگوں کو اپنی جان سے ہاتھ بھی دھونا پڑ ے اور تشدد کا سامنا بھی کرنا پڑا لیکن یہ فن آج بھی جاری ہے اور رہے گا۔

اب آئیے آپ کے سوال کے دوسرے حصے کی طرف۔ جہا ں تک اقلیتوں کا استحصال اور ان کے حقوق کا تعلق ہے تومیرے خیال میں آج سٹیج ڈرامہ انڈیا یا پاکستان میں اقلیتوں کے حقوق کی بات نہیں کرتا۔ انڈیا میں تو شاید تھوڑا بہت کچھ ہو، پاکستان میں تو یہ ہو ہی نہیں رہا۔

ہم آج کل بر صغیر میں میڈیا سنسرشپ کے بارے میں بہت کچھ سن رہے ہیں۔ کیا انڈیا اور پاکستان میں آزادی اظہار پر پابندیاں اب تھیٹر کی دنیا تک بھی آ چکی ہیں؟

آجکل حکومت کو ذرائع ابلاغ پر پابندیاں لگانے کی ضرورت ہی نہیں ہے۔ میڈیا پر کارپوریٹ لابی کا پوری طرح قبضہ ہے اور سرمایہ دار حکومت پر کسی طرح کی تنقید میڈیا پر آنے ہی نہیں دیتے اس طرح جمہوریت کا بھرم بھی قائم رہتاہے۔ ہاں سٹیج ڈرامے پر جب بھی حکومت کو اعتراض ہوتا ہے وہ اس پر پابندیاں لگانے کی کوشش کرتے ہیں۔ میرے کئی ڈراموں کو روکنے کی کوشش کی گئی۔

میرا ڈرامہ ’سورج کاقتل‘ 1975-76ء کی ایمرجنسی میں روک دیا گیا تھا حالانکہ یہ ایک تاریخی ڈرامہ تھا اور گرو تیغ بہادر صاحب کی زندگی پرلکھا گیا تھا۔ وجہ یہ تھی کہ اخبار انڈین ایکسپریس نے آج کے تھیٹر کو اورنگ زیب کے دور سے مماثلت دیتے ہوئے لکھا کہ حکومت آج بھی یہی کررہی ہے اور ڈراموں پر پابندیاں لگائی جارہی ہیں۔ اس تنقید کے بعد ڈرامے پر پابندی لگا دی گئی۔ دوسری بار میرا ڈرامہ’تپش‘ بھی زیر اعتاب آیا جو ملکی اور غیر ملکی خفیہ ایجنسیوں کی حرکتوں کو طشت ازبام کرتاہے۔

میرا تیسرا ڈرامہ بھگت سنگھ پر تھا جس پر پنجاب کی مزاحمتی تحریک کے دوران پابندیاں لگادی گئی۔ بھگت سنگھ کے جیل میں آخری دنوں پر مشتمل یہ ڈرامہ ان کے جنم دن کے موقع پر کھیلا جانا تھا جسے ایک ہریانہ یونیورسٹی کے وائس چانسلر نے بند کرنے کاحکم دیا۔ ڈرامے کے درمیان بجلی کاٹ دی گئی، پولیس بلائی گئی لیکن لوگوں نے اپنے سیل فون کی روشنی میں ڈرامہ دیکھا۔ یہ ڈرامہ اور بھی ملکوں میں کھیلاگیا۔ گزشتہ پچیس سالوں میں پاکستان میں بھی یہ ڈرامہ چار گروپ کھیل چکے ہیں۔ یہ وہی ڈرامہ ہے جسے شادمان چوک لاہور میں بار بار کھیلا گیا اور لوگوں نے پولیس کے ڈنڈے کھا کر اور تشدد کے باوجود چوک کا نام بھگت سنگھ چوک رکھنے پر مجبور کردیا تھا۔

آپ ایک عرصے سے ہندوستان میں تھیٹر اداکار، ہدایت کار اور مصنف کی حیثیت سے وابستہ اور سرگرم ہیں۔ کیا یہ خیال درست ہے کہ ٹی وی آنے کے بعد تھیٹڑ کی مقبولیت میں خواطر خواہ کمی آئی ہے؟ کیسے اور کیوں؟

آپ کے سوال کا جواب میں کچھ اس طرح دینا چاہوں گا کہ تھیٹر اس ملک کی قدیمی اور صف اول کی روائتوں میں شامل ہے۔ پہلے سنیما آیا، ٹی وی آیا اور اب سوشل اور الیکٹرانک میڈیا کا زور ہے لیکن تھیٹر جاری ہے اور جاری رہے گا۔ ہندوستان میں تھیٹرنہ صرف پہلے سے زیادہ ہورہا ہے بلکہ اس کی سرگرمیوں کے دائرے میں بھی بہت اضافہ ہوگیاہے۔

ڈرامے کے فن پر بڑے بڑے میلے ہورہے ہیں۔ چندی گڑھ میں ایک گروپ ہے جس کا نام ہے ” تھیٹرفار تھیٹر “جو ہر سال ناٹک میلہ منعقد کرتاہے جس میں ڈرامے نہ صرف پیش کئے جاتے بلکہ اس فن کے مختلف پہلووں پر سیمینار بھی ہوتے ہیں۔ اب تو کئی ٹی وی چینل بھی ڈراموں کو اسٹیج کی روایات کے ساتھ پیش کررہے ہیں۔ میرے خیال میں کوئی اور میڈیا کبھی تھیٹر کی جگہ نہیں لے سکتا ہاں شروع شروع میں لوگ نئے میڈیا کے سحر میں ضرور آتے ہیں مگر اسٹیج کے چاہنے والے اس کے بغیر نہیں رہ سکتے۔

آپ کے نزدیک پنجابی اور ہندی زبان کے تھیٹرکس طرح مختلف ہیں؟

ہندی تھیٹر کی ایک پرانی تاریخ ہے۔ ہندوستان کے تمام علاقوں میں ناٹک کی روایات کسی نہ کسی صورت موجود رہی ہیں۔ جدید ہندی تھیٹر کی پہچان 1868ء میں ہوچکی تھی لیکن پنجابی تھیٹر کے آغاز کاذکر 1914ء میں ایک آئرش خاتون نورا رچرڈ زکے حوالے سے کیاجاتا ہے جنہوں”سہاگ“ نامی ایک ڈرامہ پیش کیا تھا جسے ایشور چندر نندا نے لکھا تھا۔

اس لحاظ سے پنجابی تھیٹر اتنا پرانا نہیں ہے کیونکہ یہ علاقہ ہمیشہ باہر سے حملہ آور فوجوں کی شاہراہ اور لوٹ مار کا مرکزرہا۔ ایسے میں صرف جنگ و جدل کے علاوہ اور کون سا کلچر ابھرسکتاہے؟ اس طرح یہاں پنجابی ڈرامے کی روایات پروان تو نہ چڑھ سکیں ہاں بھانڈوں اور نقلچیوں نے کسی نہ کسی طرح اس فن کو پوشیدہ یا برسرعام قائم رکھا لیکن میں اتنا ضرور کہنا چاہوں گا کہ اگرچہ آج کا پنجابی تھیٹر ہندوستانی تھیٹر کے مقابلے میں نیا ہے لیکن یہ معیاری طورپر کسی بھی ہندوستانی زبان میں ہورہے تھیٹر سے کم نہیں ہے۔

آخر میں یہ بتا ئیں کہ آپ کے خیال میں انڈیا میں تھیٹر کا مستقبل کیا ہے؟

میرے خیال میں ہندوستان میں پاپولر اورا سٹریٹ تھیٹر کا مستقبل بہت شاندار ہے۔ یہ دونوں تھیٹر ساتھ ساتھ چلتے ہیں لیکن جب کبھی سماج میں گمبھیر مسائل سر ابھارتے ہیں تواسٹریٹ تھیٹر زیادہ سرگرم ہو جاتا ہے۔ تھیٹر کرنے والوں کا حال چاہے کیسا ہی رہے لیکن تھیٹر کا مستقبل ہمیشہ شاندار رہا ہے اور امید ہے کہ آئندہ بھی شاندار ہی رہے گا!

Qaisar Abbas

ڈاکٹر قیصرعباس روزنامہ جدوجہد کی مجلس ادارت کے رکن ہیں۔ وہ پنجاب یونیورسٹی  سے ایم اے صحافت کے بعد  پاکستان میں پی ٹی وی کے نیوزپروڈیوسر رہے۔ جنرل ضیا کے دور میں امریکہ آ ئے اور پی ایچ ڈی کی۔ کئی یونیورسٹیوں میں پروفیسر، اسسٹنٹ ڈین اور ڈائریکٹر کی حیثیت سے کام کرچکے ہیں۔ آج کل سدرن میتھوڈسٹ یونیورسٹی میں ایمبری ہیومن رائٹس پروگرام کے ایڈوائزر ہیں۔